کراچی پیکیج کہاں کھو گیا؟
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی میں کچھ ماہ قبل ہونے والی تباہ کن بارش کے بعد وفاقی، صوبائی حکومت کے علاوہ افواجِ پاکستان نے بھی ملک کے اِس معاشی شہر پر توجہ دی، اِس شہر کی حالت بہتر بنانے کے لئے اجلاس ہوئے، بیانات سامنے آئے، کئی منصوبوں کا اعلان کیا گیا، سب سے بڑھ کر شہر قائد کی ترقی اور زبوں حالی کو دو ر کرنے کے لئے 11سو ارب روپے کے کراچی پیکیج کا اعلان کیا گیا،

شہر کے مسائل کے حل کیلئے صوبائی کوآرڈی نیشن عملدرآمد کمیٹی قائم کی گئی جو پیکیج کے تحت منصوبوں کی نگرانی کرے گی۔ کمیٹی میں وفاق، فوج اور تمام اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں گے، سرکلر ریلوے سمیت کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت ٹرانسپورٹ، سالڈ ویسٹ، پانی اور سیوریج سسٹم کے مسائل حل کیے جائیں گے۔

کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت واٹر سپلائی منصوبوں کیلئے 92ارب روپے، سیوریج ٹریٹمنٹ کیلئے 141ارب روپے، نالوں کی صفائی اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے منصوبوں کیلئے 267ارب روپے جبکہ ماس ٹرانزٹ، ریل اینڈ روڈ ٹرانسپورٹ کیلئے 572ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سندھ حکومت نے تجاوزات کے خاتمے میں بے گھر ہونیوالوں کی آبادکاری اپنے ذمے لی،یہ اقدامات، وزیراعظم عمران خان کے علاوہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورۂ کراچی پر کئے گئے،

جنہوں نے اِس شہر کی حالت کو بہتر بنانے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا اور افواجِ پاکستا ن کی جانب سے کراچی پیکیج کے لئے تین سو ارب روپے دینے کا اعلان کیا گیا جس سے شہریوں کے علاوہ کراچی کے صنعت کاروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی مگر اب اُن کی یہ خوشی مایوسی میں بدل رہی ہے، پانچ ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود اِس حوالے سے تاحال کوئی مثبت پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

وفاقی اور سندھ حکومت نے کراچی کو لاوارث چھوڑ دیا ہے۔ کراچی پیکیج کے نام پر جو اعلانات کئے گئے تھے، اُن پر عمل درآمد تو دور کی بات اب کراچی کے مسائل پر کوئی بات بھی نہیں کررہا۔

اِس وقت کراچی شہر صحرا کا منظر پیش کررہا ہے، ہر سڑک اور ہر گلی محلے میں مٹی اور دھول اڑ رہی ہے، حکمران ائیر کنڈیشن اور کالے شیشوں والی گاڑیوں میں اپنا سفر طے کر لیتے ہیں، مہنگی گاڑیوں میں اُنہیں ٹوٹی ہوئی سڑکوں اور مٹی دھول کا احساس تک نہیں ہوتا بلکہ اُن کو عالی شان گاڑیوں سےیہ سب چیزیں نظر بھی نہیں آتیں۔

وہ شہر جو ملک کو سب سے زیادہ ریونیو دیتا ہے اور اپنے صوبے کو بھی چلا رہا ہے، اِس کی سڑ کیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، اب تک صنعتی علاقوں میں سڑکوں کی مرمت کا کام بھی شروع نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے تاجر برادری کو مسائل کا سامنا ہے،

حیرت انگیز طور پر کراچی کے نام پر برسوں سےسیاست کرنے والی جماعتیں بھی موجودہ صورت حال میں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ کراچی کے تمام علاقے کھنڈرات کا منظر پیش کررہے ہیںجو حددرجہ افسوس ناک عمل ہے۔

دوسری جانب لاہور میں آبادی اور مسائل میں اضافے کی وجہ سے نیا شہر راوی کے نام سے بسایا جارہا ہے جو اچھی بات ہے۔ 1990میں راقم الحروف نے ملک کی اعلیٰ ترین شخصیات کو یہ تجویز دی تھی کہ پنجاب کو بھی وزارتِ عظمی دی جائے۔ اُس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب نواز شریف اور وزیر داخلہ نسیم آہیر اس دوڑ میں نمایاں تھے، پنجاب نے پچھلے دس پندرہ برسوں میں جو ترقی کی ہے، وہ کسی سےڈھکی چھپی نہیں ہے

مگر سندھ میں اِس حوالے سے صورتحال بہت زیادہ مایوس کن ہے۔اسی لئے ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ بھی کراچی اور سندھ کے ترقیاتی کاموں سےناخوش ہے، حال ہی میں سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دریاؤں اور نہروں کے کنارے شجرکاری سے متعلق کیس کی سماعت میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سندھ میں انسانوں کا جینا مشکل ہے تو درخت کیسے رہیں گے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سندھ میں جتنا بھی فنڈ چلا جائے لگتا کچھ نہیں، جس سے واضح ہورہا ہے کہ سندھ میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے حالات بہت زیادہ خراب ہیں۔

سرکاری ملازمتوں میں بھی شہری سندھ کو نظر انداز کیا جارہا ہے جس سے یہا ں کے نوجوانوں میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ سندھ میںزیادہ عرصہ حکومت پی پی کی رہی ہے ان کے رہنمائوں کو انصاف سے کام لینا ہوگا۔ملک اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے اس میں نفرت اور عصبیت کے بجائے ملکی سلامتی اور یک جہتی کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ کراچی جو پورے پاکستان کو چلاتا ہے، اس کی سڑکوں کو مٹی اور پتھروں کے ٹیلوں میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ سے صنعت کار پریشان ہیں۔اس شہر کی تباہی ملکی معیشت پر کاری ضرب ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کراچی پیکیج اور اس کے تحت بنائے گئے منصوبوں پر توجہ دے تاکہ کراچی کے شہریوں، تاجر برادری اور پورے ملک سے منی پاکستان کراچی میں بسنے والوں کے چہرے پر خوشیاں آسکیں، اِس وقت ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر ایمبولنس میں موجود مریض دم توڑ رہے ہیں مگر حکمران خوابِ خرگوش میں ہیں، کراچی پیکیج درحقیقت ملک کی سلامتی اور بقا کا پیکیج ہے۔

جب تک یہ اپاہج شہر اپنے پائوں پر کھڑا نہیں ہوگا، ہماری معاشی صورتحال بھی بہتر نہیں ہوگی۔ اس شہر کی بہتری سے ہم غیر ملکی قرضوں کا بو جھ اتار سکتے ہیں۔ کراچی چلے گا تو پاکستان چلے گا۔ اِسی لئےیہاں کے عوام سوال کررہے ہیں کہ کراچی پیکیج کہاں کھو گیا؟

تازہ ترین