سعودی ڈاکار ریلی، ملکوں کے 550 سے زیادہ ڈرائیوروں کی شرکت
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

سعودی ڈاکار ریلی، ملکوں کے 550 سے زیادہ ڈرائیوروں کی شرکت

سعودی اسٹاریزید الراجحی نے ڈاکار ریلی 2020ء میں ٹویوٹا ہائی لکس ڈرائیو کرکے چوتھی پوزیشن حاصل کی ہے۔یزید الراجحی نے کامیابی پر خوشی کا اظہارکیا اور کہا 41 برس کے دوران ڈاکار ریلی کے حوالے سے یہ سعودی عرب کی سب سے بہتر کامیابی ہے۔ مقابلہ بڑا سخت تھا۔و اضح رہے کہ سعودی عرب نے ڈاکار سعودی ریلی 2020 کی میزبانی کر رہا ہے۔ مشکل ترین ریلی کا آغاز5 جنوری کو ہوا تھا۔

اسے براعظم ایشیا میں پہلی بین الاقوامی ریلی کا اعزاز حاصل ہے۔ 35 برس تک براعظم افریقا اور جنوبی امریکا ڈاکار ریلی پر چھائے رہے۔سعودی ڈاکار ریلی میں پہلی پوزیشن ا سپین کے کارلوس سینز، دوسری پوزیشن قطر کے ناصر العطیہ اور تیسری پوزیشن فرانس کے پیٹر ہینسل نے حاصل کی۔

وادی الدواسر کے باشندوں نے ریلی کے اختتام پر پہلی، دوسری ، تیسری اور چوتھی پوزیشن حاصل کرنے والوںکو روایتی انداز میں پرجوش انداز میں مبارکباد پیش کی، سوشل میڈیا پر اختتامی مرحلے کی تصاویر وائرل ہیں۔ڈاکاریلی میں شریک ڈرائیوروں نے بھی اپنے تاثرات شیئر کئے ہیں۔ شائقین نے پہلی چار پوزیشنیں حاصل کرنے والوں کو مبارکباد دی ۔ اپنی نوعیت کی منفرد ریلی کے انتظام پر سعودی ذمہ داران کا بھی شکریہ ادا کیا۔ سعودی ڈاکار ریلی 2020ء میں 62 ملکوں کے 550 سے زیادہ ڈرائیوروں نے مقابلے میں حصہ لیا۔

مملکت میں ڈاکار ریلی کے انعقاد کا مقصد سعودی عرب کے منفرد صحرا کو اسپورٹس ریسنگ کی دنیا میں متعارف کرانا اور مخصوص خطوں کی خصوصیت اجاگر کرنا تھا۔سعودی عرب میں مسلسل دوسرے سال ڈاکار ریلی کے ڈرائیورزریس کے دوران مملکت میں 8000 کلو میٹر سفر کے لئے روانہ ہو ئے۔

یہ ریس کمزور دل لوگوں کے لئے نہیں تھا۔سعودی عرب کے مختلف علاقے 300 ڈرائیوروں کا استقبال کرنے کے لئے تیار تھے۔ اس ریلی میں موٹرسائیکل سوار، کواڈز، کارسوار، دیگر گاڑیاں اورٹرکوں کے علاوہ امسال نئی کیٹگری ’’کلاسکس گاڑیاں‘‘ شامل کی گئیں۔ بحر احمر سے شروع ہو کر بحر احمر پر ہی ختم ہوئی۔کارریس کا پہلا مرحلہ جدہ سےجبکہ ینبع سے آخری مرحلہ 15جنوری کو شروع ہوا۔یہ ریلی سعودی وزارت کھیل نے سعودی آٹو موبل اینڈموٹر سائیکل فیڈریشن ’’ایس اے ایم ایف‘‘کے تعاون سے منظم کی ۔ڈرائیورز 13روزمیں 12مختلف مراحل سے گزرکر ’’فنش لائن‘‘ تک پہنچے۔کارریلی کے شرکا میں تجربہ کار ریسراور گزشتہ برس کی ریلی میں چوتھی پوزیشن حاصل کرنے والے یزید الراجحی بھی شامل تھے۔

انہوں نے اپنے معاون پائلٹ ڈاکار کے 10سے زائد ایونٹس میں شرکت کرنے والےافسانوی شہرت یافتہ ڈرک وان زٹزیوٹزکے ساتھ ریس کا آغاز کیا۔اس ریس میں متعدد سعودی ریلی ڈرائیورزنے بھی شرکت کی جن میں دوسری بار شرکت کرنے والے مشعل الغنیم، عبدالمجید الخلیفی اور فواز التعیمی شامل تھے۔اس سال شرکت کرنے والے یاسر السعیدان اپنے ساتھی ڈرائیورز محمد اور ولید التویجری ، فیصل محمد فتیح اور عبدالعزیز الیائیش کے ساتھ ریلی میں شامل رہے۔

ریلی کے پہلے مرحلے میں ڈرائیورز جدہ سے بیشہ کی سمت کاسفر کیا اور وادیوں، چٹانی، کچی پکی سڑکوں سے گزرتے ہوئے622 کلومیٹر کا سفر طے کئےجبکہ ایک خاص فاصلے کا تخمینہ 277 کلومیٹر لگایاگیا ۔دوسرا مرحلہ بیشہ سے شروع ہواجس میں ڈرائیورز مشرق کی جانب وادی الدواسر کی طرف ریت کے ٹیلوں سے ہوتے ہوئے 685 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا جس میں 457 کلومیٹر کا خاص فاصلہ شامل تھے۔ شرکا کو وادی کے ریتیلے خطے تک پہنچنے سے قبل کچے راستوں سے بھی گزرنا پڑا۔

تیسرا مرحلہ جسے ’’لوپ‘‘ مرحلہ شمار کیا گیا کیونکہ یہ ایک مقام سے شروع ہو کر وہیں ختم ا ہے۔اس میں ڈرائیورز کو خالی کوارٹر میں ریت کے بلند ٹیلوں سے گزرنا پڑا۔ یہ علاقہ دنیا کا سب سے بڑا ’’ریت کا صحرا‘‘ شمار ہوتا ہے۔شرکائے ریلی کو یہاں بھی 630 کلومیٹر فاصلہ طے کیا جس میں 403 کلومیٹر خاص فاصلہ شامل تھا۔پاس وادی الدواسر واپس پہنچنے والے ڈرائیور چوتھے مرحلے میں شمال میں مملکت کے دارالحکومت ، ریاض کی طرف سفر کیا۔یہ ڈاکار ریلی کا طویل ترین مرحلہ تھا جس کا کل فاصلہ 813 کلومیٹر تھا۔

اس روٹ کا تنوع ایسا ہے کہ ڈرائیوروں کو آرام کا کوئی وقت نہیں مل سکا۔ ان راستوں پر کی جانیوالی غلطیاں بڑی ناکامیوں کا باعث بن سکتی تھی کیونکہ ان راستوں کو عبوری مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔ریس کے پانچویں مرحلے میں7جنوری کوڈرائیورز مملکت کے شمال میں ریاض سے القصیم کے مشکل سفر پر روانہ ہوئے جو اندازاً622کلومیٹر طویل تھا ۔ چھٹا مرحلہ حائل کی جانب سفر پر مبنی تھا۔ یہ 618کلومیٹر طویل ہے اور خاص فاصلہ 448 کلومیٹر ہے۔

ڈرائیورز حائل میں ریتیلے راستے سے گزرتے رہے جو ریس کی مختلف کیٹگریز میں ان کی مہارت کا امتحان تھا۔اس مرحلے کے اختتام پر ریلی کے شرکا ایک روز کی تعطیل سے لطف اندوز ہو ئے۔ساتواں مرحلہ حائل سے ہی 10جنوری کو سکاکا کی جانب سفر سے شروع ہوا۔سکاکا مملکت کے انتہائی شمال میں واقع شہروں میں سے ایک ہے ۔ اس کا کل فاصلہ 737کلومیٹر اور خاص فاصلہ 471 کلومیٹر ہے۔آٹھویں مرحلے میں ڈرائیورز 11جنوری کوسکاکا سے نیوم کے لئے روانہ ہوئے، جس کا کل فاصلہ 709کلومیٹر اور خاص فاصلہ 375کلومیٹر تھا۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید