آپ آف لائن ہیں
بدھ6؍ جمادی الثانی 1442ھ 20؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

واشنگٹن میں ہنگامی حالت نافذ، کانگریس کی عمارت سے حساس معلومات چوری ہونے سے قومی سلامتی پر خدشات

واشنگٹن ( نیوز ڈیسک) امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی۔ خبررساں اداروں کے مطابق وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ منگل کے روز صدر ٹرمپ نے آیندہ ہفتے صدر کی حلف برداری اور انتخابی مراحل کی تکمیل تک 24 جنوری تک واشنگٹن میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے منگل کے روز واشنگٹن ڈی سی میں ہنگامی صورتحال کا اعلان کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ سبکدوش ہونے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر مائیک پنس نے پیر کی شام وہائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ملاقات کی۔ عہدے دار نے کہا کہ دونوں رہنمائوں میں مثبت گفتگو ہوئی۔ ڈیموکریٹس آئین میں پچیسویں ترمیم کے تحت ٹرمپ کے مؤاخذے کے لیے پنس پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ امریکی حکام کیپٹل ہل پر تشدد کے تناظر میں جو بائیڈن کی حلف برداری تقریب کی سیکورٹی کے لیے فوج تعینات کر رہے ہیں، جب کہ ایف بی آئی نے 20 جنوری تک ملکی سطح پر منصوبہ بند مسلح مظاہروں کا انتباہ جاری کیا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تقریب کے لیے سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کا فیصلہ کیا ہے۔ ہوم لینڈ سیکورٹی کے کارگزار سیکرٹری چاڈ اولف نے پیر کے روز اپنے استعفے سے محض چند گھنٹے قبل کہا تھا کہ انہوں نے امریکی خفیہ سروس سے کہا ہے کہ وہ 13 جنوری سے ہی نیشنل اسپیشل سیکورٹی کی تعیناتی کے عمل کا آغاز کر دے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے کے واقعات اور تقریب تک سیکورٹی کی بدلتی صورت حال کے پیش نظر اصل منصوبے کے برعکس ایک ہفتہ قبل ہی خصوصی سیکورٹی کے بند و بست کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پیر کے روز کیپٹل ہل کی سیکورٹی کے لیے نیشنل گارڈ بیورو سے 15 ہزار مزید فوجیوں کو واشنگٹن بھیجنے کا کہا گیا ہے۔ جب کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے تشدد کے بعد 6200 نیشنل گارڈ پہلے ہی سے واشنگٹن میں تعینات ہیں۔علاوہ ازیں امریکی دارالحکومت میں 6 جنوری کو کانگریس کی عمارت پر ہنگامہ آرائی کے دوران اپنی ویڈیو بنانے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایتی قانون ساز نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے جب کہ توڑ پھوڑ کرنے کے الزام میں مزید افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ویسٹ ورجینیا کے ʼہاؤس آف ڈیلی گیٹس کے رکن ڈیرک ایونز نے ہفتے کو ریاست کے گورنر کو لکھے گئے ایک جملے کے خط میں اپنا استعفیٰ پیش کیا۔دوسری جانب امریکی ٹی وی چینل NBC نے اعداد و شمار کی بنیاد پر بتایا ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے 200 سے زیادہ ارکان ایسے ہیں جو کیپٹول کی عمارت پر دھاوے کے تناظر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی معزولی کے حامی ہیں۔ یہ تمام ارکان ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں یا پھر آزاد ارکان ہیں۔اس سلسلے میں امریکی آئین میں موجود 25 ویں ترمیم کا سہارا لینے پر غور کیا جا رہا ہے جس کے مطابق اگر صدر اپنی ذمے داریاں انجام دینے سے قاصر ہو تو اس صورت میں اقتدار نائب صدر کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔واشنگٹن میں کیپٹول کی عمارت پر دھاوےکے اثرات کا سلسلہ جاری ہے۔واضح رہے کہ ایونز کو کیپٹل ہل کی گراؤنڈ کے ممنوعہ علاقے میں گھسنے اور بد نظمی پھیلانے کے الزامات کاسامنا ہے۔ان خلاف ورزیوں کے مرتکب ہونے کی صورت میں ایونز کو وفاقی جیل میں ڈیڑھ سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایونز نے کہا ہے کہ وہ اپنے کیے پر معافی کے طلب گار ہیں۔حکام نے ریاست آرکنسا کے 60 سالہ شہری رچرڈ بارنٹ کو شہر لٹل راک سے جمعہ کی صبح گرفتار کر لیا ہے۔ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی کے دفتر میں گھسے تھے۔ان پر تین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ جن میں جان بوجھ کر کیپٹل ہل کے ممنوعہ حصے میں داخل ہونا، بد نظمی کا مظاہرہ کرنا اور سرکاری پیسے، املاک یا ریکارڈ کی چوری کے الزامات شامل ہیں۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیپٹل ہل پر اپنے حامیوں کے دھاوا بولنے کے بعد عدم اعتماد کی تحریک کے خدشے پر تمام الزامات اپنے حامیوں پر ڈال دیے ہیں جبکہ محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ کانگریس کی عمارت سے حساس معلومات چوری ہونے کے بعد قومی سلامتی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔دوسری جانب پولیس کا کہنا تھا کہ کیپٹل ہل میں کشیدگی کے دوران پولیس افسر برائین ڈی سکنیک زخمی ہوئے تھے، جو گزشتہ روز اسپتال میں دم توڑ گئے۔ اس سے قبل ایک خاتون اور ہنگامی اقدامات کے دوران مزید 3 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ٹرمپ نے اس واقعے کے بعد دنیا بھر سے ہونے والی مذمت اور ڈیموکریٹس کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک کے پیش نظر اپنے حامیوں کے اقدامات سے خود کو الگ کرلیا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے امریکی جمہوریت کو نقصان پہنچایا اور جو لوگ اس کشیدگی اور نقصان میں شامل تھے وہ ہمارے ملک کی نمائندگی نہیں کرتے، اور جنہوں نے قانون توڑا ہے ان کوسزا بھگتنا پڑےگی۔ ڈیموکریٹس کے ارکان 20 جنوری سے قبل ہی ٹرمپ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانا چاہتے ہیں، اور انہیں سینیٹ اور ایوان میں اکثریت حاصل ہے۔ڈیموکریٹس کے 3درجن سے زائد ارکان نے ٹرمپ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا مطالبہ کیا اور ان کہنا تھا کہ صدر کو مزید مہلت دی گئی تو آخری 2ہفتوں میں مزید نقصان پہنچائیں گے۔ دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کانگریس کی عمارت پر حملے کی فوجداری تحقیقات جاری ہیں۔ حکام نے ایک اعلان میں کہا ہے کہ سیکڑوں تفتیش کاروں کو کیپٹل ہل پر حملہ کرنے والے مجرموں کی شناخت اور انہیں گرفتار کرنے کی ذمے داری سونپی گئی ہے۔ دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے قائم مقام اٹارنی مائیکل شیرون نے کہا ہے کہ فیڈرل کورٹ نے ہنگامہ آرائی کرنے کے الزام میں 15 افراد کو نامزد کیا ہے، جب کہ 40 افراد پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔دوسری جانب صدر ٹرمپ کو ہٹانے کا مطالبہ شدت اختیار کر تا جارہا ہے، اسپیکر نینسی پلوسی نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کا عہدے پر مزیدرہنا امریکا کے لیے خطرناک ہے، ٹرمپ انتظامیہ اور کابینہ ارکان کے استعفوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، وزیر تعلیم بھی مستعفی ہو گئے۔حامیوں کا امریکی پارلیمنٹ پرحملہ ٹرمپ کے گلے پڑ گیا، صدارت کے لالے پڑ گئے۔ اسپیکر نینسی پلوسی نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کا عہدے پر رہنا امریکا کے لیے خطرناک ہے۔ نائب صدر اورکابینہ کو چاہیے کہ 25 ویں ترمیم بحال کر دیں۔ کابینہ 25 ویں ترمیم کو بحال کرتی ہے تو ٹرمپ کو فوری ہٹایا جا سکتا ہے۔ کانگریس صدر ٹرمپ کو ہٹانے کیلیے تیار ہے۔دوسری جانب ڈیموکریٹس اراکین کانگریس نے ٹرمپ کو ہٹانے کے لیے مواخذے کے بل پیش کردیا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے لیے ڈیموکریٹس نے 4 صفحات پرمشتمل مسودہ تیار کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈٹرمپ امریکی اداروں اور قومی سلامتی کے لیے بڑاخطرہ ہیں۔مسودے میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے جان بوجھ کرامریکیوں کو کیپٹل ہل پرحملے کے لیے اکسایا اس لیے ڈونلڈٹرمپ کو جلد عہدے سے برطرف کیا جائے۔

یورپ سے سے مزید