آپ آف لائن ہیں
جمعہ20؍ رجب المرجب 1442ھ 5؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عراق نے تیل کی قیمت گرنے سے پانچویں بار کرنسی کی قدر میں کمی کی

نمائندہ مشرق وسطیٰ َ کلوئی کورنش

عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں گرنے سے پیدا ہونے والے شدید مالی بحران سے نبردآزام عراق نے پانچویں بار اپنی کرنسی کی قدر میں کمی کی ہے۔

عراق کے مرکزی بینک نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ عراقی دینار کی قدر کم کرکے ایک ڈالر کے مقابلےمیں1182 شرح تبادلہ کررہا ہے اور کرنسی کی قدر کو دوبارہ ترتیب دینے سے مرکزی بینک وزارت خزانہ کو 1450 عراقی دینار کے بدلے ایک ڈالر کی ادائیگی کرے گا،جس سے عراقی کرنسی کی قدر میں 20 سے زائد کی کمی ہوئی۔ سی بی آئی مقامی بینکوں کو 1460 عراقی دینار پر ڈالر کی فروخت کرے گا۔

اگرچہ عراقی مرکزی بینک ایک آزاد ادارہ ہے، تاہم عراقی حکومت تقریباََ 30 لاکھ سرکاری ملازمین کو دینار میں تنخواہوں کی ادائیگی میں مدد کے لئے 2003ء کے بعد سے کرنسی کی قدر میں سب سے بڑی کمی پر زور دے رہی ہے۔

اوپیک کا تیل کی پیداوار کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہائیڈورکاربن کی برآمدات پر انحصار کرتا ہے، اور اور تیل کی قیمتیں گرنے کے نتیجے میں عراقی حکومت کی آمدنی نصف رہ گئی ہے۔ جس کی وجہ سے حکومت اپنے اخراجات پورے کرنے کے قابل نہیں رہی، آئی ایم ایف نے رواں سال عراق کی ملکی مجموعی پیداوار کے 20 فیصد تک مالی خسارے کی پیشن گوئی کی ہے۔

تیل سے ہونے والی آمدنی میں کٹوتی سے سی بی آئی کے غیرملکی کرنسی کے ذخائر میں کمی آرہی ہے، جس کے بارے میں عالمی بینک نے کہا ہے کہ ستمبر تک گر کر تقریباََ 50 ارب ڈالر رہ گئے ہیں، اور حکومت کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے بہت بڑا قرض لینے پر مجبور کردیا ہے۔2003 کے حملے کے بعد سے عراق کے عوامی شعبے کا حجم تین گنا ہوگیا ہے، اور حکومت کو با آسانی ملک کا سب سے بڑا آجر کہا جاسکتا ہے۔ تاہم رواں برس نومبر میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو ادائیگی میں تاخیر ہونے کی وجہ سے معاشرتی بدامنی پھیل گئی۔

تیل پر انحصار کرنے والی معیشت ہونے کی وجہ سے عالمی بینک کو ملک میں تیزی سے غربت میں اضافے کی توقع ہے، جنگ سے دوچار عراق کی مالی صورتحال اتنی سنگین ہے کہ عراق آئی ایم ایف سےا مداد کے لئے بات چیت کر رہا ہے۔

سینچری فاؤنڈیشن کے فیلو بغداد میں مقیم سجاد جیاد نے کہا کہ کرنسی کی قدر میں کمی آئی ایم ایف اور دیگر کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ صورتحال کتنی مایوس کن ہوچکی ہے اورعراق مزید سنگین بجٹ جیسے تکلیف دہ اقدامات کرنے کیلئے تیار ہے۔

سجاد جیاد نے مزید کہا کہ زائد قیمت پر شرح مبادلہ کا تحفظ جاری رکھنا کچھ عرصے کیلئے ناقابل دفاع پوزیشن رہی ہے۔ جب کرنسی مزید مستحکم نہ رہے تو مالی طور پر، بڑی مقدار میں قیمتی نقد ذخائر کو استعمال کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا ہے۔

تاہم، عراق چونکہ درآمدات پر انحسار کرتا ہے، دینار کو کمزور کرنے سے افراط زر کا امکان ہے۔ابھی تک قیمتیں کافی حد تک کم رہی ہیں کیونکہ عراق کے دو سب سے بڑے تجارتی شراکت دار ایران اور ترکی کی اپنی کرنسیوں کی قدر کم ہے۔

سجاد جیاد نے کہا کہ عوام کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ اشیائے خوردونش کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، ہم ابھی بھی اپنی بیشتر غذائی اشیاء درآمد کرتے ہیں۔

طرز زندگی میں مزید گراوٹ کی صورتحال وزیر اعظم مصطفی القدیمی کی حکومت کے لئے ممکنہ طور پر غیر مقبول ضمنی اثر ہے ،جنہوں نے گزشتہ انتظامیہ کو گرانے کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہروں کے بعد اقتدار سنبھالا اور آئندہ سال جون کے اوائل میں ہی نئے انتخابات کا وعدہ کیا ہے۔

وزیرخزانہ علی علاوی نے متنبہ کیا ہے کہ عراق کو اپنے اخراجات میں اصلاحات لانے کے لئے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئے، جو سیاستدانوں کے ووٹ اور وفاداری خریدنے کے لئے عوامی خدمات حاصل کرنے کی وجہ سے بہت بڑھ گئے تھے۔آئی ایم ایف نے رواں ماہ عراقی حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ 2021 کے بجٹ کو تنخواہ اور پنشن بلوں کی غیر مستحکم توسیع کو پرانی حالت پر واپس لانے، توانائی کی بے نتیجہ سبسڈی کو کم کرنے ، اور تیل کے علاوہ محصولات میں اضافےکو ترجیح دینے کے لئے استعمال کرے۔

فنانشل ٹائمز سے مزید