• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسرائیل نے خامنہ ای کو کیسے ہدف بنایا؟ برطانوی اخبار خفیہ منصوبے کی تفصیلات سامنے لے آیا

کراچی(رفیق مانگٹ) اسرائیل نے خامنہ ای کو کیسے ہدف بنایا ؟ ((برطانوی اخبار خفیہ منصوبے کی تفصیلات سامنے لے آیا،تہران کے ٹریفک کیمرے ہیک، ویڈیوز خفیہ طور پر تل ابیب منتقل ہوتی رہیں،محافظوں اورڈرائیوروں کی نقل و حرکت کی نگرانی ، الگورتھمز کے ذریعے سکیورٹی اہلکاروں کا لائف پیٹرن تیار، پتے اور راستے تک معلوم، خامنہ ای کی میٹنگ کے وقت اور شرکا کی پیشگی اطلاع،موبائل ٹاورز جزوی غیر فعال، حفاظتی عملہ وارننگ سے محروم ،اربوں معلومات کا تجزیہ2001 میں شیرون کی ہدایت پر ایران کو اولین ہدف بنایا گیابرطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہدف بنانے کے لیے برسوں پر محیط خفیہ انٹیلی جنس مہم چلائی، جس میں تہران کی ٹریفک کیمروں کی ہیکنگ، موبائل نیٹ ورکس میں مداخلت اور انسانی ذرائع سے معلومات کا حصول شامل تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی ایک طویل منصوبہ بندی اور اعلیٰ سطحی سیاسی فیصلے کا نتیجہ تھی۔رپورٹ کے مطابق جب ایرانی اعلیٰ حکام کے تربیت یافتہ محافظ اور ڈرائیور تہران کی پاستور اسٹریٹ کے قریب اپنی ڈیوٹی پر پہنچتے تھے جہاں ہفتے کے روز ایک اسرائیلی فضائی حملے میں آیت اللہ خامنہ ای شہیدہوئے تو اسرائیلی انٹیلی جنس ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھی۔ معاملے سے واقف دو افراد کے مطابق تہران کے تقریباً تمام ٹریفک کیمرے برسوں پہلے ہیک کر لیے گئے تھے اور ان کی تصاویر خفیہ طور پر تل ابیب اور جنوبی اسرائیل میں موجود سرورز کو منتقل کی جاتی تھیں۔ایک ذریعے کے مطابق ایک مخصوص کیمرے کا زاویہ خاص طور پر مفید ثابت ہوا، جس سے یہ معلوم کیا جا سکتا تھا کہ محافظ اپنی ذاتی گاڑیاں کہاں پارک کرتے ہیں، اور اس سخت نگرانی والے کمپاؤنڈ کے روزمرہ معمولات کو سمجھنے میں مدد ملی۔ پیچیدہ الگورتھمز کے ذریعے سکیورٹی اہلکاروں کی تفصیلی فائلیں تیار کی گئیں جن میں ان کے پتے، ڈیوٹی کے اوقات، سفر کے راستے اور یہ معلومات شامل تھیں کہ وہ عموماً کس شخصیت کی حفاظت پر مامور رہتے ہیں۔ انٹیلی جنس افسران اسے پیٹرن آف لائف قرار دیتے ہیں۔یہ صلاحیتیں ایک برسوں پر محیط انٹیلی جنس مہم کا حصہ تھیں، جس نے خامنہ ای کی شہادت کی راہ ہموار کی۔

اہم خبریں سے مزید