آپ آف لائن ہیں
بدھ6؍ جمادی الثانی 1442ھ 20؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

باچا خان کے پیروکاروں کو دھمکیوں سے نہیں ڈرایا جا سکتا ، غلام بلور

پشاور( نمائندہ خصوصی ) اے این پی کے بزرگ سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر الحاج غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ باچا خان کے پیروکاروںاور اے این پی کے کارکنوں کے خلاف مقدمات انتقامی کارروائیوں دھمکیوں اور گرفتاریوں سے راستے نہیں روکا جا سکتا باچا خان کے پیروکاروں کو ملک کی فرنگ سامراج کی غلام سے آزاد کروانے ، ون یونٹ کے خاتمے اور صوبوں کے حقوق کے حصول کے لئے ہر آمر سے ٹکرانے ، قید و بند کی صوبتیں برداشت کرنے ، جانوں کی قربانیاں دینے اور خوفزدہ ہو کر یوٹرن نہ لینے اور عوام کے حقوق کی جنگ لڑنے کے لئے اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کا ااعزاز حاصل ہے ۔الحاج غلام احمد بلور نے اے این پی اکبر پورہ کے رہنما نذیر تبسم کی پرسرستی میں ان سے ملاقات کرنے والے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی کے دور حکومت میں بدترین دہشت گردی کے باوجود صوبے کے کونے کونے وچپے چپے میں تعلیم کی روشنی پھیلانے کے لئے 21 یونیورسٹیاں بنائی گئیں ۔ صوبوں میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا گیا امن کے لئے ایک ہزار سے زائد رہنمائوں ، ارکان اسمبلی اور کارکنوں کی قربانی دی گئی الحاج غلام احمد بلور نے کہا کہ خود ان پر کئی بار حملے ہوئے ان کے اکلوتے صاحبزادے شبیر احمد بلور ان کے بھائی صوبائی سینئر وزیر بشیر احمد بلور اور بھتیجے بیرسٹر ہارون احمد بلور شہید

ہوئے اپنے گھر سے تین جنازے اٹھانے کے باوجود وہ حوصلہ ہار تے عوام کا ساتھ چھوڑنےاور چھپنے و ڈرنے کی بجائے ڈٹ کر بہادری سے عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں اے این پی کی کوششوں سے صوبوں کو بااختیار بنانے کے لئے 18 ویں ترمیم کی منظوری دی گئی اور صوبے کو اس کی شناخت دینے کے لئے صوبے کو خیبر پختونخوا کا نام دیا گیا الحاج غلام احمد بلور نے کہا کہ اے این پی کے کارکنوں کی طرف سے جمعہ 4 دسمبر اور اتوار 6 دسمبر کو مہنگائی و بے روزگاری کے خلاف بھرپور احتجاج کے لئے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں دھاندلی سے مسلط ہونے والے حکمرانوں کے خلاف عوامی نفرت بڑھتی جارہی ہے حکمرانوں کے خلاف الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے انشاء اللہ اسلام آباد لانگ مارچ سے پہلے ہی حکمرانوں کا بوریا بستر لوگ ہو جائے گا۔

پشاور سے مزید