آپ آف لائن ہیں
جمعرات12؍رجب المرجب 1442ھ25؍فروری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مہنگائی کی چکی میں پسے عوام الناس جن کی ہمت جواب دے چکی ہے۔ 15جنوری کو پیٹرول اور 6روز بعد بجلی کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے ان پر کیا گزرے گی۔ اس بارے میں مزید وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔ وفاقی وزراء عمر ایوب، اسد عمر اور معاون خصوصی برائے پاور تابش گوہر نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بجلی ایک روپے 95 پیسے فی یونٹ مزید مہنگی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اس کا ذمہ دار ن لیگ کو قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سابقہ حکومت بجلی کے مہنگے کارخانے لگا کر آنے والی (پی ٹی آئی) حکومت کے لئے 227ارب روپے کی بارودی سرنگیں بچھا گئی۔ کپیسٹی پے منٹ کی ادائیگی کی رقم میں 218ارب روپے یعنی 2روپے 18پیسے کا بجلی کی قیمت میں اضافہ ہونا تھا جسے ہم نے مجبوراً ایک روپے 95پیسے تک محدود رکھا ہے جس سے عوام پر 200ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔ وفاقی وزراء کا کہنا تھا کہ 2019میں 227ارب روپے کا بوجھ عوام پر ڈالا جاتا تو بجلی کی قیمت میں 2روپے 61پیسے کا اضافہ بنتا تھا لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم عوام پر یہ بوجھ نہیں ڈال سکتے اور بہت سوچ سمجھ کر بجلی کی قیمت میں اضافہ 23پیسے تک محدود رکھا اور تقریباً 2روپے 38پیسے کی سبسڈی حکومت نے دی جس کی کل رقم 247ارب روپے بنتی ہے تاہم کپیسٹی پے منٹ کے باعث جو بجلی کے کارخانوں کو حکومت کی طرف سے لازمی ادا کرنی

پڑتی ہے یہ رقم 2013میں 185ارب روپے تھی جو 2018میں 268ارب اور 2020میں 860ارب کی سطح پر پہنچ گئی ہے مزید یہ کہ 2023میں مزید بڑھ کر 1455ارب تک پہنچ جائے گی۔ پی ٹی آئی کے بقول ن لیگ نے بدنیتی کے ساتھ دانستہ طور پر یہ معاہدے کیے اور غلط فیول مکس پر کارخانے لگوائے۔ دوسری طرف ن لیگ کے مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اس حکومتی دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پاور سیکٹر میں گردشی قرضوں کا جو حجم چھوڑ کر گئے تھے موجودہ حکومت نے اس میں 14سو ارب روپے کا اضافہ کیا۔ ہم لائن لاسز 21فیصد سے 18فیصد کی سطح پر لائے جو اب ساڑھے 19فیصد پر ہیں۔ ن لیگ کی رہنما مریم نواز نے بجلی کی قیمت میں اضافے کو بدترین عوام دشمنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتے میں یکے بعد دیگرے پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں یہ اضافہ لوگ برداشت نہیں کر سکیں گے۔ پی ٹی آئی حکومت اور ن لیگ بجلی کی قیمتوں اور گردشی قرضوں پر جو بھی مؤقف رکھتی ہیں اس سے قطع نظر گزشتہ دہائی میں جب ملک بدترین لوڈ شیڈنگ کے باعث اندھیرے میں ڈوبا تھا اور سردست پن بجلی کے منصوبے ناممکن تھے لیکن اس وقت کی حکومتوں نے عجلت میں ہزاروں میگا واٹ کے جو منصوبے بنائے ان کا 54فیصد دارومدار انتہائی مہنگے ذرائع پر ہے۔ جس کے مطابق فرنس آئل 16فیصد، قدرتی گیس 12، ایل این جی سے 26فیصد بجلی پیدا ہورہی ہے جبکہ ہائیڈرل پاور 27فیصد، ہوا اور شمسی توانائی سے پانچ فیصد بجلی پیدا کررہے ہیں۔ اس حوالے سے موجودہ حکومت کی خواہش ہے کہ بجلی کی پیداوار سستے ذرائع پر منتقل کی جائے اور وہ اس منصوبے پر کام بھی کررہی ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ نہ تو سابقہ معاہدے ختم کیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی پانی، ہوا اور شمسی توانائی کے منصوبے فوری طور پر تیار ہو سکتے ہیں۔ عالمی بینک نے بھی اپنی گزشتہ ماہ جاری ہونے والی رپورٹ میں مشورہ دیا ہے کہ پاکستان ہوا اور شمسی توانائی سے پیدا کی جانے والی بجلی کی استعداد بڑھا کر آئندہ 20سال کے دوران پانچ ارب ڈالر بچا سکتا ہے یہ ایک خطیر رقم ہے اور اس منصوبے سے گردشی قرضوں کا عنصر بھی صفر ہو جاتا ہے لہٰذا حکومت کو عوام کے بہترین مفاد میں اس طرف سوچنا چاہئے۔

تازہ ترین