آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍رمضان المبارک 1442ھ21؍ اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

روس کے طول و عرض میں بدعنوانیوں، رشوت ستانی، افسر شاہی کے سخت گیر رویوں، آزادیٔ اظہار، انصاف کی فراہمی میں رُکاوٹوں اور اقربا پروری کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ماسکو میں ہونے والے حالیہ بڑے مظاہرے میں پولیس نے تین ہزار کے قریب افراد کو گرفتار کیا ہے۔ روس میں گزشتہ چھ سات برسوں سے حکومت اور صدر پیوتن کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، ان مظاہروں اور حکومت مخالف تحریک کے رُوح رواں الیکسی ناوالنی ہیں۔ انہوں نے جب سے اپنی قومی جمہوری تحریک کا آغاز کیا ہے ملک کے نوجوانوں کی اکثریت ان کی حمایت کر رہی ہے۔ 

الیکسی ناوالنی کا مؤقف اور مطالبہ ہے کہ روس کے صدر ولادی میر پیوتن استعفیٰ دے کر حکومت سے الگ ہو جائیں اور ملک میں شفاف انتخابات کرائے جائیں، تا کہ بڑے پیمانے پر ہونے والی بدعنوانیوں اور غیرقانونی انتظامی سرگرمیوں کا خاتمہ ہو سکے۔ صدر پیوتن کی حکومت پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ روس کے تیل، گیس اور دیگر معدنی ذخائر کے حوالوں سے جو ملکی غیرملکی معاہدے طے پاتے ہیں ان میں بڑی کرپشن، رشوت اور کمیشن کے سلسلے ہیں۔ 

اقربا پروری، پسند ناپسند، اختیارات کی ناجائز خرید و فروخت کی بنیاد پر معاہدے کئے اور ٹھیکے اَلاٹ کئے جاتے ہیں۔ جس سے ملک کے قومی خزانے کو اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔الیکسی ناوالنی نے صدر پیوتن پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ بحیرئہ کیسپین کے قریب سنگ مرمر کا بڑا عالیشان محل تعمیر کروا رہے ہیں۔ یہ بات تو دُرست ہے کہ بہت بڑا محل تعمیر ہو رہا ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ یہ محل کس کا ہے۔ ایک رائے ہے کہ یہ محل ہوٹل کے لئے تعمیر ہو رہا ہے اور ایک رائے یہ ہے کہ محل روسی صدر پیوتن کی ملکیت ہے۔

مذکورہ محل گزشتہ پانچ برسوں سے زیرتعمیر ہے جبکہ تعمیراتی ماہرین کے مطابق اس کی تکمیل میں مزید تین سال درکار ہیں۔ صدر پیوتن نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے اور کہا کہ یہ محل میرا نہیں ہے۔مگر روس میں عوام کی ایک نمایاں تعداد تذبذب کا شکار ہے۔ اس کے علاوہ عالمی رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے کے مطابق جو سینتیس ممالک کے بیالیس ہزار افراد سے کیا گیا اس میں 58 فیصد لوگوں نے رائے دی ہے کہ روس میں عوام کو ان کے حقوق حاصل نہیں ہو رہے ہیں، کرپشن عروج پر ہے اور انصاف کی فراہمی میں رُکاوٹیں ہیں۔ 

جبکہ 32 فیصد لوگوں کی رائے میں روس میں عوام کو انسانی حقوق حاصل ہیں۔ صدر پیوتن عالمی سطح کے زیرک اور محبِّ وطن رہنما ہیں مگر دس فیصد نے کوئی رائے نہیں دی۔ روس میں ایک نمایاں تعداد ان افراد کی ہے جو موجودہ حکومت سے مطمئن نظر نہیں آتی ہے ان میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ان کا الزام ہے کہ صدر، وزراء اور بڑے افسران بدعنوانیوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے بیرون ملک جائیدادیں کھڑی کی ہیں۔ 

بینک اکائونٹس کھولے ہوئے ہیں۔ روس کے صدر پیوتن نے ان الزامات کی بھی تردید کی ہے۔ بڑی عمر کے روسی باشندے صدر پیوتن کو پسند کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ لبرل ازم اور اس طرح کے سحرانگیز نعروں کے ذریعہ روس کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اب ہم اس ڈرائونے خواب کو دوبارہ دُہرانے نہیں دیں گے۔ صدر پیوتن روس کو اس کی عظمت واپس دلانے کے لئے کوشاں ہیں۔ وہ روس کا عالمی کردار بحال کرنا چاہتے ہیں۔ دُنیا میں امن چاہتے ہیں، وہ عالمی اجارہ داریوں کے خلاف اور مساوات کے علمبردار ہیں،جبکہ حزب اختلاف کی تحریک اپنے مؤقف پر قائم ہے۔ الیکسی ناوالنی جن کی عمر 45سال کے لگ بھگ ہے پُرجوش قانون کی سند رکھنے والے اور ملکی سیاسی، معاشی، انتظامی صورت حال سے پوری طرح باخبر فعال رہنما ہیں۔ 

انہوں نے تقریباً دس برس قبل روس کی ایک بڑی گیس اور تیل کی کمپنی میں بعض بڑے پیمانے پر کرپشن اور بدانتظامی کی واضح نشاندہی کی تھی جس کے بعد الیکسی اور کمپنی کا تنازع زور پکڑ گیا۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے الیکسی کی حمایت میں آواز اُٹھائی۔ اسی اثناء میں الیکسی ناوالنی نے اپنی جماعت قومی جمہوری پارٹی بنا لی اور اس کے پلیٹ فارم سے آواز بلند کرنی شروع کر دی۔ اس تحریک کے دوران انہیں کئی بار حراست میں لیا گیا۔ جیل جانا پڑا اور ملک سے باہر بھی گئے مگر تحریک چلتی رہی ۔ حال ہی میں ماسکو کے بڑے پُرجوش مظاہرے کے بعد الیکسی کو جیل میں ڈال دیا گیا اور ماسکو کی عدالت نے ان کی ضماٰنت بھی منظور نہیں کی ہے۔

روس کے شطرنج کے عالمی چیمپئن گیری کاسپرو نے برطانوی حکومت سے روس پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے ان کا بھی الزام ہے کہ روسی حکومت اور اعلیٰ افسران بڑے پیمانے پرکرپشن میں ملوث ہیں۔ عوام کو ان کے حقوق کی راہ میں رُکاوٹیں حائل ہیں۔ برطانوی پارلیمان میں حزب اختلاف کے رہنمائوں نے بھی الیکسی ناوالنی کی گرفتاری کے خلاف آواز اُٹھائی ہے۔ ایک برطانوی سفارت کار نے بتایا کہ برطانوی حکومت روس پر مزید اقتصادی پابندیوں سمیت دیگر پابندیوں پر بھی غور کر رہی ہے۔

آزاد میڈیا گروپ کا استدلال یہ ہے کہ دس برس قبل جب صدر پیوتن نے اپنا صدارتی منصب سنبھالا تھا تب بھی وہ روس کی امیرترین شخصیات کی فہرست میں شامل تھے۔ روسی صدر پیوتن پر بدعنوانی کے الزامات کے جواب میں روسی صدر کے حامیوں کا مؤقف یہ ہے کہ الیکسی ناوالنی اپنا الگ کھیل کھیل رہے ہیں۔ روسی عوام دوبارہ کسی جھانسے میں نہیں آئیں گے اگر ناوالنی سیاست کرنا چاہتے ہیں تو وہ صدر پیوتن کے مقابلے میں انتخابات میں حصہ لیں۔

روس میں حزب اختلاف کی جاندار تحریک کےباوجود صدر پیوتن کی حمایت کرنے والوں کی تعداد بھی نمایاں ہے۔ وہ صدر پیوتن کی داخلی اور خارجہ پالیسی کی حمایت کرتے ہیں حامی دھڑوں کا کہنا ہےکہ صدر پیوتن نے عالمی سطح پر ایک بار پھر روس کو طاقتوں کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ یورپی یونین سے بالخصوص مشرقی یورپی ممالک سے تعلقات بہتر بنائے۔ روسی فیڈریشن کو عالمی سطح پر بڑی طاقت تسلیم کرایا۔ روس میں فٹ بال کے عالمی کپ کے مقابلے کروائے، ونٹر اولمپک کے مقابلے کروائے، صنعتی، معاشی اور سیاسی اصلاحات پر کام کیا۔ شام میں مداخلت کر کے مغربی طاقتوں کی اجارہ داری اورمن مانیوں کو چیلنج کیا اور کووڈ۔19کی لہر کے دوران مناسب منصوبہ بندی کی۔ اس کے علاوہ احتجاجی تحریک کو بھی اجازت دی۔ 

صدر پیوتن کے حامیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پیوتن روس کو نمایاں ترین جگہ پر لانا چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ آج بھی روس کو اپنا سب سے بڑا سیاسی حریف تصوّر کرتا ہے۔ امریکہ کو روس کی طاقت کا بخوبی اندازہ ہے۔واضح رہے کہ روس آج بھی دُنیا کا سب سے بڑا ملک ہے، اس کی آبادی ساڑھے چودہ کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ قدرتی گیس کی پیداوار میں پہلا نمبر ہے جبکہ تیل کی پیداوار میں بھی نمایاں ترین ملک ہے۔ بجلی کی پیداوار میں چوتھا بڑا ملک ہے۔ تعلیم خاص طور پر اعلیٰ تعلیم اور تحقیق میں دُوسرے نمبر پر شمار ہوتا ہے۔ روس خلائی ٹیکنالوجی میں سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ خواندگی کی شرح 97 فیصد ہے۔ روس کا زرعی شعبہ مضبوط ہو رہا ہے۔ 

قابل کاشت رقبہ میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ہائوسنگ سیکٹر بھی ترقّی کر رہا ہے۔ روسی صدر پیوتن نے عالمی سطح پر ہر فورم میں کرّئہ اَرض کے ماحولیات، موسمی تغیرات، اجارہ دار سرمایہ داری نظام اور اس کے منفی اثرات، مصنوعی ذہانت کا بتدریج پھیلائو اور اس کے اثرات، ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں اضافہ کے اثرات اور عالمی سطح پر غربت اور معاشی ناانصافی کے خاتمے کے لئے آواز اُٹھائی۔صدر پیوتن نے امریکہ اور یورپی طاقتوں کو یہ باور کرایا ہے کہ استحصالی قوتوں کو من مانی کرنے کی چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔ اس حوالے سے روس کا کردار عالمی سیاست میں اہم ہے۔