• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ارض فلسطین کے سینے میں اسرائیل کا ناسور برطانوی استعمار پسندوں کا پیدا کردہ ہے۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین، اسلامی ممالک کی تنظیم و دیگر انسانی حقوق کے عالمی ادارے اور تنظیمیں فلسطینی عوام پر ہونے والے بہیمانہ مظالم،جبر، بربریت پر جو بے حسی اور بے شرمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں عالمی برادری کو اس کا سخت نوٹس لینا چاہئے اور اسرائیل کے خلاف ٹھوس اقدام اٹھانے چاہئے ۔

ماہ رمضان کے آخری ہفتہ میں عبادت اور شب بیداری کے موقع پر اسرائیلی فوجیوں اور عام یہودیوں نے گانا بجانا اور شور غوغا شروع کیا جس سے مسجد اقصیٰ میں عبادت میں مشغول سیکڑوں مسلمانوں نے احتجاج کیا۔ اسرائیلی سپاہیوں نے نہایت بیدردی اور سفاکی سے عبادت میں مشغول مسلمانوں پر نہ صرف شدید لاٹھی چارج بلکہ ربر کی گولیوںکے فائر اور آنسو گیس کے گولے برسانے شروع کر دیئے جس میں سیکڑوں فلسطینی مرد عورتیں بچے شدید زخمی ہوئے اور دو فلسطینی نوجوان شہید ہوگئے اس اندوہناک واقع کے بعد حماس نے جوابی کارروائی شروع کی جس کو اسرائیلی حکام عام کارروائی تصور کر رہے تھے مگر کچھ وقفے بعد اسرائیل کے فوجی حکام سناٹے میں آگئے۔ 

حماس نے جدید میزائل سے اسرائیل کے شہری علاقوں اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کیا، اس کے جواب میں اسرائیل نے اپنی ہوائی افواج، بری افواج فلسطینی علاقوں میں کارروائی کیلئے روانہ کردیں اور اسرائیلی فوجیوں نے جس بربریت اور جنگی جارحیت کا مظاہر ہ شروع کیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ اسرائیل نے فلسطینیوں پر پہلی بار ایسا نہیں کیا ہے بلکہ وہ ماضی میں بھی بار بار نہتے مظلوم فلسطینیوں کے لہو سے اپنے ہاتھ داغدار کرتا رہا ہے مگر اس بار اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے تیور الگ نظر آرہے ہیں۔ 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے چار سالہ دور حکومت میں اسرائیل کو بہت سر چڑھا رکھا تھا اور وہ نیتن یاہو کی ڈکٹیشن پر چلتے نظر آئے تھے۔ 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات کے بعد صدر جوبائیڈن نے واشنگٹن کی باگ ڈور سنبھال لی ہے اور لگتا ہے صدر بائیڈن نے طے کرلیا ہے کہ اہم علاقائی تنازعات سے جان چھڑاتے ہوئے امریکہ صرف ایشیا پیسیفک پر اپنی پوری توجہ مرکوز کرے گا۔

امریکہ کو مشرق وسطیٰ سے وہ دلچسپی نہیں رہی جو پانچ برس قبل تک تھی اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ امریکہ اب صرف مشرق وسطیٰ کے تیل کا محتاج نہیں رہا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ مغربی ممالک ایک کے بعد دیگر اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس سے قریبی دوطرفہ تعلقات قائم کرنے میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔ ایسے میں محض فلسطینیوں کا مسئلہ ہے، امریکہ چاہتا ہے، یہ مسئلہ بھی اسرائیلی اور فلسطینی ازخود طے کرلیں۔

مگر مشکل یہ ہے کہ اگر ایک مسئلے کو حل کرنے کی طرف توجہ مرکوز کرے تو اسرائیل دوسرا بڑا مسئلہ کھڑا کردیتا ہے جیسے2017ءمیں پورے دھڑلے سے اسرائیل نے یروشلم کو اپنا دارالخلافہ بنانے کا اعلان کر دیا۔ بعدازاں اس کو امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے پوری آشیر واد بھی حاصل ہوئی اور امریکہ نے بھی اپنا سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کر دیا۔ اسرائیل کہتا ہے کہ یروشلم یہودیوں کا انتہائی مقدس شہر ہے۔ زمینی صورتحال یہ ہے کہ اسرائیل کی آبادی 67لاکھ سے کچھ زائد ہے جبکہ فلسطینیوں کی آبادی 53 لاکھ کے قریب ہے۔ 

فلسطین کا مسئلہ دوسری عالمی جنگ کے بعد حل ہوجانا تھا مگر اس مسئلے میں تینوں ابراہیمی مذاہب کے ماننے والوں کا اصرار کہ میرا حق اور میرا حق تنازعہ کا سبب بنتا رہا ، حالانکہ اقوام متحدہ نے فلسطین میں دو ریاستوں کے قیام کی قرارداد پیش کردی تھی جوکثرت رائے سے منظور بھی ہوگئی کہ ایک یہودی ریاست اور دوسری آزاد عرب ریاست۔ پہلے تواس مسئلے پر مسلمان بھی مشکوک تھے مگر بعدازاں انہوں نے یہ حل منظور کرلیا مگر اسرائیل نے امن منصوبہ کو یکسر مسترد کر دیا کہ یروشلم کے مقامات مقدسہ یہودیوں کے تعمیر کردہ ہیں۔ ان پر صرف یہودیوں کا حق ہے۔ تب سے یہ تنازعہ شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ یہودیوں کی سب سے بڑی کمزوری یا کوتاہی غرض جو بھی عنوان دیا جائے، وہ یہ کہ اپنے مذہب کی تبلیغ نہیں کرتے۔ 

اپن مذہب میں کسی اور کو شریک نہیں کرتے، شادی بیاہ تک نہیں کرتے اس وجہ سے یہودیوں کی آبادی پوری دنیا میں سکڑتی جا رہی ہے اور حالیہ اعداد و شمار کے مطابق مجموعی آبادی ڈیڑھ کروڑ سے خاصی کم ہے۔ ان سے متاثر ملک کے مذہب مثلاً اسماعیلی، بوہرہ اور کھوجے ان کی بھی نسلیں سکڑتی جا رہی ہیں۔ یہ دوسروں کو اپنے میں شامل نہیں کرتے۔ حلال گوشت کے سخت پابند ہوتے ہیں۔ ان کی کتابوں میں لکھا ہے کہ گوشت کو چھ بار پانی سے اتنادھویا جائے یہاں تک کے اس کی رنگت سفید ہو جائے۔ 

ہڈی چبانا، نلی کا گودہ کھانا ان کے نزدیک حرام ہے ان کی دلیل ہے کہ یہ جما ہوا خون ہوتا ہے مگر یہ کھانا ہے تو پھر حلال کی کیا ضرورت ہے۔ یہودی گھریلو خاتون گھر سے باہر جاتے ہوئے سر پرٹوپی پہنے، ہاتھوں پر دستانے پہنے اور ہمیشہ گھٹنوں سے نیچے تک اسکرٹ پہنے۔ آج بھی ان کی یہ روایات تازہ ہیں۔ امریکی کہاوت ہے کہ کسی سجے سجائے اسٹور کے سامنے سے ایک اطالوی نوجوان گزرے گا تو سوچے گا کہ کاش میں اس کا صفایا کر سکتا۔ اگر یہودی نوجوان گزرے گا تو سوچے گا میں بھی ایسا ہی اسٹور بنائوں گا۔

یورپ اور امریکہ میں عیسائیوں کی اکثریت یہودیوں کو سخت ناپسند کرتی ہے۔ درحقیقت ساری گڑ بڑ یہودیوں کے بیج صہیونی انتہا پسندوں کی وجہ سے ہے یہ چھوٹی سی اقلیت معاملات بگاڑ دیتی ہے۔

اس حوالے سے مسلم امہ اور مسلم رہنمائوں کا کردار بھی ناقابل فہم ہے۔ ’’ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ‘‘۔ سب سے بڑی ستم ظریفی یہ کہ پچاس سے زائد ممالک اور ہر رہنما کی ایک گھن گرج تقریروں میں شعلے اگلیں گے۔ دعوے ایسے کہ معلوم ہوگا اب اسرائیل کی خیر نہیں بھاگنے گا راستہ بھی نہیں ملے گا۔ دوسرے دن پھر وہی پرانی خبریں، غزہ میں بمباری کئی فلسطینی شہید، عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔ 

عوام کا احتجاج سال 2008 میں جب عرب اسپرنگ کی لہر ابھری تھی اس موقع پر ایک فرانسیسی دانشور نے ٹوئیٹ کیا تھا کہ میں عرب نوجوانوں کے ہاتھوں میں پتھر دیکھتا ہوں تو دکھ ہوتا ہے کہ کاش ان کے ہاتھوں میں گیندیں ہوتیں اور یہ خوشی سے کھیل رہے ہوتے تو کیا اچھا ہوتا۔ اگر اس فرانسیسی کی بات پر غور کیا جائے تو بہت سے راز کھل کر سامنے آتے ہیں۔ ان کو تعلیم سے، اسکول سے ،تربیت سے، کام کاج سے کس نے دور رکھا ہوا ہے۔ پچاس لاکھ کی آبادی کے نوجوانوں کی تعلیم اچھے مستقبل کی ضمانت کیا پچاس سے زائد مسلم ممالک نہیں دے سکتے۔

کوئی بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ مٹھی بھر یہودی گزشتہ ڈیڑھ دوسو برسوں سے بینکاری، مالیات، طب، میڈیسن، سول انجینئرنگ، الیکٹرونکس، کمپیوٹر، طیارہ سازی، جہاز سازی، اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے شعبوں میں حکمرانی کر رہے ہیں تو اس کی وجہ کیا ہے، یہ سب پر عیاں ہے۔ آخر ہم اپنی کون کون سے کوتاہیوں کو چھپاتے رہیں گے۔

فلسطین کا نوجوان آج کی دنیا کے ہر نوجوان سے زیادہ جری، غیرت مند اور کچھ کرنے کی لگن سے سرشار ہے۔ اگر اس کو موقع دیا جائے تو وہ یہودیوںکو بھی بہت پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔

اسرائیل کے حوصلے اس لئے بلند ہیں کہ مسلم امہ بیانات اور نعروں پر اکتفا کرتی رہی ہے۔ عملی طور پر تاحال کچھ نہیں کیا گیا۔ دوسری طرف بیش تر عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر دوطرفہ تعلقات قائم کرنے کیلئے بات چیت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

حال ہی میں مراکش، سوڈان، مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین کے نام سامنے آئے جس کے ساتھ سعودی عرب کے اسرائیلی اعلیٰ حکام سے بیک ڈور ڈپلومیسی کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔ اس طرح کہا جا رہا ہے کہ سال 2021 میں زیادہ مسلم ممالک اسرائیل کو تسلیم کر سکتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس ضمن میں پاکستان پر بھی دبائو ہے کہ بات چیت کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان میں ایک بڑاطقہ اسرائیل سے بھی دو طرفہ تعلقات قائم کرنے کی حمایت کرتا ہے مگر دائیں بازو کی بعض شدت پسند جماعتیں اس کےحق میں نہیں ہیں۔

اسرائیل کے قیام کے بعد اس کو سب سے پہلے روس نے تسلیم کیا تھا ،پھر ترکی اور ایران نے تسلیم کیا۔ یہ پالیسی عجیب ہے کہ کہ ترکی کے تعلقات ہیں، معاہدے ہیں، اور وہ اسرائیل سے تنازعات پر بھی الجھتا ہے۔ ایران کے تعلقات ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد ختم ہوگئے۔ ایران کو اسرائیل کی پالیسیوں سے سخت اختلاف رہا ہے اور وہ خطے میں اسرائیل کو غاصب تصور کرتا ہے۔

اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ ابتداء سے اسرائیل نے فلسطینیوں کے ساتھ جو معاندانہ اور غاصبانہ رویہ اپنایا ہوا ہے، وہ آج تک جاری ہے۔ افسوس کہ مسلم امہ نے اس طویل عرصے میں ان دونوں ملکوں کا کوئی منصفانہ حل تلاش نہیں کیا۔ محض مسئلے کو ٹالنے اور حقائق سے آنکھیں چراتے رہے۔ یہ کاہلی خدا نہ کرے کسی بڑے انسانی المیہ میں نہ بدل جائے۔

1947ء میں اقوام متحدہ نے فلسطین اور اسرائیل کو دو ریاستی پلان میں تقسیم کیا

1947ء میں دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطین اور اسرائیل کو دو ریاستی پلان میں تقسیم کیا۔ اس پلان کو یہودیوں نے تسلیم کرلیا تھا مگر فلسطین اور عرب رہنمائوں نے اس کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ تب سے دونوں جانب جنگ و جدل جاری ہے۔ اس پلان میں یروشلم کو بین الاقوامی حیثیت دی گئی تھی، اس پر کسی کا کلیم نہ تھا۔ 1948ء کو عرب لیگ نے غازہ کی پٹی پر فلسطینی حکومت قائم کردی۔ 1967ء میں اسرائیل نے غازہ کی پٹی پر قبضہ کرلیا۔ 1967ء کو عرب لیگ اور اسرائیل کی جنگ نے فلسطینی کاز کو شدید نقصان پہنچایا۔ 

غزہ کی پٹی سمیت گولان کی پہاڑیوں پر بھی قبضہ کرلیا اس سے شام بھی زیادہ متاثر ہوا۔ اسرائیل 1967ء اور 1973ء کی جنگوں میں تینوں عرب ملکوں شام، مصر اور اردن کے علاقوں پر قبضہ کرکے اپنی ریاست کو وسیع کرتا رہا۔ مسلم رہنمائوں اور میڈیا نے اسرائیل پر لعن طعن کے سوا کچھ نہ کیا، مسلم امہ اپنی گلیوں میں نعرے بازی کرکے اپنا غبار نکالتی رہی۔ 1993ءمیں اوسلو معاہدہ طے پایا جس میں زیادہ فائدہ اسرائیل نے حاصل کیا۔ اقوام متحدہ نے 2012ء میں فلسطین کو اقوام متحدہ میں غیر مستقل رکن کا درجہ دے دیا جس سے فلسطینی انتظامیہ پی ایل او غیر ممالک کے سفارت حانوں سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ 

فرانس نے زور دیا کہ فلسطین کو باقاعدہ رکن کا درجہ دیا جائے۔ 2015ء میں اسٹاک ہوم میں پہلی فلسطینی ایمبیسی قائم ہوئی۔ حال ہی میں اقوام متحدہ نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں کہا گیا ہے جو علاقے فلسطین کے قبضے میں ہیں، ان علاقوں کے قدرتی وسائل پر فلسطینی عوام کا حق ہے، ان کو فلسطینی ذرائع تسلیم کیا جائے۔

امریکا، اسرائیل کو دفاعی، معاشی اور تجارتی امداد دیتا ہے

اسرائیل کو امریکا کی طرف سے سالانہ تین ارب ڈالر کی دفاعی، معاشی، تجارتی امداد دی جاتی ہے۔ امریکی تھنک ٹینکس کہتے ہیں ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اسرائیل ایک چھوٹی ریاست ہے اس لئے اس کو امداد دی جائے مگر دفاعی حساس ہتھیاروں کی فراہمی اور اسرائیل کی بعض متازع دفاعی پالیسیوں کی حمایت سمجھ سے باہر ہے۔ 

اسرائیل کو اس کی ضرورت نہیں ہے مگر امرایکا دفاعی مدد بھی پوری طرح فراہم کررہا ہے حالانکہ اسرائیل کے خلاف انسانی حقوق کی پامالی کے درجنوں مقدمات فائل ہیں پھر بھی وہ اس کے خلاف امداد حاصل کررہا ہے۔ بعض امریکی دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ میں مسلم عرب ممالک کے بیچ واقع ہے۔ لبنان، شام و عراق میں ہونے والی تمام متوقع شورشوں کو قبل از وقت ختم کردیتا ہے۔ 

روس سے اس کے تعلقات مستحکم ہیں۔ اسرائیل نے ہر ملک کو ازخود ایک ڈسپلن میں رکھا ہوا ہے جس کا لوگوں کو ادراک نہیں ہے۔ یہ اسرائیل جو ایک چھوٹی ریاست ہے اور ایک بڑے اہم خطے کا ازخود نگراں بھی ہے، اس خطے کا حصہ بھی ہے۔ امرایکا کے نزدیک اسرائیل کی یہ اہمیت ہے مگر اب نئی انتظامیہ اس میں کچھ تبدیلی چاہتی ہے۔ آگے آگے دیکھئے۔