• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مطلوب انقلابی کی وفات، کشمیری فضا سوگوار

بولٹن کی ڈائری( ابرار حسین)
آزاد کشمیر کے مایہ ناز سیاستدان محمد مطلوب انقلابی کی وفات پر کشمیری فضا سوگوار ہے۔ محمد مطلوب انقلابی مرحوم ایک ایسی سیاسی شخصیت کا نام ہے جس کی وفات پر دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانی اور کشمیری سوگوار ہیں۔ لندن سے لے کر امریکہ تک اور وہاں سے مڈل ایسٹ تک جہاں جہاں بھی پاکستانی کشمیری کمیونٹی کے لوگ آباد ہیں جو وطن عزیز کی سیاسی، سماجی سرگرمیوں میں ملوث رہتے ہیں، قطع نظر ان کا تعلق کس سیاسی جماعت سے ہے، آج محمد مطلوب کی انقلابی سیاست کو سلام پیش کرتا دکھائی دیتا ہے۔ آزاد کشمیر کے ایک چھوٹے سے گائوں (جونا) میں پیدا ہونے والی اس شخصیت نے کس طرح عوام کے دلوں میں گھر کرلیا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب مرحوم کی عمر12سال تھی، اسکول کا زمانہ تھا، وہاں سے جب انہوں نے اپنے ایک قریبی گائوں براٹلہ کے کالج کی فضا میں قدم رکھا تو وہاں آزاد کشمیر کی ایک اور عظیم سیاسی شخصیت راجہ محمد اسلم مرحوم سابق ممبر اسمبلی آزاد کشمیر کی اس ابھرتے ہوئے نوجوان پر نظر پڑی اور انہوں نے اسے1990ء کے الیکشن کے دوران اپنی کنونسنگ کے لیے ساتھ رکھ لیا، ان کی دھواں دار تقریروں سے کوئی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا جب بھی کوئی ان سے ملتا تو وہ دوبارہ ان سے ملنے کی تمنا کرتا، اپنے لبوں پر مسکراہٹ سجائے ہر ایک کو اپنا گرویدہ بنالیتے تھے، ان ہی تقریروں سے متاثر ہوکر ان کے اپنے ہی گائوں میں شیخ قبیلہ کی ایک بزرگ شخصیت شیخ عبدالکریم نے ان کا نام انقلابی رکھ دیا۔ تب سے لے کر اپنے آخری دنوںتک وہ انقلابی ہمارے ہی رہے، جس پر راجہ محمد اسلم مرحوم نے کہا تھا کہ میرے بعد اگر کوئی میرا جانشین ہوگا تو وہ محمد مطلوب انقلابی ہوگا اور آخر وہ پیشگوئی سچ ثابت ہوئی۔ کھوٹی رٹہ کے اسٹیڈیم میں ان کی نماز جناہ میں ا نسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا جہاں کم و بیش ایک محتاط اندازے کے مطابق50ہزار کے قریب عوام جم غفیر تھا، جو اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ مرحوم نے بطور وزیر آزاد کشمیر میں حقیقی معنوں میں رواداری کی سیاست کو فروغ دیا۔یہاںبولٹن میں بھی مرحوم کے حلقہ انتخاب کے لوگ موجود ہیں اور برطانیہ کے کئی دیگرعلاقوں میں بھی ہیں چاہے کوئی پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتا ہے، پاکستان تحریک انصاف پاکستان مسلم لیگ ن یا مسلم کانفرنس سے سب کا اس امر پر اتفاق ہے بلکہ بولٹن میں موجود ان کے کلاس فیلو اور قریبی دوست راجہ افتخار احمد ایڈووکیٹ جنہوں نے سندھ مسلم لاء کالج کراچی سے ایل ایل بی کی ڈگری ایک ساتھ حاصل کی۔ ان کا کہنا ہے کہ محمد مطلوب انقلابی نے ایک نئی طرح کی سیاست کو فروغ دیا، جس سے اس خطے کے لوگ کم ہی آشنا تھے، انہوں نے نہ صرف ملازمتوں میں میرٹ کو ترجیح دی بلکہ آزاد کشمیر میں وزیر تعلیم کی حیثیت سے انہوں نے سرکاری لیکچرارز کی پرائیویٹ پریکٹس پر پابندی لگانے کا انقلابی فیصلہ کیا اور یہ فیصلہ بڑے وژن کا متقاضی تھا، اس سے غریب بچوں کو معیاری تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے گئے، تعمیراتی منصوبوں میں بھی انہوں نے میرٹ پر فیصلے کیے اور سیاست میں شائستہ روایات کی پاسداری کی، بڑوں کا احترام اور چھوٹوں سے شفقت ان کا شیوہ تھا اور ہی وہ راز تھا کہ ایک غریب کسان کے گھر پیدا ہونے والا بچہ محمد مطلوب انقلابی آزاد کشمیر کی فضا سے بھی بلند ہوکر پاکستان کی اعلیٰ سیاسی قیادت کی آنکھوں کا تارا بھی بنا۔ بلاشبہ کہا جاسکتا ہے کہ آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے جس طرح سیاسی رواداری کو فروغ دیا اور تعمیر و ترقی کے ریکارڈ کام کیے اور بدعنوانی کا کوئی دھبہ بیرسٹر سطان محمود چوہدری کی ذات پر ان کے سیاسی مخالفین بھی نہ لگاسکے۔ محمد مطلوب انقلابی مرحوم نے اسی روایت کو آگے بڑھایا اور اگر ان کی زندگی وفا کرتی تو ان میں بھی وزیراعظم بننے کی تمام خوبیاں بدرجہ اتم موجود تھیں، مرحوم پی ایس ایف کے اعلیٰ عہدیدار رہے، ممبر کشمیر کونسل سمیت متعدد دیگر عوامی ذمہ داریوں پر متعین رہے اور بطور وزیر کالجز اور آئی ٹی بھی رہے اور اپنے عہدوں کے ساتھ بھرپور انصاف کیا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے وہ سچے جیالے تھے اور بھٹو ازم ان کی گویا فلاسفی تھی۔ سیاسی نظریات اپنی جگہ مگر اپنے سیاسی مخالفین سے بھی ہمیشہ محبت سے ملتے اور ہر ایک کا دل موہ لیتے اور یہی وجہ ہے کہ آج ان کی جدائی پر ہر شخص اداس ہے۔
تازہ ترین