آپ آف لائن ہیں
اتوار22؍ رجب المرجب 1442ھ 7؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’’مستجابُ الدعوات‘‘ جن کی دعائیں قبول ہوتی ہیں

مولانا حافظ عبد الرحمٰن سلفی

’’مستجابُ الدّعوات‘‘یعنی وہ خوش نصیب اور عظیم المرتبت افرادجن کی دعائیں خصوصیت کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہوتی ہیں۔ان میں انبیائے کرامؑ خصوصی طور پر شامل ہیں۔ انبیائے کرامؑ میں بھی بالخصوص سرورِ کائنات حضرت محمدﷺسب سے عظیم المرتبت ہیں۔آپﷺ کی دعائیں بارگاہِ الہٰی میں مقبول ہوئیں۔انبیاءؑ کے بعد دعاؤں کی قبولیت میں صدیقین اور صالحین کا مقام و مرتبہ ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں حدیث میں وارد ہے ، سیدنا ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: بہت سے پریشان حال اور دروازے سے دھکے دیے جانے والے (صالح ) لوگ ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کے بھروسے پر (کسی بات پر) قسم کھالیں تو اللہ ان کی قسم کو پورا فرمادے۔(صحیح مسلم )

اسی طرح اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی دعا ضرور سنتا ہے جس پر کسی نے کسی طرح کا ظلم کیا ہو۔ خواہ وہ مظلوم کافر ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ سرورِ عالمﷺ نے فرمایا:مظلوم کی دعا سے بچو، چونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ یا رکاوٹ نہیں ہوتی۔(بخاری و مسلم)

اسی طرح اس کی دعا بھی قبول ہوتی ہے ،جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے حق میں اس کی غیر موجودگی میں دعا کرتا ہے۔ نبی مکرمﷺ کا فرمان ہے:ترجمہ: جب کوئی مسلمان شخص کسی دوسرے مسلمان بھائی کے لئے اس کی غیر موجودگی میں دعا مانگتاہے توایک فرشتہ اس وقت دعا مانگنے والے کے لئے دعا کرتا ہے کہ اللہ تجھے بھی اسی جیسا دے۔(صحیح مسلم)

اسی طرح مسافر کی دعا اور والد کی دعا بیٹے کےلیے قبولیت کا مقام پاتی ہے۔ (ترمذی )

اسی طرح عدل و انصاف کرنے والے حاکم اور روزے دار کی دعاافطار کرتے وقت قبولیت حاصل کرتی ہے۔ (ترمذی)

جو شخص روزانہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے پچیس یا ستائیس مرتبہ بخشش مانگے تو وہ ان لوگوں میں سے ہوجائے گا جن کی دعا بالخصوص قبول ہوتی ہے اور جن کی برکت سے زمین والوں کو روزی ملتی ہے۔(طبرانی کبیر)

اسی طرح مریض کی دعا بھی قبول ہوتی ہے۔

کسی نیک بزرگ سے اس کی زندگی میں دعا کروائی جا سکتی ہے، جیسا کہ سیدنا عمر رضی للہ عنہ نے نبی کریمﷺ کےوصال کے بعد ان کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے بارش کی دعا کرائی یا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے قحط کے موقع پر بزرگ صحابی رسو لﷺ سیدنا زید بن الاسود جرشی رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھ کر ان سے دعا منگوائی ۔ (صحیح بخاری )

سرورِ کائنات علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کا فرمان ہے کہ جب رات کو سوتے سوتے کسی شخص کی آنکھ کھلے اور وہ یہ کلمات کہہ کر جو دعا مانگے تو اس کی دعا ضرور قبول ہو گی اور اگر اس کے بعد وضو کر کے نماز پڑھ لے تو اس کی وہ نماز بھی ضرور قبول ہو گی۔ وہ کلمات یہ ہیں۔

ترجمہ! کوئی معبود و کارساز نہیں ،سوائے اللہ کے جس کاکوئی شریک نہیں۔ تمام بادشاہت اور حکمرانی اسی کے ہاتھ میں ہے اور تمام تعریف اسی کے لئے سزاوار ہے اور وہ ہر بات پرقادر ہے۔ پاک ذات ہے اللہ کی۔ سب حمد و ثنا اللہ ہی کے لئے ہے اور کوئی معبود نہیں، سوائے اللہ کے اور اللہ سب سے بڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔اے اللہ میرے گناہ معاف فرمادے۔(بخاری)

اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ جو شخص مندرجہ ذیل کلمات کہہ کر دعا مانگے گا تو جو کچھ وہ مانگے گا، اللہ تعالیٰ اسے وہی عطا کرے گا۔ وہ کلمات یہ ہیں۔ترجمہ! نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ نہیں کوئی معبود و کارساز سوائے اللہ کے جو یکتا ہے ،جس کا کوئی شریک نہیں۔ ساری بادشاہت اسی کی ہے اور سب تعریف اسی کے لئے ہے اور وہ ہربات پر قادر ہے۔ نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے اور کسی کو کسی قسم کی طاقت اور قوت حاصل نہیں سوائے اس کے جو اللہ اسے دے۔(طبرانی)

ایک حدیث شریف میں سرورِ عالمﷺ کا فرمان ہے کہ مسلمان کی مانگی ہوئی کوئی دعا رائیگاں نہیں جاتی یا تو جو چیز اس نے مانگی، بعینہ وہی اسے مل جاتی ہے یا پھر اس کے بدلے کوئی آنے والی مصیبت و آفت ٹل جاتی ہے ،ورنہ اس دعا کے بدلے اسے قیامت کے دن ثواب مل جائے گا۔(حاکم)

یہ جاننے کے لئے کہ ہماری دعا درجہ قبولیت پر فائز ہوئی یا نہیں‘ چند علامات ہیں، جن سے اندازہ ہوجاتاہے کہ دعا شرف قبولیت سے باریاب ہوئی ہے ۔ وہ مندرجہ ذیل علامات ہیں، مثلاً دل میں رب کا خوف محسوس ہونا اور قلب پر ہیبت اور رقت کا طاری ہونا‘ اسی طرح بدن کے رونگٹوں کا کھڑا ہونااور آنکھوں سے آنسوؤں کا جاری ہونا‘ دل میں سکون و طمانیت کا پیدا ہوجانا اور دل میں خوشی کا جذبہ بیدار ہوجانا۔ ظاہراً طبیعت کا ہلکا معلوم ہونا اور بوجھل پن کا خاتمہ ہوجانا اور ایسا محسوس کرنا کہ گویا مجھ پر ایک بہت بڑا بوجھ تھا جو اتر گیا ہے۔ یہ دعا کی قبولیت کی علامات ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی حاجات و مشکلات میں محض اپنی بارگاہ میں رجوع کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے اور ہمیں قرآن و سنت سے ثابت شدہ دعاؤںکی مدامت نصیب فرمائے۔ ہم ہرحال میں مشکل ہو یا آسانی اپنے حقیقی آقا ‘ خالق و مالک اللہ رب العالمین کی یاد اپنے دلوں میں بسائے رکھیں۔اللہ تعالیٰ ہمیںرسول اللہﷺ کے بتائے ہوئے طور طریقے اختیار کرتے ہوئے دنیا و آخرت کی کامیابیوں اور کامرانیوں سے سرفراز فرمائے۔( آمین )