عالمی ادارۂ صحت کے زیرِ اہتمام دُنیا بَھر میں ہر سال جنوری کے آخری اتوار کو’’ ورلڈ لیپروسی ڈے‘‘ منایا جاتا ہے، جس کا بنیادی مقصداس مُوذی مرض سے متعلق شعور و آگاہی اُجاگر کرنے کے ساتھ مریضوں سے اظہارِ یک جہتی بھی ہے۔ اِمسال یہ یوم31جنوری کو منایا جارہا ہے۔یہ دِن 1953ء میں پہلی بار فرانس کی ایک انسان دوست شخصیت، راؤل فولیریو(Raoul Follereau)نے مہاتما گاندھی کی برسی کے موقعے پرمنایا (یاد رہے، مہاتما گاندھی کا انتقال 30جنوری1948ء کو ہوا)،جس کے بعد سے تاحال ہر سال ماہِ جنوری کے آخری اتوار کو جذام کا عالمی یوم منایا جاتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کی 2020ء میں جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق 2019ء میں پوری دُنیا میں 202189 افراد جذام کا شکار ہوئے، جن میں سے 114451 کا تعلق بھارت سے تھا۔البتہ پاکستان میں کُل 347کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سب سے زیادہ کیس صوبۂ سندھ سے تھے۔مذکورہ رپورٹ کی تفصیل کے مطابق سندھ میں138(40فی صد)، پنجاب میں 112(32فی صد)، خیبر پختون خوا میں 69 (20 فی صد)، بلوچستان میں21(6فی صد) ، آزاد کشمیر میں 6(2فی صد) اور گلگت بلتستان میںایک(0.2 فی صد) مریض تشخیص ہوا۔ ان مریضوں میں 190(55فی صد) خواتین اور23(7فی صد)بچّے شامل تھے۔نیز،54 مریض ( 16فی صد) تشخیص کے وقت کسی نہ کسی جسمانی معذوری کا شکار تھے۔
پاکستان میں’’لیپروسی کنٹرول پروگرام‘‘ کی کام یابی کا سہرا بلاشبہ جرمن نژادخاتون، ڈاکٹر روتھ فائو ہی کے سَر جاتا ہے، جنہوں نے 1960ء میں کراچی سےخلوصِ نیت سے نہ صرف کام کا آغاز کیا، بلکہ عوام میں مرض کا شدید خوف ختم کرکےشعور و آگاہی عام کی۔ انہوں نے 1965ء میں جذام کے علاج کے لیے پہلا فیلڈ کلینک، ضلع سوات میں پیربابا کے مقام پر قائم کیا اور یہ اُن ہی کی کاوشوں کا نتیجہ تھا کہ 1996ء میں مشرقی بحیرۂ روم کے خطّے (Eastern Mediterranean Region) میں پاکستان پہلا ایشیائی مُلک تھا، جس نے جذام کے پھیلائو پر کام یابی سے قابو پایا، مگر افسوس کہ دیگر مُمالک کی طرح تاحال پاکستان سے بھی جذام کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں ہوسکا،جس کی بنیادی وجہ مؤثر ویکسین کادریافت نہ ہونا ہے۔ جذام یا کوڑھ ایک متعدّی مرض ہے،جسے طبّی اصطلاح میں لیپروسی کہا جاتا ہے۔
یہ ایک خاص قسم کے جرثومے مائیکو بیکٹیریم لیپری (Mycobacterium Leprae) کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے۔ جذام کے جراثیم مریض کے چھینکنے یا کھانسنے سے ہوا میں پھیل جاتے ہیں اور سانس کے ذریعے کسی دوسرے فرد کے جسم میں داخل ہوکر اُسے بھی متاثر کردیتے ہیں۔ یہ مرض مَرد و عورت کو عُمر کے کسی بھی حصّے میں لاحق ہوسکتا ہے اور اس کا موروثیت سے کوئی تعلق نہیں۔جذام کا مرض عام طور پر جِلد، اعصاب، نَسوں، خصوصاً بازوئوں اور ٹانگوں کو متاثر کرتا ہے۔ ابتدا میںجِلد میں ہلکے سفید یا سُرخ دھبّے (Patches) یا اُبھار (Plaques)نمودار ہوتے ہیں، جن میں خارش نہیں ہوتی۔جیسا کہ دیگر جِلدی امراض میں ہوتا ہے۔
ان دھبّوں یا اُبھاروں کو چُھونے سے کوئی احساس بھی نہیں ہوتا۔البتہ بعض مریضوں کی جِلد پر پہلے ہلکا سا سفید یا سرخی مائل دھبّا پڑتا ہے، توکچھ کے جسم کے کسی بھی حصّے پر پیلے دھبّے ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ بازوئوں اور ٹانگوں کی نَسوں پر اثر انداز ہونےکے نتیجے میں ہاتھوں اور پیروں میں درد ہوتاہے اورمحسوس کرنے کی صلاحیت بھی متاثرہوجاتی ہے۔ نیز،ہاتھ پاؤںکے پٹّھے بھی کم زور ہوجاتے ہیں۔ بعض مریضوںمیں کانوں کی جِلد سُرخ اور متوّرم نظر آتی ہے۔ بھنوئوں کے بال جَھڑ جاتے ہیں، تو جِلد میں دانے یا گلٹیاں بھی ظاہر ہوسکتی ہیں۔عموماً جب مرض ابتدائی مرحلے میں ہو تو زیادہ تر مریض اس سے لاعلم رہتے ہیں اور یہی لاعلمی کئی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔
جذام کی تشخیص کے لیے جِلد کا ایک مخصوص ٹیسٹ تجویز کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے جسم میں جراثیم کی جانچ ہوتی ہے۔یہ مرض قابلِ علاج ہے،لیکن بروقت علاج نہ کروایا جائے، تو مریض ہاتھوں، پیروں سے معذور ہوسکتا ہے۔ دراصل، اس مرض میںہاتھ پاؤں سن رہنے کے باعث مریضوں کو چوٹ، زخم، ٹھنڈے، گرم کا احساس نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر اگر مریض چائے پی رہا ہے، اُسے پیالی کی حدّت محسوس نہیں ہو گی۔ پائوں میں کیل یا کانٹا چبھ جائے، تو درد کا احساس نہیں ہوگا۔
چوٹ لگ جائے تو بھی پتا نہیں چلتا۔ اگر خدا نخواستہ زخم ہو جائے یا چھالا پڑ جائے، تو انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جو پھرمعذوری کی وجہ بن جاتا ہے۔ جذام کے علاج کا دورانیہ چھے ماہ سے ایک سال پر مشتمل ہے۔ اگر مرض ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہوجائے تو مریض چھے ماہ کے علاج سے صحت یاب ہوجاتے ہیں اور کوئی پیچیدگی بھی جنم نہیں لیتی ۔ لیکن تاخیر سے تشخیص کی صُورت میں علاج کا دورانیہ ایک یا دو سال تک بڑھ جاتا ہے۔ واضح رہےکہ دُنیا بَھر میں عالمی ا دارۂ صحت کی جانب سے لیپروسی کی تجویز کردہ ادویہ مفت فراہم کی جاتی ہیں۔
پاکستان میںحکومت کے اشتراک سے جذام کے علاج کے لیے دو بڑےادارے کام کررہے ہیں۔ ایک ادارہ ’’میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر‘‘(Marie Adelaide Leprosy Centre) 1965ء سے سندھ، بلوچستان، خیبر پختون خوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں صوبائی محکمۂ صحت کے تعاون سے کام کررہا ہے،جب کہ دوسرا ’’ایڈ ٹو لیپروسی پیشنٹس‘‘(Aid to Leprosy Patients) بھی تقریباً اتنے ہی عرصے سے پنجاب سمیت خیبرپختون خوا کے ہزارہ ڈویژن میں خدمات انجام دے رہا ہے۔
مُلک بَھر میں ایم اے ایل سی کے157سینٹرز قائم ہیں۔ ہیڈ آفس اور اسپتال کراچی میں واقع ہے،جب کہ اے ایل پی کا مرکزی اسپتال راول پنڈی میں ہے۔ان دونوں اداروں اورتمام مراکز میں مرض کی تشخیص سے لے کر علاج معالجے کی تمام تر سہولتیں مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ ( مضمون نگار،جذام کے ماہر معالج ہیں اور میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر، کراچی میں خدمات انجام دے رہے ہیں)