• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زندگی کی تلخ یادیں اور بے نظیر بھٹو کا یوم شہادت

تحریر :علامہ قاری محمد عباس۔۔۔لندن
آج بھی شہید آ رہی ہے تیری مٹی سے سدا اے وطن تو سلامت رہے یہ دعا ہے میری، پاکستان کے سیاسی اُفق پر چمکتا اور عالمی سطح پر جگمگاتا ستارہ جس نے اپنی عقل و دانش ،فہم و فراست ،تدبر و بصیرت سے دنیا کو اپنا گرویدہ بنا لیا، دنیائے عالم میں خدا داد صلاحیتوں کی بنا پر اپنے مُلک کا وقار بلند کیا، اسلامی اور غیر اسلامی دنیا میں بہت بڑا نام محترمہ بے نظیر بھٹو شہید جس کی مُلکی خدمات اور قُربانیاں اور ناقابل فراموش کارنامے پاکستانی قوم کے دلوں اور تاریخ کے صفحات میں رہتی دنیا تک سُنہرے حروف سے لکھے جائیں گے۔ بے نظیر بھٹو پاکستان کوایٹمی طاقت بنانے والے قائد عوام ،عظیم سیاسی لیڈر ،قانون دان پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی شہید ذوالفقارعلی بھٹوکی لخت جگر تھی، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید جن کو اسلامی دُنیا کی پہلی مسلم خاتون وزیراعظم ہونے کا اعزاز اور شرف حاصل ہے ، قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کوپہلے توپاکستان واپس آتے ہی کراچی میں انسانیت کے دُشمنوں نے خودکش بم دھماکے کے ذریعے مارنے کی کوشش کی، لیکن دشمن نے اپنےمذموم اور ناپاک عزائم کی تکمیل میں مسلسل ناکامی کے بعد راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسہ عام کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کو نشانہ بناتے ہوئے گولیاں مار کر بے دردی اور سفاکی سے شہید کردیا ۔پاکستانی سیاست اور جمہوریت کی بقا و بحالی میں بھٹوخاندان اپنی شہادتوں کو شامل کر کے پاکستانی قوم کو ہمیشہ اس بات کا احساس دلاتا رہا کہ عوام کی جائز ضرورتوں، امنگوں اور خواہشات کو پورا کرنے اور پاکستان کے استحکام اور سلامتی کے لیئے اپنی جان کی بازی لگانے والے محب وطن لوگ ابھی ختم نہیں ہوئے لیکن افسوس27 دسمبر 2007 کی شام بھٹوخاندان کے خون سے روشن پاکستانی سیاست کا آخری چراغ بھی ظُلم کی آندھیوں نے بجھادیا ۔ پاکستان دشمن عناصربے نظیر بھٹو کو بھی ابدی نیند سلانے میں کامیاب ہوگئے اوربے نظیر بھٹو کو بھی اپنی حب الوطنی، بہادری اورعوامی مقبولیت کی قیمت آخر کار اپنے خون سے ہی چکانی پڑی۔ اسلامی دُنیا کی سب سے پہلی خاتون وزیراعظم شہیدمحترمہ بے نظیر بھٹو طویل جلا وطنی کے بعد جب پاکستان واپسی کیلئے 10اپریل1986ءکو کراچی کی بجائے لاہورایئر پورٹ پر اُتریں تو پو رے پاکستان سے لوگ جوق در جوق اور جوش و جذبہ سے محترمہ بے نظیر بھٹو کے استقبال اور اپنی قائد کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے سڑکو ں پر بے قرار کھڑے تھے لوگوں کا ایک جم غفیر گویا کہ ساری دنیا ہی یہاں اُمنڈ آئی ہو، محترمہ بے نظیر بھٹو لاکھو ں افراد کے مجمع کو والہانہ انداز میں اپنے سامنے دیکھ کر آپے سے باہر نہیں ہوئیں بلکہ سیاسی تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے مینار پاکستان پر خطاب کرنےکے لئے مائیک کے سامنے آئیں، لاکھوں محبت کرنے والوں اور جیالوں نے تمام تر خطرات کے باوجود پورے جوش و خروش سے محترمہ بے نظیر بھٹو کے خطاب کو سنا۔ لاہورکی سڑکوں ، بازاروں اورگلی محلوں کو پاکستان پیپلز پارٹی کے پرچموں اور جھنڈیوں سے دُلہن کی طرح سجا دیا گیا تھا ، بی بی سی کے نمائندہ نے اُس وقت محترمہ بے نظیر بھٹو کے جلسے کی کوریج کرتے ہوئے کہا تھاکہ جلسے میں اتنی دُنیا تھی کہ انہیں شمار نہیں جاسکتا ۔یہ وہ زمانہ تھاجب محترمہ بے نظیر بھٹو کی اُردو میں انگریزی کا لب ولہجہ نمایاں تھا۔ مطلب یہ ہے کہ 1986ءمیں محترمہ بے نظیر بھٹو کی اُردو اتنی اچھی نہیں تھی لیکن اس جلسے میں لاکھوں افراد نے ان کے اس انداز کونہ صرف سمجھا بلکہ بہت پسند کیا تھا اور ہر جملے پر تالیاں بھی بجائی تھیں۔ یہی وہ جلسہ تھا جب محترمہ نے” میں باغی ہوں ،میں باغی ہوں ،والی نظم پڑھی ۔ پھر یہی نظم پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسوں کی زینت بن گئی۔ پاکستا ن کی سیاسی تاریخ میں یہ شاید آخر ی بڑا جلسہ تھا جس میں عوام کے لئے کرسیاں نہیں لگائی گئی تھیں، آج کل کے سیاسی جلسوں میں عوام کے لئے کرسیاں لگاکر گنتی کی جاتی ہے تب پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسو ں میں عوام کھڑے ہوکر شریک ہوا کرتے تھے ۔عرض کر رہا تھا کہ 10اپریل 1986ءکے استقبال کی ،اُس استقبال کی خاص با ت جہاں پارٹی کے ورکروں جیالوں اور محبت کرنے والوں نے بھر پور شرکت کی تھی وہاں پر خواتین کا جوش وخروش دیدنی تھا ۔ہر طرف سے جذباتی انداز میں فلک شگاف نعروں کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں، مکانوں کی چھتوں سے عورتیں دوپٹے پھینک رہی تھیں اور بے نظیر بھٹو وہ دوپٹے فوراً اپنے سر پر اوڑھ لیتی تھیں۔10اپریل1986ءسے لے کر 27دسمبر2007ء تک کا یہ سفربے نظیر بھٹو کے لئے بہت سے نشیب و فراز اور عروج و زوال لا یا، کبھی بطور وزیر اعظم اور کبھی بطور اپوزیشن لیڈر ۔ وزارت عظمیٰ کے دوران بے نظیر بھٹو کو اپنے کڑیل جوان بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کا اچانک قتل دیکھنا پڑا۔ ابھی وہ اپنے بھائی مرتضیٰ بھٹو کی رسم قُل کے ختم سے اٹھی ہی نہیں تھیں کہ اُس شخص نے جس کو بے نظیر بھٹو نے منہ بولا بھائی بنایا تھا جو کہ حقیقت میں آستین کا سانپ تھا یعنی فاروق احمد لغاری جس کو خود محترمہ نے پاکستان کے سب سے بڑے عُہدے پر فائز کروا کر عزت و توقیر سے نوازا تھا صدر پاکستان بنایا اُسی احسان فراموش نے اسٹبلشمنٹ کی ایما پر محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو ختم کر کے دُکھوں میں اضافہ کر دیا ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیا سی زندگی کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اُن کی زندگی دُکھوں ،غموں ، پریشانیوں ، مصائب و آلام سے ہی عبارت تھی گویا کہ زندگی کا ایک لمحہ بھی چین اور سکون سے نہیں گزارا تھا ،پہلے ایک فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق نے باپ کو قتل کے جھوٹے مقدمہ میں سپریم کورٹ سے اپنی مرضی کا فیصلہ دلوا کر تختۂ دار پر چڑھا دیا ۔ پھر بھائی شاہنوازبھٹو کی موت کے ذریعے بےنظیر بھٹو کے صبر کو آزمایا گیا۔ پھر میرمرتضیٰ بھٹو کوقتل کر کے آزمائشوں اور مصیبتوں کے پہاڑ توڑدیئے گئے ، پھر آخری حربہ کے طور پر بینظیر بھٹو کے شریک حیات آصف علی زرداری کو پابند سلاسل کر کے راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا گیا۔ ان کی زندگی میں شفیق ماں نصرت بھٹو زندہ درگور ہو گئیں۔ یہاں پر بس نہیں ہوئی بے دردی کی انتہا کر دی گئی کہ دُشمن نے اپنے شیطانی عزائم کی تکمیل کیلئے 18اکتوبر 2007ء سانحہ کارساز میں محترمہ بےنظیر بھٹو کو ڈکٹیٹر مشرف کی طرف سے قتل کرنے کی سازش کی گئی اس روز جمہوریت کے دشمنوں نے ان کے قافلے پر ظالمانہ حملہ کیا جس میں دو سو پارٹی جیالے کارکنوں اور جمہوریت پسندوں نے شہادت پائی پاکستان آمد کا مقصد صرف از صرف ڈکٹیٹرشپ اور انتہا پسندوں سے ملک کو چھٹکارا دلانا تھا، دُکھوں ،مشکلوں اور رکاوٹوں کے باوجودمحترمہ بینظیر بھٹو لیڈی آئیرن بن کر ثابت قدم رہیں مشرقی عورت ہونے کے ناطے اپنے شریک حیات کی غیرموجودگی میں اپنے بچوں کو ماں اور باپ دونوں کا پیار دیا۔ وہ اپنے اندر فولاد کی سی مضبوطی رکھتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ 2007 ءمیں طویل جلاوطنی کے بعدجب انہوں نے وطن واپسی کا پروگرام بنایا تو پارٹی کے مخلص دوستوں اور رہنماؤں نے پاکستان نہ جانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ کیلئے مُلکی حالات ساز گار نہیں، آپ کی جان کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں فرمایا کہ میں فیصلہ کر چکی ہوں پاکستان کو اس وقت میری اشد ضرورت ہے تمام تر خطرات کے باوجود پاکستان پہنچیں، محترمہ بےنظیر بھٹو ایک بہادر اور نڈر خاتون تھیں وہ اپنے نام کی طرح بے مثل تھیں ۔اللہ تعالی کی ذات پر یقین کامل بھروسہ و توکل رکھتے ہوئے محترمہ بے نظیر بھٹو جب پاکستان کراچی ائیرپورٹ پر اتریں تو انہوں نے جہازکے پائیدان پر کھڑے ہو کر اپنے ہاتھوں کو رب ذوالجلال کی بارگاہ میں دُعا کیلئیے بلند کر دیا، آنکھوں میں وطن واپسی پر جذباتی اور خوشی کے آنسو نمایاں ہوئے یہ خوبصورت منظر دنیا کے ٹی وی چینلز پر کروڑوں انسانوں نے دیکھا اور اسے اپنی آنکھوں اور دماغوں میں محفوظ کرلیا ۔بھٹو خاندان کی قربانیاں اور یادیں اتنی مسحور کُن ہیں کہ کوئی بھی شخص چاہے اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو وہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی طرزِ سیاست سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔پھر ایک وہ وقت بھی آیا کہ لیاقت باغ راولپنڈی میں زندگی کا آخری اور فقیدُ المثال جلسہ کیا اُس جلسہ میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے جس جوش و جذبہ اور ولولہ انگیز انداز میں تقریر کی تھی شائد اس سے پہلے ایسے انداز میں تقریر کسی نے نہیں سُنی ہو گی، شائد یہ اس لیئے کہ چاہنے والوں کیلئے زندگی کی آخری ملاقات تھی بس اس کے بعدانسانیت کے دُشمنوں نے اپنے ناپاک اور سیاہ عزائم کی تکمیل کو عملی جامہ پہنا نے کیلئے بینظیر بھٹوکو 27 دسمبر 2007ءکو شہیدکردیا۔یہ ایک ایسا کرب ناک اور درد ناک وقت تھا کہ پارٹی کا ہر کارکن غم اور صدمہ کی وجہ سے دم بخود رہ گیا اس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کو جو نقصان پہنچا اُس کا تدارک کبھی نہیں ہو سکے گا، شہید ذوالفقارعلی بھٹو اور محترمہ شہید بینظیر بھٹو اب اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن ان کے فلسفے مشن ،ویژن اُن کی سوچ اورافکارکی روشنی میں اب بھی ہم اچھے پاکستان کا خواب دیکھ سکتے ہیں، محترمہ شہید بینظیر بھٹو اپنے اثاثے میں اتنے نظریات چھوڑگئی ہیں کہ اُن پر عمل پیرا ہوکر پاکستان پیپلز پارٹی ایک بار پھر مُلکی سطح پر مقبول ترین جماعت بن کر سامنے آسکتی ہے۔اپنے کھوئے ہوئے مقام اور وقار کو عوام میں دوبارہ بحال کر سکتی ہے۔
ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
جو یاد نہ آئے بھول کے پھر اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم 
تازہ ترین