• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انٹرویو: ارشد عزیز ملک، گلزار محمد خان

عکّاسی: فیاض عزیز

’’خیبر پختون خوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی‘‘ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، جاوید اقبال خٹک 1966ء میں ضلع کرک میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مقامی اسکول سے حاصل کی، بعدازاں کوہاٹ سے ایف ایس سی اور یونی ورسٹی آف انجینئرنگ ٹیکنالوجی، پشاور سے مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ انڈسٹریلائزیشن، ٹریڈ اینڈ اکنامک پالیسیز میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما کیا۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز کے دو پراجیکٹس پر کام کیا۔2006ء میں بینک آف خیبر قائم ہوا، تو ایریا مینجر کی حیثیت سے اُس میں شمولیت اختیار کرلی۔ سمیڈا کے مینجر اور صوبائی سربراہ کے طور پر بھی خدمات سَر انجام دیں۔ 

شورش اور بدامنی کے زمانے میں خیبر پختون خوا کی معیشت اور صنعتوں کو شدید نقصان پہنچا، تو عالمی بینک کے تعاون سے معاشی بحالی کے ایک پروگرام پر کام کیا،بعدازاں اُنہیں جنرل مینجر، سمیڈا کے عُہدے پر ترقّی دے دی گئی۔ مارچ2020ء میں’’ خیبر پختون خوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی‘‘ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے طور پر تقرّری ہوئی۔ مذکورہ اسامی کے لیے40 امیدواروں نے درخواستیں جمع کروائی تھیں۔ 

جاوید اقبال خٹک کی پروفیشنل زندگی کا بڑا عرصہ بزنس کمیونٹی کے ساتھ کام کرتے گزرا ہے، یہی سبب ہے کہ اُن کے تاجروں، صنعت کاروں کے ساتھ مضبوط روابط ہیں۔ اُنھوں نے گزشتہ دنوں پشاور میں’’جنگ گروپ‘‘ کے دفاتر کا دورہ کیا، تو اُن سے صوبے میں صنعتوں کی بحالی اور نئے اکنامک زونز کے قیام سے متعلق سیر حاصل گفتگو ہوئی، جو قارئین کی نذر ہے۔

17 صنعتی زونز بنارہے ہیں، لاکھوں اسامیاں نکلیں گی
جنگ پینل سے گفتگو کرتے ہوئے

س: ’’خیبر پختون خوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی‘‘ کے اغراض و مقاصد کیا ہیں؟

ج:خیبر پختون خوا حکومت نے2015ء میں’’ سرحد ڈویلپمنٹ اتھارٹی‘‘ ختم کر کے ’’خیبر پختون خوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی‘‘ قائم کی، جس کا بنیادی مقصد صوبے میں عالمی معیار کے مطابق صنعتی زونز کا قیام ہےتاکہ معاشی اور صنعتی ترقّی کے ساتھ بڑے پیمانے پر ملازمتوں کی تخلیق، مہارت اور پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ کرکے صوبے کو خوش حالی کی راہ پر گام زن کیا جا سکے۔ 

کمپنی نے اگلے چند سالوں میں17 اکنامک زونز کے قیام کی منصوبہ بندی کی ہے۔صنعت کاروں کے لیے وَن ونڈو آپریشن شروع کیا گیا ہے، جس کے ذریعے تمام امور کے فوری حل کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ یہ کمپنی بلاتعطّل بجلی کی فراہمی، تربیت، آئی ٹی انفرا اسٹرکچر، ویسٹ مینجمنٹ سسٹم اور سیکیوریٹی سمیت دیگر کئی سہولتیں فراہم کر رہی ہے۔ نئے اقتصادی زونز کی ترقّی اور موجودہ انڈسٹریل اسٹیٹس کی نگرانی کے ساتھ’’ کے پی ایزمک‘‘ صوبے میں بیمار صنعتی یونٹس کی بحالی کے لیے بھی سرگرم ہے۔

س: صوبے میں اب تک کتنے اکنامک زونز قائم کیے جا چُکے ہیں؟نیز، نوشہرہ اکنامک زون کتنے رقبے پر محیط ہے اور اس میں کتنے صنعتی یونٹس لگانے کی گنجائش ہے؟

ج:وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا، محمود خان نے صوبے میں صنعتوں کی ترقّی کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر نوشہرہ اکنامک زون کے توسیعی منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھ دیا ہے۔ اس اکنامک زون میں صنعتیں لگانے کے خواہش مند سرمایہ کاروں میں پلاٹس کے الاٹمنٹ لیٹرز بھی تقسیم کیے جا چُکے ہیں۔’’ نوشہرہ اکنامک زون توسیعی منصوبہ‘‘ 76 ایکڑ اراضی پر محیط ہے، جس میں 60 سے زاید صنعتی یونٹس لگائے جائیں گے، جب کہ اس منصوبے سے بالواسطہ اور بلاواسطہ12 ہزار سے زاید ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔ 

اس توسیعی زون میں ابتدائی طور پر1.6 ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقّع ہے۔ صوبائی حکومت صنعتوں کو فروغ دے کر روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنے اور صوبے کی معیشت مستحکم کرنے کے لیے نتیجہ خیز اقدامات کر رہی ہے اور نوشہرہ اکنامک زون اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے۔ 

اس سے صوبے میں صنعتی ترقّی کے ایک نئے دَور کا آغاز ہوگا۔ نیز، اضاخیل ڈرائی پورٹ اور پشاور، اسلام آباد موٹر وے کے نزدیک واقع ہونے کی وجہ سے بھی یہ اکنامک زون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں ادویہ سازی، فوڈ پروسیسنگ، تعمیرات، ماربل، گرینائٹ اور فوڈ پیکنگ کی صنعتوں کے لیے انتہائی سازگار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے، جب کہ اس اکنامک زون میں تیار ہونے والی مصنوعات افغانستان، وسط ایشیائی ریاستوں اور چین کی مارکیٹس تک بھی آسانی سے پہنچائی جاسکتی ہیں۔ اس منصوبے کے لیے رابطہ سڑک کی تعمیر اور صنعتی یونٹس کی حد بندی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے، جب کہ اندرونی انفرا اسٹرکچر پر کام جاری ہے۔ نوشہرہ اکنامک زون میں صنعتیں لگانے کے لیے1365 درخواستیں موصول ہو چُکی ہیں۔

س:اسپیشل اکنامک زون رشکئی صوبے کی معاشی ترقّی کے لیے کس قدر اہم ہے؟

ج: پاک، چین اقتصادی راہ داری کے تحت’’ رشکئی اکنامک زون منصوبے‘‘ پر تیزی سے کام جاری ہے۔یہ ایک گیم چینجر منصوبہ ہے۔ یہ اکنامک زون صوبے کی پائیدار ترقّی کی طرف پہلا قدم ہے، جس سے روزگار کے کم ازکم دو لاکھ مواقع پیدا ہوں گے اور معاشی سرگرمیوں کو بڑے پیمانے پر فروغ ملے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ 80فی صد روزگار مقامی افراد کو ملے گا۔ یہ اکنامک زون1000 ایکڑ پر مشتمل ہے، جس میں قابلِ استعمال اراضی 778 ایکڑ ہے، جس میں سے 702 ایکڑ صنعتی پلاٹس کے لیے مختص ہے۔76 ایکڑ پر کمرشل ایریا تعمیر کیا جائے گا۔ صنعتی زون کے اندر گرین ایریا، تفریحی مرکز اور مزدوروں کے لیے فلیٹس بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

منصوبہ بہترین انفرا اسٹرکچر اور جدید سہولتوں سے مزیّن ہوگا، جس میں مشترکہ ٹریٹمنٹ پلانٹ، صنعتی شیڈ، اسمارٹ سیکیوریٹی سسٹم اور وَن ونڈو سہولتیں شامل ہیں۔ وفاقی حکومت رشکئی کے لیے 210 میگاواٹ بجلی کی فراہمی کی پہلے ہی منظوری دے چُکی ہے۔فی الحال210 میگاواٹ میں سے 10 میگاواٹ کا عبوری انتظام کیا گیا ہے، جو ترقّیاتی کاموں کے لیے استعمال ہوگی۔ وفاقی حکومت نے 30 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی فراہمی کی بھی منظوری دی ہے، جس کے لیے پائپ لائنز کی تنصیب شروع کردی گئی ہے اور مقرّرہ مدّت میں صنعتوں کو گیس فراہم کردی جائے گی۔ رشکئی اکنامک زون منصوبے میں ایک ارب، 63کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کاری ہوگی، جس میں 49کروڑ 40لاکھ ڈالر کی غیرمُلکی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔ یوں اگلے چند سالوں میں مقامی معیشت میں اربوں ڈالرز کا اضافہ ہوگا۔ 

صنعتی بستی کے قیام سے براہِ راست پچاس ہزار اور بالواسطہ ڈیڑھ لاکھ ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔نیز، مقامی صنعتوں کے تحفّظ کے لیے رشکئی میں صرف ایکسپورٹ اور امپورٹ کی جانے والی اشیاء ہی تیار ہوں گی، جس سے امپورٹ کی حوصلہ شکنی ہوگی اور ایکسپورٹ سے مُلک کو زرِمبادلہ ملے گا۔ خیبر پختون خوا حکومت نے رشکئی اقتصادی زون کے میگا پراجیکٹ کی ترقّی، مارکیٹنگ اور انتظام چلانے کے لیے رشکئی اسپیشل اکنامک زون ڈویلپمنٹ اینڈ آپریشن کمپنی (آر ایس ای زیڈڈی او سی) بھی قائم کی ہے۔ سیکیوریٹی اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں پانچ ڈائریکٹرز پر مشتمل کمپنی رجسٹر کروائی گئی ہے۔ 

چائنا روڈ اینڈ برج کارپوریشن (سی آر بی سی) نے پانچ میں سے چار ڈائریکٹرز نام زد کیے ہیں، جب کہ ایک ڈائریکٹر کے پی ایزمک کی نمائندگی کرے گا۔ایک چینی سرکاری’’ سینچری اسٹیل کمپنی‘‘ کو اسٹیل کی تیاری کے لیے 40 ایکڑ اراضی الاٹ کی گئی ہے۔ چینی کمپنی نے پہلے ہی رشکئی میں انفرا اسٹرکچر کی تعمیر شروع کردی ہے۔ سینچری اسٹیل کی یومیہ پیداوار چار ہزار ٹن ہوگی۔ چینی اور پاکستانی سرمایہ کاروں نے صنعتی پلاٹس کے لیے 1700 سے زاید درخواستیں جمع کروائی ہیں۔ مقامی یا غیر مُلکی سرمایہ کاروں کے لیے کوئی کوٹا مقرّر نہیں کیا گیا ہے، تاہم اُن سرمایہ کاروں کو ترجیح دی جائے گی، جو ہائی ٹیک انڈسٹری، برآمدی صنعت اور بہتر درآمدی متبادل لائیں گے۔ 

علاوہ ازیں، خاص طور پر پاکستانی اور غیر مُلکی سرمایہ کاروں کے مابین مشترکہ منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی، جس میں ٹیکنالوجی کی منتقلی شامل ہو۔اکنامک زون کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی طرز پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ دو چینی کمپنیز نے پہلے ہی تمام مطلوبہ دستاویز مکمل کرلی ہیں۔ پلاٹس کی الاٹمنٹ کا عمل دسمبر سے شروع ہوچُکا ہے۔ رشکئی اکنامک زون کا بنیادی شعبہ فارماسوٹیکل ہے، جس میں کورونا ویکسین کا ایک یونٹ بھی شامل ہے۔

س:رشکئی اکنامک زون میں سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے کیا سہولتیں دی جارہی ہے؟

ج: سرمایہ کاروں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق سہولتیں دے رہے ہیں۔10سال تک کوئی انکم ٹیکس نہیں ہوگا اور مشینریز بھی ڈیوٹی فری ہوں گی۔

س:خیبر پختون خوا حکومت نے صوبے کی صنعتوں کو سَستی بجلی فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا، اُس کا کیا بنا؟

ج: صوبہ خیبر پختون خوا تقریباً5000میگا واٹ بجلی وفاق کو4سے5روپے فی یونٹ دے رہا ہے۔ صوبے کی مجموعی ضرورت تقریباً2300میگا واٹ ہے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ صوبے سے سَستی بجلی لے کر وہی بجلی اُسے 22روپے فی یونٹ میں فروخت کی جا رہی ہے۔ ماضی میں کسی حکومت نے خیبر پختون خوا کے عوام کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی پر کوئی توجّہ نہیں دی۔ اسی منہگی بجلی کے باعث صوبے کی صنعتیں بند ہوئیں اور معیشت کا پہیّا رُک گیا۔ 

چناں چہ موجودہ صوبائی حکومت نے صوبے میں صنعتی انقلاب، بیمار صنعتوں کی بحالی اور نئے اکنامک زونز کو سَستی بجلی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صوبے میں پیدا ہونے والی بجلی اب صنعتوں کو کم نرخوں پر دی جائے گی، جس کا آغاز رشکئی اکنامک زون سے کیا جائے گا۔اسے 10میگا واٹ سَستی بجلی مردان گرڈ اسٹیشن سے فراہم کی جائے گی۔

س:صوبے میں پرانی اور بیمار صنعتوں کی بحالی کے لیے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں؟نیز، کن کن اضلاع میں نئے صنعتی زونز قائم ہو رہے ہیں؟

ج: خیبر پختون خوا گزشتہ کئی عشروں سے صنعتی زبوں حالی کا شکار ہے۔ پہلے گدون کے کارخانے بند ہوئے، پھر دہشت گردی نے صوبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے باعث باقی صنعتیں بھی بند ہوگئیں۔ نیز، گزشتہ تین دہائیوں میں صوبے میں کوئی بڑا صنعتی زون قائم نہیں ہوا۔ تاہم، اب خیبر پختون خوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی نے صوبے کو صنعتی لحاظ سے تین زونز میں تقسیم کیا ہے۔ جلوزئی میں 257ایکڑ کے صنعتی زون کے لیے ہمیں450 ایکڑ کی درخواستیں موصول ہوئیں، جہاں بجلی فراہم کر دی گئی ہے، جب کہ 15کارخانوں پر کام بھی شروع کردیا گیا ہے۔ 

رشکئی، جلوزئی اور نوشہرہ اکنامک زونز کے ساتھ اب ہم اسلام آباد اور حطار کے قریب’’ غازی انڈسٹریل زون پراجیکٹ‘‘ بھی آفر کر رہے ہیں۔ چترال میں بھی صنعتی زون کے لیے اراضی حاصل کرلی گئی ہے اور جلد انفرا اسٹرکچر پر کام کا آغاز ہوگا۔پلئی کے مقام پر ایک ہزار ایکڑ رقبے پر’’ منرل سٹی‘‘ قائم کیا جارہا ہے۔ 189 ایکڑ رقبے پر محیط ڈی آئی خان اکنامک زون کا بھی عن قریب سنگِ بنیاد رکھا جائے گا، جس میں ایک سو صنعتی یونٹس لگائے جائیں گے۔ اس اکنامک زون میں ڈیڑھ ارب روپے کی سرمایہ کاری اور تیس ہزار سے زاید ملازمتوں کے مواقع متوقّع ہیں۔ 

یہاں13صنعتی یونٹس لگائے جا چُکے ہیں، جب کہ پانچ میگا واٹ بجلی کی فراہمی کا عمل مکمل ہوچُکا ہے۔ اسی طرح خیبر پختون خوا کے جنوبی اضلاع، بنّوں اور کرک میں دنیا کے بہترین جپسم کے ذخائر موجود ہیں، اِس لیے صوبائی حکومت نے بنّوں میں’’ سالٹ اور جپسم سٹی ‘‘ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ تمام پراجیکٹ خیبر پختون خوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی(ایزمک) اپنے وسائل سے مکمل کر رہی ہے۔ اِسی طرح درابند میں سی پیک رُوٹ پر3ہزار ایکڑ پر ایک بڑا صنعتی زون بنایا جارہا ہے، جسے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے کھولیں گے۔

س:خیبر پختون خوا میں ضم شدہ قبائلی اضلاع بھی معدنی ذخائر سے مالامال ہیں، کیا وہاں بھی انڈسٹریل زونز بنانے کا کوئی پروگرام ہے؟

ج: جی بالکل، اس پر بھی تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ قبائلی ضلع مہمند میں’’ ماربل سٹی‘‘ قائم کیا جا رہا ہے، جس کے زون وَن میں اب تک4یونٹس فعال ہو چُکےہیں۔ زون ٹو اور تھری میں انفرا اسٹرکچر پر کام جاری ہے۔ ماربل سٹی میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کے لیے ایک ایکڑ پلاٹ کی قیمت صرف 10لاکھ روپے مقرّر کی گئی ہے، اسی ماربل سٹی میں اسٹیٹ آف دی آرٹ’’ سینٹر آف ایکسیلینس فار ماربل‘‘ بنا رہے ہیں، جس میں جدید مشینریز کے ذریعے بین الاقوامی معیار کے مطابق مال تیار ہوگا۔ 

اسی طرح قبائلی اضلاع شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور خیبر میں بھی اسمال انڈسٹریز قائم کی جا رہی ہیں۔ ان اکنامک زونز کے قیام سے صوبے کے پس ماندہ علاقوں سے بے روزگاری کے خاتمے اور معیشت کے استحکام میں مدد ملے گی۔نیز، خیبر پختون خوا کے اکنامک زونز افغانستان کی تعمیر و ترقّی اور بحالی میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔

س:کیا ان تمام صنعتی زونز کے لیے وسائل صوبائی حکومت فراہم کررہی ہے؟

ج:نہیں۔خیبر پختون خوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی صوبائی حکومت سے کوئی فنڈز نہیں لے رہی۔ رشکئی، جلوزئی، نوشہرہ، چترال اور دوسرے اکنامک زونز ہم خود ڈویلپ کر رہے ہیں۔ ہر اکنامک زون میں ایزمک کا دفتر ہے، جہاں سے ہم ان صنعتوں کو سروسز فراہم کرتے ہیں۔ 

ہر کارخانے سے سالانہ فی ایکڑ15ہزار روپے فیس وصول کی جاتی ہے، جو اسی صنعتی زون کی ترقّی اور سہولتوں کی فراہمی پر خرچ کی ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ہر زون میں ایک بورڈ قائم کیا گیا ہے، اس کے علاوہ ہر اکنامک زون کے لیے کمرشل ایریا بھی مختص کیا گیا ہے، جس کی آمدنی ایزمک کو حاصل ہوتی ہے۔

س: ایزمک کے پاس افرادی قوّت کتنی ہے؟

ج: ہمارے پاس تقریباً 200افراد پر مشتمل عملہ ہے، لیکن چوں کہ آئندہ چند ماہ میں نئے صنعتی زونز قائم ہو رہے ہیں، تو اُن کے لیے یہ تعداد کافی کم ہوگی۔ اِس وقت ہمارے 11اکنامک زونز آپریشنل ہیں، اس لحاظ سے مزید عملے کی ضرورت ہے۔

س: کیا رسال پور انڈسٹریل اسٹیٹ فعال کرنے کے بھی اقدامات ہو رہے ہیں؟

ج: جی ہاں! رسال پور ایکسپورٹ پراسیسنگ زون پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ وہاں92ایکڑ اراضی بے کار پڑی تھی۔ ہم نے اس زون کو فعال کرنے کے لیے بیرونِ مُمالک کے سرمایہ کاروں سے رابطہ کیا ہے۔ اب وہاں ایل ای ڈی لائٹس اور حلال فوڈ وغیرہ کے کارخانے لگ رہے ہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید