• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

درد شقیقہ (میگرین) یعنی آدھے سر کا درد کوئی عام سا سر درد نہیں ہے۔ یہ ناقابل برداشت تکلیف کا باعث بنتا ہے۔ بعض اوقات، درد اتنا شدید ہوتا ہے کہ آپ کوئی کام یا آرام بھی نہیں کرسکتے۔ آپ کا دل چاہتاہے کہ بس آپ آنکھیں بند کرکے لیٹے رہیں اور سر میں اٹھنے والی ٹیسیں کم ہونے کا انتظار کریں۔ کہا جاتاہے کہ میگرین اعصابی نظام میں خرابی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ بعض اوقات پورے سر میں درد ہوتا ہے، تاہم آدھے سر میں کم جبکہ آدھے میں زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ خون کی شریانوں کے بڑھنے اور اعصاب سے کیمیائی مادوں کے ان شریانوں میں ملنے سے میگرین یا آدھے سر کا درد ہوتا ہے۔ 

اس کے دورے میں کنپٹی کی رگیں پھول جاتی ہیں یا کچھ کیمیائی مادے پیدا ہوکرسوجن اور درد کے ذریعے رگ کو مزید پُھلا دیتے ہیں جس سے اعصابی نظام، متلی، پیٹ کی خرابی اور قے کا احساس ہوتا ہے۔ ساتھ ہی خوراک ہضم کرنے کا عمل بھی سست روی کا شکار ہوجاتاہے۔ دوران خون سست ہونے سے ہاتھ اور پاؤں ٹھنڈے پڑ سکتے ہیں اور جسم میں کمزوری کا احساس بھی ہوسکتا ہے۔ یہ درد عام طور پر چار گھنٹے تک رہتا ہے لیکن بعض اوقات اس کا دورانیہ بڑھ کر چوبیس سے چھتیس گھنٹے تک بھی جا پہنچتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ اٹلانٹا کے ہیڈیک سینٹر (Headache Centre of Atlanta) نے ذہنی تنائو (اسٹریس) کومیگرین کا ایک بڑا محرک پایا؟ تقریباً80 فیصد میگرین کےمریض ذہنی تنائو کو اس کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہیں۔ دیگر وجوہات میں ہارمونز (65فیصد)، ناگوار ماحول (44فیصد)، روشنی (38فیصد)، دھواں (36فیصد)، حرارت (30فیصد) اور کھانا (27فیصد) ہیں۔ میگنیشیم اور کیلشیم کی کمی بھی آدھے سر کے درد کا باعث بن سکتی ہے۔ قدرتی طور پر ، آپ کو میگرین کے دورے کے امکانات کو کم کرنے کیلئے ان دو اجزاء کی کمی کو لازمی دور کرنا ہی چاہیے۔

اگرچہ دردکش دوائیں درد کو دور کرکے سکون پہنچاسکتی ہیں، تاہم ان کے مضر اثرات بھی ہوسکتے ہیں۔ وہ جسم کے ان حصوں میں خرابی پیدا کرسکتی ہیں جن کو علاج کی ضرورت نہیں ہے۔ خاص طور پر حاملہ خواتین کے لیے دردکش دوائیں لینا مناسب نہیں یا ان لوگوں کیلئے جو پہلے ہی دوسری بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ اس ضمن میں چند مؤثر عادات یا کام ایسے ہیں جو میگرین کو دور رکھنے میں مدد کرسکتے ہیں۔

مراقبہ کرنا

جوانی میں ہارمون کی تبدیلیوں کی وجہ سے خواتین میں میگرین ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ مردوں کے مقابلے میں خواتین میں جوانی کی عمر کو پہنچ کر میگرین کا شکار ہونے کے تین گنا زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ جو خواتین پیریڈز یا ماں بننے کے بعددرد شقیقہ کا شکار ہوں تو اس کا مؤثر اور فوری حل مراقبہ ہے، یہ چکر آنے یا کم ہوتی توانائی کو توازن فراہم کرسکتا ہے۔ 

ذہنی تناؤ سے ہونے والے میگرین کا مؤثر علاج بھی مراقبہ میں ہے۔ یہ آپ کو تندرست اور آرام دہ حالت میں رہنے میں مدد کرتا ہے۔ عمر، صنف یا دیگر معیارات سے قطع نظر کوئی بھی اس پر عمل کرسکتا ہے۔ مراقبہ آپ کے خون کی وریدوں کو نرم کرتا ہے، درد برداشت کرنے کی حد کو بڑھاتا اور آپ کو حاضر دماغ رکھتا ہے۔

ورزش کی عادت

یہ تجویز دی جاتی ہے کہ میگرین کے شکار افراد باقاعدگی سے ورزش کو اپنا معمول بنائیں۔ ورزش ذہنی تناؤ کو کم کرتی ہے اور اس سے جسم میں بہت سے کیمیکلز اور افعال کو متوازن کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ صبح سیر کے لیے 15سے 20منٹ نکالیں۔

پروسیسڈ فوڈز کے بجائے پروٹینز

جنک یا فاسٹ فوڈ غذائیں کھانے سے بہتر ہے کہ غذائیت سے بھرپور خوراک استعمال کی جائے۔ لمبے وقفے کے بعد پیٹ بھر کر کھانے کے بجائے دن میں پانچ سے چھ با ر صحت بخش کھانا کھائیں۔ اس سے آپ کودرد شقیقہ کے اچانک حملوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ ا س ضمن میں ہلکی غذا استعمال کریں۔ ایسی غذائیں کھانے سے پرہیز کریں جن کے بارے میں اندیشہ ہوکہ ان کے کھانے سے میگرین میں اضافہ ہوسکتا ہے مثال کے طور پر چاکلیٹ، پنیر، الکحل اور کیفین وغیرہ۔ وافر مقدارمیں پانی پینا آپ کے میگرین کو کم کرسکتا ہے۔

کام میں وقفہ لینا

دفتری یا کاروباری معاملات سے آپ کا دماغ تھکنے اور میگرین کی طرف مائل ہونے لگتا ہے۔ ایسے میں کوشش کریں کہ کچھ وقت نکال کر آپ فیملی یادوستوں کے ہمراہ کسی پرفضا مقام پر چلے جائیں یا پھر ہوا دار مقام پر جائیں اور گہری گہری سانسیںلیں۔

انتظار نہ کریں

ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا بھر میں ذہنی ہارمونز میں عدم توازن کے نتیجے میں 80فیصد میگرین کے واقعات ہوتے ہیں۔ ڈی اسٹریسنگ (De-stressing) کی منفرد تکنیک پر عمل کرنے سے میگرین میں مؤثر کمی آتی ہے۔ یہ اعصابی نظام کو سکون بخشتا اور ذہنی ہارمونز کو متوازن کرتا ہے۔

صحت سے مزید