آپ آف لائن ہیں
بدھ6؍ جمادی الثانی 1442ھ 20؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سینیٹ اوپن بیلٹ کیس، پارٹی کیخلاف ووٹ بےایمانی، سیاسی معاملات حل کرنا پارلیمنٹ کا کام، سپریم کورٹ، عدالت ایسے معاملات میں رائےدیتی رہی ہے، اٹارنی جنرل

سیاسی معاملات حل کرنا پارلیمنٹ کا کام، سپریم کورٹ


اسلام آباد(نمائندہ جنگ)عدالت عظمیٰ میں وفاقی حکومت کی جانب سے سینیٹ کے انتخابات کیلئے کھلے عام رائے شماری کا طریقہ کار رائج کرنے کے حوالے سے ذیلی قانون سازی سے متعلق قانونی و آئینی رائے کے حصول کیلئے دائر کئے گئے صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دئیے ہیں کہ خفیہ ووٹنگ میں پارٹی پالیسی کیخلاف ووٹ دینا بے ایمانی ہو گی، سیاسی معاملات حل کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت ایسے معاملات میں رائے دیتی رہی ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دئیے ہیں کہ سپریم کورٹ آئین کی محافظ ہے اخلاقیات کی محافظ نہیں ہے، آئین کے آرٹیکل 226 کا اطلاق ہو تو مخصوص نشستوں کے انتخابات منعقد ہو ہی نہیں سکتے ہیں،قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات قانون کے تحت ہوتے ہیں۔ 

جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ اخلاقی اور سیاسی معاملے پر عدالت اپنی رائے کیوں دے، سیاسی معاملات حل کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے، پارلیمنٹ سے رجوع کرے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آرٹیکل 226 واضح ہے،وزیراعظم،وزیراعلیٰ کے سوا تمام الیکشن خفیہ ووٹنگ سے ہونگے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب سینیٹ کیلئے ایم پی اے کا ڈالا گیا ووٹ آزاد نہیں ہو سکتا تو پھر بیلٹنگ بھی خفیہ نہیں ہو سکتی۔ ریفرنس میں حکومت بلوچستان نے بھی اپنا جواب داخل کروادیاہے جس کے مطابق حکومت بلوچستان بھی اس ریفرنس کی حمایت کرتی ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس مشیر عالم ،جسٹس عمر عطا بندیال ،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس یحی آفریدی پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بینچ نے پیر کے روز آئین کے آرٹیکل 186کے تحت دائر کئے گئے صدارتی ریفرنس کی سماعت کی تو وفاق پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے موقف اپنایا کہ وفاقی حکومت یہاں پر صرف رائے لینے آئی ہے۔

اگر عدالت عظمیٰ کی رائے ہمارے حق میں بھی آ جائے تو بھی حتمی فیصلہ پارلیمنٹ نے ہی کرنا ہے، تمام قوانین آئین کے مطابق بنائے گئے ہیں،مخصوص نشستوں پر پارٹیاں نمائندگی کی فہرست دیتی ہیں۔

رکن صوبائی اسمبلی تجویز اور تائید کنندہ ہوں تو آزاد امیدوار سینیٹ الیکشن لڑ سکتا ہے،پارٹی پالیسی کیخلاف ووٹ دینے پر نااہلیت نہیں ہو سکتی ہے، عام شہری کا ووٹ آزاد ہوتا ہے لیکن ایم پی اے کا سینیٹر کو دیا گیا ووٹ آزاد نہیں ہوتا ۔ 

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے انتخابات الیکشن کمیشن اور الیکشن ایکٹ میں واضح نہیں ہیں،آئین کے آرٹیکل 60 میں چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کا ذکر ہے،آرٹیکل 266 کے تحت اسپیکر اور چیرمین سینیٹ کا انتخاب خفیہ ووٹنگ سے ہو گا۔ 

وزیراعظم، اسپیکر، چیئرمین سینیٹ کے انتخابات الیکشن ایکٹ کے تحت منعقد نہیں ہوتے۔انہوں نے کہاکہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے انتخابات آئین کے تحت نہیں منعقد ہوتے ہیں، قانون کے تحت ہونے والے انتخابات کا باب ہی الگ ہے۔ 

بنچ کے اٹھائے گئے سوال پرانہوں نےکہا کہ اگر رکن صوبائی اسمبلی تجویز اور تائید کنندہ ہوں تو آزاد امیدوار بھی سینیٹ کا انتخاب لڑ سکتا ہے،تاہم پارٹی پالیسی کیخلاف ووٹ دینے پر کسی رکن کی نااہلیت نہیں ہو سکتی ہے۔ 

عام شہری کا ووٹ آزاد ہوتا ہے لیکن ایم پی اے کا سینیٹر کو دیا گیا ووٹ آزاد نہیں ہوتا،جب سینیٹ کیلئے ایم پی اے کا ڈالا گیا ووٹ آزاد نہیں ہو سکتا تو پھر بیلٹنگ خفیہ بھی نہیں ہو سکتی۔ 

انہوں نے سپریم کورٹ کی جانب سے صدارتی ریفرنس پر رائے دینے کے حوالے سے نظائر پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے سے متعلق قومی اسمبلی کی قراردادکے حوالے سے بھی سپریم کور ٹ اپنی رائے دے چکی ہے،اگر اس وقت یہ بات درست تھی تو پھر یہاں بھی ٹھیک ہے۔

میں ایسی گیارہ مثالیں دے سکتا ہوں کہ مختلف مقدمات میں اس عدالت نے سیاسی پہلوئوں کی موجودگی کے باوجود فیصلے جاری کئے ۔ فاضل عدالت نے اراکین پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلیز کی دہری شہریت کے حوالے سے دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کے دوران اس حوالے سے رائج قوانین کی تشریح کرتے ہوئے متعدد اراکین کو عوامی عہدہ کیلئے نااہل قراردیا تھا۔ 

انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت ووٹوں کی خریدوفروخت روکنے اور سینیٹ کے انتخابات کے انعقاد میں شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے سپریم کورٹ میں آئی ہے ۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جو بات آپ کر رہے ہیں وہ اخلاقی نوعیت کی ہے قانونی نوعیت کی نہیں ہے ،کسی بھی ممبر صوبائی اسمبلی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی امیدوار کے حق میں ووٹ ڈال سکے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خفیہ ووٹ کے ذریعے کسی اور پارٹی کے امیدوار کو ووٹ ڈالنا بدیانتی ہے، پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والے رکن میں اتنی اخلاقی جرات ضرور ہونی چاہیے کہ کھلے عام کہے میں نے پارٹی ڈسپلن کیخلاف ووٹ دیاہے۔ 

انہوں نے کہاکہ آئین کا آرٹیکل 226 واضح ہے۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے علاوہ تمام الیکشن خفیہ ووٹنگ سے ہونگے، آئین کے آرٹیکل 53 اور 60 میں کوئی ذکر نہیں ہے کہ اوپن بیلٹ سے انتحابات ہونگے یا خفیہ انتخاب ہو گا؟ 

چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ آئین کی محافظ ہے اخلاقیات کی نہیں،آرٹیکل 226 کا اطلاق ہو تو مخصوص نشستوں کے انتخابات ہو ہی نہیں سکتے۔

قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن قانون کے تحت ہوتے ہیں جبکہ جسٹس یحی ٰ آفریدی نے متعدد قانونی نقاط اٹھاتے ہوئے کہا کہ صدارتی ریفرنس میں اٹھایا گیا سوال قانونی نوعیت کا ہے لیکن اس کا نچوڑ اخلاقی ہے جبکہ معاملہ سیاسی ہے،آپ کے مقدمے کا محور اخلاقیات پر مبنی ہے جبکہ معاملہ سیاسی نوعیت کا ہے، حکومت عدالت سے کیوں رائے مانگ رہی ہے، پارلیمنٹ سے رجوع کرنا چاہیئے۔

قبل ازیں بلوچستان حکومت نے بھی صدارتی ریفرنس اوپن بیلٹ سے کرانے کی حمایت کرتے ہوئے اپنا تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا، بعد ازاںکیس کی مزید سماعت آج تک ملتوی کر دی گئی ،آج بھی اٹارنی جنرل کے دلائل جاری رہیں گے۔

اہم خبریں سے مزید