آپ آف لائن ہیں
اتوار22؍ رجب المرجب 1442ھ 7؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بجلی 1.95روپے مہنگی، ن لیگ حکومت ذمہ دار، بجلی کے مہنگے کارخانے لگا کر 227 ارب کی بارودی سرنگیں بچھا گئے، وفاقی حکومت

بجلی 1.95روپے مہنگی، ن لیگ حکومت ذمہ دار


اسلام آباد(ایجنسیاں‘جنگ نیوز)وفاقی حکومت نے بجلی ایک روپے 95 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کا اعلان کردیا۔

وزیرتوانائی عمرایوب ‘ معاون خصوصی برائے پاور تابش گوہر اوروفاقی وزیر منصوبہ بندی اسدعمر نے بجلی مہنگی کرنے کا ذمہ دار مسلم لیگ (ن)کی حکومت کوقراردیتے ہوئے کہا ہےکہ ن لیگ کی حکومت بجلی کے مہنگے کارخانے لگاکر آنے والی حکومت کیلئے 227ارب روپے کی بارودی سرنگیں بچھاکر گئی تھی۔

کیپسٹی پیمنٹ کی ادائیگی کی رقم میں 218 ارب روپے یعنی2روپے 18 پیسے بجلی کی قیمت میں اضافہ ہونا تھا لیکن اب ہم مجبوراً یہ ایک روپے 95 پیسے فی یونٹ کا اضافہ کر رہے ہیں‘اس سے عوام پر 200ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔

آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدوں سے 6 ہزار ارب روپے کا بوجھ کم ہوگا۔اس سال 450 ارب روپے کا گردشی قرضہ بھی اتاردیا جائے گا‘بجلی کی مارکیٹ کو بھی اوپن کیا جا رہا ہے اور اگلے دو تین سال میں صارف کے پاس یہ چوائس ہو گی کہ سرکاری کے علاوہ نجی کمپنیوں سے بھی بجلی خرید سکے گا ۔ 

موجودہ حکومت نے مشکل معاشی حالات کے باوجود پاورسیکٹرکو 473 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے، (ن) لیگ نے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کو جان بوجھ کرلٹکائے رکھا‘حکومت کے فیصلوں کی وجہ سے آئندہ برسوں میں بجلی کی قیمت میں ایک سے دو روپے فی یونٹ کمی آئے گی۔ 

بدھ کو یہاں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمر ایوب خان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بجلی کی قیمت میں اضافہ کو جان بوجھ کر لٹکائے رکھا ‘2019 تک 227 ارب روپے کا اضافہ بنتا تھا جو نہیں کیا گیا اور اگر 227 ارب روپے کا بوجھ عوام پر ڈالا جاتا تو بجلی کی قیمت میں اضافہ 2 روپے 61 پیسے اضافہ بنتا تھا لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم آتے ہی عوام پر یہ بوجھ نہیں ڈال سکتے اور بہت سوچ سمجھ کر مجبورا ً بجلی کی قیمت میں 23 پیسے فی یونٹ اضافہ کیااور تقریباً 2 روپے 38 پیسے فی یونٹ کی سبسڈی حکومت نے دی جس کی کل رقم 247 اروب روپے بنتی ہے۔

کیپسٹی پیمنٹ بجلی استعمال کریں یا نہ کریں بجلی کے کارخانوں کو دینا پڑتی ہے، 2013 میں یہ رقم 185 ارب روپے ، 2018 میں 468 ارب روپے تھی، 2019 میں یہ بڑھ کر 642 ارب روپے اور 2020 میں 860 ارب روپے تک پہنچ گئی، 2023 تک کیپسٹی پیمنٹ کی رقم مزید بڑھ کر ایک ہزار 455 ارب روپے تک پہنچ جائے گی ۔ 

(ن) لیگ نے بدنیتی کے ساتھ دانستہ طور پر یہ معاہدے کئے اور غلط فیول مکس پر کارخانے لگوائے، یہ وہ کارخانے ہیں جن سے 45 فیصد بجلی درآمدی ایندھن سے بنتی ہے اور ساڑھے 6 ارب ڈالر ہمارے باہر چلے جاتے ہیں۔یہ بدعنوانی اور بدنیتی پر مبنی معاہدے تھے جو ہمیں ورثے میں ملے۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے جو فیصلے کئے تھے اگر ان کے مطابق اضافہ کرتے تو یہ اضافہ 8 سے 9 روپے ہونا تھا،اس موقع پر تابش گوہر نے کہا کہ اگست میں 8 ہزار میگاواٹ کے 53 آئی پی پیز کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے گئے، چند دنوں میں معاملات پایہ تکمیل تک پہنچ جائیں گے، اس کے تحت اگلے 20 سال میں 836 ارب روپے کا بجلی کے شعبہ پر بوجھ کم ہو جائے گا۔

ان کے 450 ارب روپے کے بقایا جات بھی رواں سال ہی ادا کر دیئے جائیں گے اور اس سے بجلی کے نرخوں میں سود کا بوجھ بھی کم ہو جائے گا۔ حکومت نے سرکاری پاور پلانٹس سے بھی 30 سے 70 فیصد کٹوتی کی ہے اس کا اگلے برسوں میں مثبت اثر سامنے آئے گا اور تقریباً 6 ہزار ارب روپے کا بوجھ اس سے کم ہو گا اور یہ بوجھ حکومت خود برداشت کرے گی، ان دونوں کو ملا کر اگلے برسوں میں بجلی کے نرخوں میں ایک سے 2 روپے کمی آئے گی۔ 

ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ 31 دسمبر 2021 سے پہلے ان کارخانوں کو جو نئے سسٹم میں آنا چاہتے ہیں انہیں کنکشن فراہم کریں، جیسے جیسے بجلی کی طلب بڑھے گی تو بجلی کے نرخوں میں بھی کمی آئے گی۔

اہم خبریں سے مزید