آپ آف لائن ہیں
پیر6؍رمضان المبارک 1442ھ 19؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مصنّف: رابن شرما

اُردو ترجمہ: حمزہ زاہد

نظرِ ثانی: فاطمہ روحی

صفحات: 296، قیمت : 800 روپے

ناشر: بُک کارنر، جہلم

جولین ایک کام یاب وکیل تھا۔ 3 ہزار ڈالر کا اٹالین سوٹ پہنتا۔ بھاری بینک بیلنس، پوش علاقے میں عالی شان بنگلہ، ذاتی جیٹ جہاز، اپنا جزیرہ اور اُس پر خُوب صُورت گھر اور ایک چمکتی ہوئی سُرخ فیراری… مگر اِن چیزوں کے حصول کے لیے اُس نے بہت قربانیاں دی تھیں، یہاں تک کہ خود کو بھی قربان کر ڈالا۔ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کی مسلسل محنت کا یہ نتیجہ نکلا کہ ایک روز بَھری عدالت میں چکرا کر گر پڑا۔ 53 برس کا یہ وکیل 70 برس کا بوڑھا لگنے لگا تھا۔ طبیعت سنبھلی، تو جولین روحانی آسودگی اور اندر کا خلا پاٹنے کے لیے سب کچھ بیچ باچ کر بھارت چلا گیا تاکہ مشرق کی حکمت سے استفادہ کر سکے۔

اسی سیّاحت کے دَوران وہ بھارت سے کشمیر آیا، جہاں اُسے ایک شخص نے ہمالیہ کی بلند چوٹیوں میں رہنے والے سیوانا درویشوں کا پتا بتایا، جن کے پاس روحانی آسودگی کے صدیوں پرانے نسخے تھے۔ وہ ڈھونڈتا ڈھونڈتا اُن درویشوں تک پہنچ ہی گیا اور پھر متواتر تین برس تک اُن سے حکمت و دانش کے گہر سمیٹتا رہا۔بعدازاں، اُس نے وطن واپس آکر اپنے دوست، جون کو پوری رات پر مشتمل ایک نشست میں اُن رازوں سے آگاہ کیا، جنھوں نے نہ صرف اُس کے باطن کو بدل ڈالا تھا، بلکہ ظاہری وجود میں بھی حیرت انگیز تبدیلیاں رونما ہوئیں۔معروف موٹیویشنل اسپیکر، رابن شرما نے اپنی کتاب’’ The Monk Who Sold His Ferrari‘‘ میں جولین اور جون کے درمیان ہونے والی گفتگو کے ذریعے انسانی نفسیات کی بہت سی گتھیاں سُلجھانے کی کوشش کی ہے۔ 

بنیادی طور پر یہ کہانی’’ مائنڈ مینجمنٹ‘‘ اور ’’ پرسنل ڈویلپمنٹ‘‘ جیسے موضوعات کے گرد گھومتی ہے، مگر مصنّف کا کمال یہ ہے کہ ایسے خشک موضوع کو بھی انتہائی دل چسپ انداز میں قاری کے دل و دماغ کا حصّہ بنانے کی کوشش کی، جس میں وہ کام یاب بھی رہے۔یہ کتاب پہلی بار 1999ء میں شایع ہوئی تھی اور اس کے اب تک دنیا بھر میں ڈیڑھ کروڑ سے زاید نسخے فروخت ہو چُکے ہیں، جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آج کا انسان مادّی ترقّی کے باوجود ذہنی سکون کا کس قدر متلاشی ہے۔بُک کارنر، جہلم نے اسے اب رواں اور عام فہم ترجمے کے ساتھ اُردو خواں طبقے کے لیے پیش کیا ہے۔یہ ایک ایسی کتاب ہے، جسے ایک ہی نشست میں ختم کرنے کو دل چاہے گا، مگر 13 ابواب پر مشتمل اس کتاب کو وقفے وقفے سے اپنے اندر اُتارنے کی ضرورت ہے۔