آپ آف لائن ہیں
بدھ6؍ جمادی الثانی 1442ھ 20؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بھارتی پنجاب میں سکھ کسانوں کا احتجاج، سندھ حکومت کے زمینداروں کی بہبود کیلئے اقدامات

بھارت میں حقوق کے لیے کسانوں کے احتجاج کا نتیجہ ہے یا سندھ سرکار کے سنہری اقدامات ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے کسانوں کو فائدہ دینے کے لیے وفاق سے ٹماٹر کی درآمد پر فوری پابندی لگانے کا مطالبہ اور پیاز کی برآمد کے لیے اقدامات کرنے کے لیے وفاق کو خط لکھ دیا ہے۔

سندھ میں زراعت کے صوبائی وزیر اسماعیل راھو کی جانب سے وفاقی حکومت کو بھیجے گئے خط میں اس سلسلے میں فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر کے مطابق اس سال ملک میں پیاز اور ٹماٹر کی فصلوں کی پیداوار میں صوبہ سندھ پہلے نمبر پر ہے اور صوبہ بھر میں پیاز اور ٹماٹر کی فصلوں کی کٹائی شروع ہوگئی ہے۔

اسماعیل راہو کے مطابق سندھ میں اس سال پیاز اور ٹماٹر کی بہت اچھی پیداوار متوقع ہے۔ ٹماٹر کی درآمد اور پیاز کی برآمد نہ ہونے کی وجہ سے ان دو اہم زراعی اجلناس کی قیمتوں میں تشویشناک کمی واقع ہوئی ہے۔ لہذا کسان اپنی پیداوار کی مناسب قیمت وصول نہیں کر پارہے۔

اسماعیل راہو کے مطابق کسان ٹماٹر کی درآمد پر پابندی لگانے کے لیے سندھ کے کئی شہروں میں احتجاج بھی کر چکے ہیں۔ لہذاٰ وفاق اقدامات کرے۔ خط کے مطابق گزشتہ سال 20-2019 میں صوبے کے 57900 ہیکٹر رقبے پر پیاز کی کاشت ہوئی تھی، جس سے 782،140 میٹرک ٹن پیداوار ہوئی۔

رواں سال 2020:21 کے دوران سندھ میں 58،200 ہیکٹر پر پیاز کی فصل کاشت کی گئی ہے۔ خط کے مطابق گزشتہ سال 2019:20 کے دوران 22,542 ہیکٹر پر ٹماٹر کی کاشت کی گئی تھی۔ جس میں 164،658 میٹرک ٹن ٹماٹر پیدا ہوا تھا۔

اسماعیل راہو کے مطابق رواں سال 2020:21 کے دورانیہ میں سندھ میں ٹماٹر کی فصل کی کاشت 30,000 ہیکٹر پر کی گئی ہے۔ وزیرزراعت کے مطابق وفاقی حکومتی کی ناقص پالیسی کےسبب مقامی کسانوں کو انکی فصل کی لاگت بھی نہیں مل رہی ہے۔ ٹماٹر کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائےجائے۔

انہوں نے وزارت تجارت اور وزارت فوڈ سیکورٹی سے پیاز کی ایکسپورٹ کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

قومی خبریں سے مزید