• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کووِڈ۔اُنّیس کی وبا نے دنیا بھر میں بہت کچھ تبدیل کردیا ہے ۔ کساد بازاری کے دور میں جنوب مشرقی ایشیا میں سیاسی بے یقینی میں اضافے کے امکانات بڑھ گئے ہیں ، بالکل اسی طرح جس طرح 1997کے ایشیائی اقتصادی بحران کے دنوں میں ہوا تھا اور اس کی وجہ سے انڈونیشیا میں صدر سوہارتو اقتدار سے محروم ہوگئے تھےاور تھائی لینڈ میں تھاکسن کو عروج ملا تھا۔

یہ طے ہےکہ ہر وبا کے اقتصادی اور سیاسی اثرات ہوتے ہیں۔ یہ وبا بہ ظاہر چین سے پھیلنا شروع ہوئی تھی۔ بیجنگ نے ابتدا میں اس پر خاص توجہ نہیں دی، لہذا یہ وائرس وہاں خوب پھیلا اور پھر چین کی سرحدوں سے باہر بھی چلا گیا۔ لیکن پھر چین کی قیادت کو اس مسئلے کی سنگینی کا احساس ہوگیا،چناں چہ اس نے بہت سخت اقدامات اٹھائے اور اس پر قابو پالیا۔ لیکن ایسے سخت اقدامات اٹھانا صرف چین جیسے ملک کے لیے ہی ممکن تھا،کیوں کہ وہاں سیاست اور حکومت کا ایک خاص انداز ہے۔

ایشیا کے بعد اس وبا کا مرکز یورپ بنا ۔مغربی ممالک نے بھی ابتدا میں اس مسئلے کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا،لیکن پھر خراب ہوتےحالات نےانہیں ششدر کردیا اور وہ حرکت میں آگئے۔زیادہ تر یورپی ممالک اب اس وبا کے اثرات کم کرنے میں کام یاب ہوچکے ہیں۔لیکن امریکا میں صورت حال اب بھی کافی خراب ہے۔

ممکنہ اقتصادی اثرات

ماہرینِ اقتصادیات کے مطابق اس وبا کے اقتصادی اثرات 1930ء کی دہائی کے عظیم مالیاتی بحران سے بھی زیادہ ہوسکتے ہیں۔ آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ 2020ء میں عالمی جی ڈی پی تین فی یصد تک گر جائے گا۔ عالمی تجارتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تجارت کا حجم بتّیس فی صد تک کم ہوسکتا ہے۔ آئی ایل او کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں 195 ملین ملازمتیں ختم ہوسکتی ہیں۔

پاکستان کو وائرس کا پھیلائو داخلی اور عالمی، دونوں سطحوں پر متاثر کرے گا۔ اس سے پہلے پاکستان کی معیشت آئی ایم ایف کے امدادی پیکج کی مدد سے آہستہ آہستہ بحال ہونا شروع ہوگئی تھی۔ اب اس کی شرح ِ نمو میں سنگین کمی آسکتی ہے جس کے نتیجے میں بے روزگاری، غربت اور بھوک میں اضافہ ہوگا۔ عالمی بینک نے سائوتھ ایشین اکنامک فوکس رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستانی معیشت کی شرح نمو منفی میں رہے گی۔ اس رپورٹ کے مطابق یہ شرح2020-2021ء میں ایک فی صد رہے گی۔ برآمدات اور نجی سرمایہ کاری میں کمی اور اخراجات کو دیکھتے ہوئے یہ خدشہ عین ممکن دکھائی دیتا ہے ۔

سب سے زیادہ خطرے کی زد میں دیہاڑی دار مزدور اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے بزنس میں کام کرنے والے ہیں۔ لاک ڈائون اورجی ڈی پی میں آنے والی کمی کے نتیجے میں پانچ ملین افراد بے روزگارہوسکتے ہیں۔ اس سے قومی بے روزگاری کی شرح بڑھ کرچودہ فی صد ہوسکتی ہے۔ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والے افراد کی تعداد بیس ملین تک پہنچ سکتی ہے ۔ اس کے نتیجے میں ملک کی کم و بیش نصف آبادی غربت کا شکار ہوجائے گی۔

عالمی بینک کے مطابق جنوبی ایشیا کے لیے کورونا وائرس کی وبا ایک ’’بھرپور طوفان‘‘ کے مترادف ہے۔ غربت کے خلاف عشروں سے کی جانے والی کوششوں کے ضایع ہونے کا خطرہ ہے۔ بینک کے مطابق جنوبی ایشیائی ممالک کو چار دہائیوں کے دوران اپنی بدترین اقتصادی کارکردگی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں اقتصادی ترقی کی شرح زیادہ سے زیادہ ایک اعشاریہ آٹھ سے دو اعشاریہ آٹھ فی صد کے درمیان رہے گی۔ آئی ایم ایف نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان معروضات کی وجہ سے ملکوں میں سماجی بے چینی میں اضافہ ہوگا۔ نہ صرف صحت کی سہولتوں کو وسعت دینا پڑے گی بلکہ بے روزگاری کو بڑھنے سے روکنے کے لیے امدادی سرگرمیاں بھی شروع کرنا ہوںگی ۔

آج کی دنیا میں کوئی بھی ملک اس وقت تک اقتصادی طورپر مستحکم نہیں ہوسکتا جب تک وہاں سیاسی استحکام نہ ہو۔چناں چہ ملک کے موجودہ سیاسی حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی اسٹیک ہولڈ رز خِطّےاور داخلی صورت حال کو اپنی سیاست کا محور بناتے ہوئے دوراندیشی پر مبنی فہم وفراست سے کام لیں۔ہمارا بہت سا قیمتی وقت بے مقصد بلیم گیم میں ضایع ہو چکا ہے اورہورہا ہے۔

بلاشبہ کووِڈ۔اُنّیس نے پاکستان سمیت ہر ملک کے ہر شعبے کو شدید جھٹکے دیے اور ایسے چیلنجز سامنے آئے ہیںجن سے 2021میں نمٹنا کوئی آسان کام نہیں ہوگا ، ہمارے عوام کی خواہشیں توپہلے ہی غربت،منہگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے دم توڑ چکی ہیں۔لیکن ایسے میں تناؤ کا اعصاب شکن عفریت بائیس کروڑ ہم وطنوں کو حصار میں جکڑے ہوئے ہے۔عجیب کھینچا تانی کا سلسلہ جاری ہے۔

ایک جانب ملکی معیشت کی بہتری کے دعوے ہیں اور دوسری جانب عوام بہ دستور منہگائی اوربے روز گاری کی اندھی گلی میں دیواروں سے ٹکریں مار رہے ہیں ۔ وہ نیا پاکستان بننے کے شدّت سے منتظر ہیں ۔ ایسا پاکستان جس میں عوام کوآسودگی ملے،منہگائی اور بے روزگاری ختم ہو، سیاست میں مستقل ٹھہراؤکی کیفیت پیدا ہو،ملک سیاسی ابتری کے حصار سے نکلے اور عوام اطمینان کا سانس لیں۔

عالمی بینک نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں کہا ہے کہ نو برسوں میں پاکستان کی محاصل سے ہونے والی آمدن بیاسی ارب ڈالرز سے زاید ہوسکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں نئے ٹیکس کے نفاذ اور ٹیکس کی شرح میں اضافے کے بغیر اس آمدن میں اضافہ ممکن ہے۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ اگر محاصل کی وصولی پچھہتّر فی صد تک بڑھ جائے تو پاکستان کی ٹیکس آمدن جی ڈی پی کے چھبّیس فی صد تک پہنچ سکتی ہے ۔ لیکن متعلقہ لوگ ممکنہ آمدن کا صرف آدھا ہی وصول کررہے ہیں۔دوسری جانب ماہرین کا موقف ہے کہ پائے دار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کےلیے پاکستان کو جی ڈی پی کاآٹھ فی صد سے زاید بنیادی ڈھانچے پر لگانا چاہیے۔

معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ہمیں انسانی وسائل کو بھی ترقی دینا ہوگی۔لیکن اس ضمن میں بری خبر یہ ہے کہ ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس ( ایچ ڈی آئی) کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان مزید پیچھے چلا گیا ہے اور189ممالک میں اس کا نمبر 152ہے۔ تشویش ناک امر یہ ہے کہ پاکستان کی درجہ بندی جنوبی ایشیا کے تمام ممالک میں کم تر ہے۔بھارت اور بنگلا دیش سمیت دیگر ممالک سےہمارا ایچ ڈی آئی 13فی صد اوسطا کم ہے۔ پاکستان نے2000سے2015کے عرصے میں بہتری دکھائی تھی، تا ہم اس کے بعد یہ عمل سست روی کا شکار ہو گیا۔

ملٹی ڈائی مینشنل پاورٹی انڈیکس ( ایم پی آئی)کے مطابق جنوبی ایشیا میں541ملین غریب افراد ہیں۔ان میںسےپچھہتّرملین پاکستان میں ہیں جن میں سےچالیس ملین بچے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہےکہ پاکستان میں ہر تین میں سے ایک بچہ غریب ہے۔ جنوبی ایشیائی خِطّے میں مالدیپ میں ایم پی آئی 0.8 فی صد اور افغانستان میں 56.9 فی صدہے۔ ایم پی آئی کی تعریف کے مطابق گیارہ فی صد جنوبی ایشیائی بچیاں بہت غریب ہیں اور وہ اسکول سے باہر ہیں ، لیکن پاکستانی بچیوں کے حوالے سے یہ تعداد ستّائیس فی صد ہے۔ جنوبی ایشیامیں چار سال تک کے بچوں میں گھروں میں غذائیت میں عدم مساوات کی شرح تیئس فی صدہے لیکن پاکستان میں یہ تینتیس فی صد ہے ۔

ہمیں اب اس دھوکے سے نکل آنا چاہیے کہ قرض کی مے پی کر ہم آگے بڑھتے رہیں گے،کیوں کہ اب مسائل کی نوعیت اور جہتیں بہت بدل چکی ہیں۔پاکستان، ایف اے ٹی ایف کی کڑی نگرانی میں بھی ہے۔جاری خسارہ ،قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ،قرضوں پر سود کی ادائیگی،کرنسی کی گرتی ہوئی قدر، برآمدات کے شعبے میں بہت معمولی سا اضافہ، مینوفیکچرنگ کے شعبے کی زبوں حالی،عالمی منڈیوں میں ہمارے مال کے نرخ مسابقت کے قابل نہ ہونے وغیرہ جیسے مسائل بھی ہماری ترقی کا پہیہ روکے ہوئے ہیں۔

یہ وبا پھلنے سے قبل ہی چین کی اقتصادی شرحِ نمو میں کمی نے دنیا بھر پر اثرات مرتب کیے تھے۔خود چین میں سپلائی چین اس وبا سے بری طرح متاثر ہوئی ،لیکن اب وہاں بڑے تجارتی اور صنعتی اداروں کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔ تاہم چھوٹےاور درمیانے درجے کے اداروں اور کاروبارکی بحالی کی رفتار سست ہے۔یاد رہے کہ ایس ایم ایز کا چین کے جی ڈی پی میں ساٹھ فی صد اور ذرایع روزگار میں اسّی فی صد حصہ ہے۔

دوسری جانب 2008کے عالمی اقتصادی بحرا ن کے بعد دنیا کی اہم معیشتوں کےمرکزی بینکس کی معیشتوں کو تحریک دینے کی طاقت کم ہوچکی ہے،ان کی شرحِ سود پہلے ہی بہت کم ہے اور زیادہ تر بڑی معیشتوں کو اپنے سالانہ میزانیے میں بہت بڑے خسارے کا سامنا ہے۔ان حالات میں چین کا متبادل تلاش کرنے کی کوششیں کم ہی کی جاسکیں گی۔تاہم کچھ حد تک ایسا ہوگا ۔ ایسے میں جنوب مشرقی ایشیا پیداوار کے لیے متبادل پلیٹ فارم مہیا کرسکتا ہے۔

لیکن جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک میں اس ضمن میں دو مسائل بہت اہمیت کے حامل ہیں ۔ پہلا مسئلہ اس کام کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے کا اور دوسرا تربیت یافتہ افرادی قوت کا ہے جن پر ان ممالک کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔پھر یہ کہ ان ممالک کو محاصل،محنت کشوں سے متعلق قوانین اور نظامِ انصاف سے متعلق انتظامی حدود و قیودکوکاروباردوست بناناہوگا ۔ اس کےعلاوہ امریکا کے سیکیورٹی سے متعلق خدشات دور کرنا ہوں گے۔اس وبا کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک کے لیےاقتصادی فوایدکے بعض امکانات پیدا ہوئے ہیں لیکن ہماری حالت اتنی پتلی ہے کہ یہاں اس بارے میں کچھ سوچنا ممکن ہی نہیں ہے۔

سیاسی اثرات

اقتصادی بد حالی سیاسی بے یقینی بڑھاتی ہے۔ایشیا میں 1997 میں آنے والا اقتصادی بحران انڈونیشیا میں اس وقت کے صدر، سوہارتو کےزوال کا سبب بنا تھا۔ ملائیشیا میں اس وقت کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے اپنے نائب وزیر اعظم ،انور ابراہیم کو برطرف کرکے جیل بھیج دیا تھا۔تھائی لینڈ میں اس بحران کے ملک کی معیشت اور سماجی نظام پر پڑنے والے اثرات اس نوعیت کے تھے کہ وہاں تھاکسن شناوترا کی صورت میں ایک غیر روایتی راہ نما اقتدار میں آگیا تھا،جس کی وجہ سے وہاں کی روایتی سیاسی اشرافیہ میں بے چینی اور غصہ پیدا ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں دو مرتبہ تحتہ الٹا گیا۔دو عشرے گزرجانے کے باوجود ان تبدیلیوں کی قیمت یہ ممالک خود ہی ادا کررہے ہیں۔تاہم موجودہ حالات میں انڈونیشیا،ملائیشیا ،تھائی لینڈ،ویت نام اور فلپائن (جو آسیان کے رکن ممالک ہیں)چین کے متبادل کی تلاش کی کوششوں کے نتیجے میں ممکنہ طورپر فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔

انڈونیشیا،ملائیشیا اورتھائی لینڈمیں سیاسی منظر نامہ پہلے ہی کشیدہ نظر آتا ہے۔ فلپائن میں 2022میں انتخابات ہونے ہیں،لیکن وہاں سیاسی صورت حال غیر یقینی ہے۔ صرف برونائی، سنگاپور، لاوس اور ویت نام آسیان کے ایسے رکن ممالک ہیں جن کے بارے میں کسی حد تک اعتماد سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہاں بنیادی سیاسی استحکام رہے گا۔لیکن اس خِطّے کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ ممکنہ مواقعے سے بہت زیادہ فائدہ اٹھاسکیں گے۔

اگرچہ ملک میں نئی حکومت کے قیام کوڈھائی برس ہی گزرے ہیں،لیکن بعض سیاسی جماعتیں اسے ہٹانے کی کوشش میں کافی آگے تک جاچکی ہیں۔لیکن ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہورہا۔خود ہمارے موجودہ وزیرِ اعظم کی جماعت بھی ماضی میں اسی طرح کی سیاست کرچکی ہے ۔ اس سے قبل بے نظیر بھٹو اورمیاں نوازشریف کی سیاسی جماعتیں بھی اقتدار کے ایوانوں میں ایسا ہی کھیل کھیلتی رہی ہیں ۔ 

لہذا ان میں سےکبھی کسی کی حکومت محض اٹھارہ ماہ میں اورکبھی ڈھائی برس میں چلتا کردی گئی ۔ لیکن پھر ان جماعتوں نے وقت سے زیادہ نہیں تو تھوڑا بہت سبق سیکھا۔چناں چہ بعد کے دور میں پہلے آصف علی زرداری کی قیادت میں پی پی پی کی حکومت نے اپنی میعاد پوری کی اورپھر نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ نون کی حکومت نے بھی ایسا ہی کیا۔لیکن پھر سیاست کے میدان میں پاکستان تحریکِ انصاف ایک نئے اورطاقت ور سیاسی حریف کے طورپر ابھر کرسامنے آگئ۔اس مظہرنے دونوں پرانی جماعتوں کو سخت مشکلات سے دوچار کر دیا ۔

آج ملک میں تحریکِ انصاف کی حکومت ہے اوردونوں پرانی جماعتیں حزبِ اختلاف کا حصہ ہیں ۔ جمہوری معاشروں میں یہ کوئی نئی بات نہیں ہوتی ۔ لیکن ہم ماضی میں جیسی جمہوریتوں اور آمریتوں کا سامنا کرچکے ہیں انہوں نے ہمارے سیاسی اور سماجی لباس کو تار تار کردیا ہے۔چناں چہ ہمارے ہاں مثالی جمہوری روایات کا فقدان نظر آتا ہے۔دراصل یہ روایات چند برسوں میں نہیں بلکہ دہائیوں میں پنپ پاتی ہیں ۔سیاسی استحکام ، جمہوری ادادروں کا تسلسل،وقت،حالات،تاریخ کا جبر ، سیاست دانوں کا ذہنی اور فکری معیاروغیرہ اس ضمن میں بہت اہم کردار اداکرتے ہیں۔

آج اگر پاکستان میں ابتری، انتشاراور بے یقینی کی کیفیت ہے تو اس کا ذمے دار کسی ایک فرد،سیاسی جماعت یا کسی ایک ادارے کو قرار دیناشاید مکمل انصاف نہیں ہو گا ۔عوام کا بھی اس میں کچھ حصہ ہے۔لیکن اندرون اور بیرون ملک سے درپیش چیلنجز ہمیں یہ چیخ چیخ کر بتارہے ہیں کہ اب ہمیں بہت تیزی سے اپنی اصلاح کرنی ہوگی ، کیوں کہ اب جو طوفان ہماری جانب اُمڈ رہے ہیں وہ پہلے کی طرح تنکوں سے ٹلنے والے نہیں ہیں۔

وقت کاتقاضا ہے کہ سیاسی راہ نما دیدہ وری سے کام لیں۔ قوم درست طورپر یہ سمجھتی ہے کہ ملک کواکہتّربرس کے سیاسی مغالطوں، جمہوری مبالغہ آرائیوں، منافقت، ریا کاری اور جمہوریت سے انحراف کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔چناں چہ اب لازم ہے کہ اہلِ اقتدار سیاست میں اجتماعیت اورقومی مفاد کو پیش نظررکھیں، کشیدگی اور محاذ آرائی سے بچیں اورکشادہ دلی کے ساتھ مشترکہ جمہوری رویوں کو فروغ دینے کی مثالیں قائم کریں اوران چیلنجز کا ادراک کریں جوخِطّے کو لاحق ہیں۔

سیاست اورمعیشت کا بحران جاری ہے۔ جمہوری قوتوں کو ایک مستحکم ، آسودہ ، معتدل اور متوازن پالیسیوں کی سمت کا انتظار ہے۔ تاہم اب تک حکومت اس تاریک سرنگ سے باہر نکلنے میں کام یاب نہیں ہوسکی ہے جس کے آخری سرے پر عوام کو اقتصادی ریلیف کی کوئی کرن نظر آتی ہے۔بہ ظاہر عالمی ، علاقائی معاملات ، سیاسی قربتیں ،بین الاقوامی تعلقات ، سفارت کاری اور تجارتی رابطے معمول کے مطابق چل رہے ہیں، لیکن بنیادی سوال پی ٹی آئی کی حکومت کے انصاف ، تبدیلی، ترقی اور خوش حالی کے اہداف کے حصول کا ہے۔

دوسری طرف اپوزیشن کا کہنا ہے کہ نئے انتخابات کے مطالبے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا اور بحران کا حل حکومت کا خاتمہ ہے۔ چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی، بلاول بھٹوکا کہنا ہے کہ آیندہ کسی سلیکٹڈ کو قبول نہیں کیاجائے گا۔مسلم لیگ ن کے راہ نماوں کا کہنا ہے کہ حکومت ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ حقیقت میں خطرات کا دائرہ خِطّے کے سیاق وسباق میں کثیر جہتی اندیشوں سے عبارت ہے۔

پاکستان کو اگرچہ کئی دیگر چیلنجز بھی درپیش ہیں، لیکن اگر ہم اس برس درج بالا مسائل پر قابو پانے یا ان کی شدّت مناسب حد تک کم کرنے میں کام یاب ہوجاتے ہیں تو بہت سے دیگر مسائل کی جڑیں خود بہ خود کٹ جائیں گی۔

انصاف اور پارلیمانی امور

تحریکِ انصاف کی حکومت کو2021میں یہ یاد رکھنے کی اشد ضرورت ہے کہ ریاست مدینہ میں انصاف کی بلا امتیاز اور بروقت فراہمی کو بہت زیادہ اہمیت حاصل تھی۔ انصاف کے بعد احتساب اور پھر قانون سازی کے مسائل بھی حکومت کے سامنے منہ کھولے کھڑے ہیں ۔ نیب کی جانب سے کیا جانے والا احتساب اب تو عدالتوں میں بھی مذاق قرار پانے لگا ہے، پھر اس سےکچھ خاص حاصل وصول بھی نہیں ہورہا۔

قانون سازی کے بجائے صدارتی فرمانوں سے کام چلانے کی پچھلی حکومتوں والی پالیسی اپنالی گئی ہے ۔ پارلیمان میں وفاقی میزانیے کی منظوری،آرمی چیف کی مدت ملازمت اور فیٹف کے بارے میں قانون سازی کے علاوہ اب تک کو ئی خاص قانون سازی نہیں ہوسکی ہے اور مستقبل قریب میں ایسا ہونے کے امکانات بھی نظر نہیں آرہے۔ 

وجہ یہ ہے کہ پارلیمان کا ہر اجلاس چور ، لٹیرے، ڈاکو، بدعنوان،ملک کو لوٹنے والے، احتساب، نیب،وغیرہ وغیرہ سے شروع ہوتا ہے اور اسی طرح کی جوابی غزل پر ختم ہوجاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا ان حالات میں ملک پائے دار ترقی کرسکے گا؟اس کا جواب نفی میں ہے۔البتہ کام چلاونوعیت کی لیپا پوتی ہوتی رہے گی۔

جیو پالیٹکس اور خارجہ امور

جب یہ وبا دنیا سے ختم ہوگی تو امریکا،اس کے اتحادیوں اور چین کے درمیان طاقت کے توازن کی نسبت میں کوئی بنیادی تبدیلی ہوتی نظرنہیں آرہی۔ان کے درمیان جاری تزویراتی مقابلہ،اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی پے چیدگیاں اور ان کی وجہ سے جنوب مشرقی ایشیا کی راہ میں حائل رکاوٹیں بھی شاید پہلے ہی کی طرح رہیں گی۔امریکا اور چین پہلے ہی کی طرح با اثر علاقائی کردار رہیں گے جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔تاہم دونوں میں اعتماد میں کمی آچکی ہے۔

ادہرہمارا ازلی دشمن بھارت، پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے مہم جوئی کر رہا ہے۔ اس نے مقبوضہ کشمیرکو کشمیریوں کے لیے جیل خانہ بنا دیاہے ۔ مودی کی حکومت بھارت کو تیزی سے ہندوتوا کے فلسفےکی راہ پر لے جارہی ہے۔اس نے شہریت کے نئے قانون کے ذریعے مسلمانوں کے گرد ہندو انتہا پسندوں کا گھیرا مزید تنگ کردیا ہے۔

چین کے علاوہ خطّےکے زیادہ تر ممالک سے پاکستان کے روابط کوئی زیادہ اچھے نہیں کہے جاسکتے۔ ان ممالک میں افغانستان، ایران، بھارت اور بنگلا دیش شامل ہیں۔ عرب ممالک سے بھی، جو ہمارے دیرینہ حلیف ہیں، بہت زیادہ توقّعات وابستہ رکھنا دانش مندی نظر نہیں آتی۔ مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر ہم ان کا ردعمل دیکھ ہی چکے ہیں۔

یہ درست ہے کہ خلیجی ممالک پاکستانی تارکینِ وطن کو روزگار فراہم کرنے کا ایک بڑا ذریعہ رہے ہیں،لیکن ہم نے انہیں اپنے اندرونی معاملات میں غیر ضروری طور پر ملوث کر کے خود کو خاصا نقصان پہنچایا ہے ۔ اس کے برعکس بھارتی وزیرِ اعظم، نریندر مودی نے عرب ممالک کے دوروں کے دوران بھارتی باشندوں کے لیے ہم دردیاں حاصل کر لی ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ خلیجی ممالک میں موجود پاکستانی تارکینِ وطن کا ماننا ہے کہ اب وہاں ہر شعبے میں بھارتی تارکینِ وطن غلبہ حاصل کر رہے ہیں اور پاکستانیوں کے لیے روزگار کے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں۔

ادہرٹرمپ کے دور میںامریکا کا جو چہرہ سامنے آیا وہ بہت مختلف ہے۔امریکا کا مسئلہ صرف پاکستان ہی کے ساتھ نہیں بلکہ پوری دنیا کے ساتھ ہے۔ جس طرح سے امریکااب اپنے آپ کو دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے وہ پہلے سے بہت مختلف ہے۔پہلے وہ سپر پاور ہونے کے ناتےدنیا کے ایشوز کو سنبھالتا اور انہیں نمٹاتا تھا،لیکن اب وہ خود ایشوز بنا رہا ہے اور پہلے سے موجودمسائل کو گمبھیر بنارہا ہے یا ان میں کوئی دل چسپی نہیں رکھتا۔پاکستان کے لیے فائدہ اس میں ہے کہ وہ امریکاکے ساتھ ایک حد تک تعلقات کو باہمی احترام کے تحت برقرار رکھے،کیوں کہ یہ ہمارے حق میں بہتر نہیں ہو گا کہ ہمارے تعلقات امریکا کے ساتھ دوستانہ نہ ہوں۔

عمران خان کی حکومت پر لازم ہے کہ وہ ملک کی خارجہ پالیسی کو ذمے دارانہ طریقے سے چلائے۔وہ دنیا کو باور کرائے کہ پاکستان ایسا ملک ہے جو نہ صرف اپنے ہاں امن چاہتا ہے بلکہ خطے میں بھی۔ اور خاص طور پر افغانستان میں مثبت کردار ادا کر بھی سکتا ہے اور اس کا خواہش مند بھی ہے۔افغانستان کے بارے میں ہم نے اب جو رویہ اپنایا ہے وہ کسی حد تک درست کہا جاسکتا ہے۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا منصوبہ پاکستان کے لیے بہت اہم ہو گیاہے۔ ایسے میں یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کیا پاکستان کے لیے امریکا کو راضی رکھنا اہم ہے؟اس کے جواب میں ہمیں صرف یہ اصول یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کو کسی ملک کو راضی نہیں کرنا چاہیے بلکہ جمہوری ملک ہونے کے ناتے اپنے عوام کو راضی کرنا چاہیے،کیوں مطمئن قومیں آگے بڑھنے کا راستہ ہر حال میں ڈھونڈ ہی لیتی ہیں۔اگر آپ صحیح جگہ پر کھڑے ہوں اور آپ کو معلوم ہو کہ کس نکتےپرسمجھوتا نہیں کرنے میں پاکستان کا فائدہ ہے تو دنیا بھی سمجھ جاتی ہے اوروہ آپ پر بلا وجہ دباؤ ڈالنا بند کر دیتی ہے۔

شام،یمن اور قطر کے معاملے میں ہم نے ماضی میں مناسب پالیسی اختیار کی جس کی وجہ سے بعض جبینوں پر بل تو پڑے ،لیکن ہم بہت سے بین الاقوامی الجھاواور اندرونی خلفشار سے بچ گئے۔کسی بھی ریاست سے ہمارےتعلقات خوا ہ کسی بھی نوعیت کے ہوں ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کسی کی پراکسی یا کلائنٹ ریاست نہیں ہے۔

ہمارا دنیا اور اس خطے میں ایک جیو پولیٹیکل مقام ہے۔ہمارے بعض راہ نماوں نے خود پاکستان کی عزت اور وقار بیچنے کی کوشش کی،لیکن وہ راہ نماوں کی غلطی تھی، ملک اور ریاست کی نہیں۔ہمیں ترکی اور ملائیشیا سے تعلقات بڑھانے کے ضمن میں بھی یہ نکتہ ذہن نشین رکھنا چاہیے اور ان ممالک کے ساتھ تعلقات کی نئی منزلیں چڑھنا چاہیے۔

تمام تر تلخیوں اور بری یادوں کے باوجود بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت دیگر مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کے دروازے بالکل کھل سکتے ہیں۔لیکن یہ عمل دو طرفہ کوششوں کا متقاضی ہے نہ کہ یک طرفہ۔مذاکرات کے ذریعے اس سے بڑے بڑے مسئلے دنیا میں حل ہو چکے ہیں۔ اگر کشمیریوں کی امنگوںاور خواہشات کو مد نظر رکھیں تو ہمارے لیے یہ مسئلہ حل کرنا مشکل نہیں ہے۔ لیکن بدقسمتی سے بھارت پوری دنیا کو اپنا نہایت گھناؤنا چہرہ دکھا رہا ہے۔

ہماری بقا کو سب سے بڑا خطرہ بھارت سے لاحق رہتا ہے، لیکن دنیا کے حالات اس نوعیت کے ہوچکے ہیں کہ مستقبل قریب میں بھارت سے کسی بڑی جنگ کا خطرہ نظر نہیں آتا۔البتہ اس کی ریشہ دوانیاں جاری ہیں اور آئندہ بھی جاری رہ سکتی ہیں۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب وہ ہمیں ’’دہشت گردی‘‘ کے زمرے میں لپیٹنا چاہتا ہے، وہ جعلی سرجیکل اسٹرائیکس اورفالس فلیگ آپریشنز کر کے دنیا کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی تربیت کے مراکز قائم ہیں۔لیکن وہ اب تک اس کوشش میں کام یاب نہیں ہوسکا ہے۔

افغانستان کی سرحد سے بھی اب پہلے والے خطرات نہیں رہے ہیں۔بیرونی خطرات کے ضمن میں ہمیں اصل خطرہ خراب سفارت کاری سے ہے،جسے ہمیں لازما بہتر بنانا ہوگا، ورنہ ہم عالمی برادری کے سامنے جیتے ہوئے کیسز بھی ہارجائیں گے۔