• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر محمد جاوید ایم ڈی

اللہ کریم نے جب اپنے نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ پر اپنی آخری کتاب قرآن کریم نازل فرمائی تو سب سے پہلے جو لفظ پیش کیا گیا ،وہ اقرأ تھا ، یعنی پڑھیے ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جتنے نبی بھیجے ،وہ علم و فن کی کسی نہ کسی شاخ کو لےکر تشریف لائے ۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ فرماتے ہیں ’’حضرت آدم علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے جو صحیفے نازل فرمائے، اْن میں سب سے پہلا صحیفہ حروف تہجی پر تھا۔ حضرت آدم علیہ السلام کی دین کی تبلیغ اور اللہ کا پیغام پہنچانے کے ساتھ ساتھ زیادہ تر توجہ نسل افزائی ، زمین کی پیداوار بڑھانے انسان کی بھلائی پر مبذول رہی ۔ قرآن مجید میں ہے : اس نے آدم علیہ السلام کو سب کے سب نام بتا دیے۔ اس تعلیم کی کیفیت ہمارے نزدیک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پراْن اسمائےپاک کی حقیقت ظاہر فرمائی جن کی تخلیقات سے حوادث عالم ظہور میں آئے ‘‘ ۔ (خیر کثیر ، صفحہ ۱۴۴)

یہاں پر دو باتوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایک تو یہ کہ آدم علیہ السلام نہ صرف اللہ کے پہلے نبی ہیں، بلکہ اس عالم میں بھیجے جانے والے پہلے انسان بھی ہیں ۔ اس عالم میں آپس میں رابطے کےلیے ایک ایسے ذریعے کی بھی ضرورت تھی جس سے انسان اپنے مافی الضمیر کا صحیح طریقہ سے اظہار بھی کر سکے ۔ اسی لیے ان کے پہلے صحیفے میں حروف تہجی کی تعلیم دی گئی، تاکہ وہ ( Abstract) ابتدائی اور بنیادی باتوں کو الفاظ میں ڈھال سکیں، تاکہ سننے والا وہی مطلب نکال سکے جس کا اظہار کہنے والے نے کیا ہے ۔ یہ شاہ ولی اللہ ؒ کا کمال ہے، اُن کی بات وہاں پہنچتی ہے،جہاں دوسرے حضرات سوچ بھی نہیں سکتے۔ 

ابن عربیؒ کے بعد غالباً شاہ صاحبؒ وہ دوسرے شخص ہیں ،جنہوں نے عالم صوت کی طرف توجہ کی اور اس کی طرح دھیان دلایا ۔ جدید فلسفی اور سائنس دانوں نے بھی اس موضوع پر بات کی ہےکہ کس طرح ایک انسان اپنی بات کو دوسرے انسان تک پہنچاتا اور الفاظ کے ذریعے رابطہ قائم کرتا ہے ۔ انسان جب خواب دیکھتا ہے یا جنات یا فرشتوں سے بات کرتا ہے یا جنات اور فرشتے آپس میں بات کرتے ہیں تو وہ اشراف یعنی Telepathy کے ذریعے بات کرتے ہیں ۔جس عالم میں انسان رہتے ہیں ،اسے عالم ناسوت کہا جاتا ہے ۔ اس عالم کا انسان اپنے حواس خمسہ سے مشاہدہ کرتا ہے، اس لیے اسے عالم مشاہدہ اور عالم صوت بھی کہا جاتا ہے ۔جس عالم میں فرشتے اور ارواح کا عمل دخل ہے، اسے عالم ملکوت کہا جاتا ہے۔ جس عالم سے اللہ کے اسماء اور صفات کا ظہور اور احکام کا نزول ہوتا ہے، اسے عالم جبروت یا عالم امر بھی کہا جاتا ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ ؒ اپنی کتاب ’’فیوض الحرمین ‘‘میں فرماتے ہیں : اب اگر تم مجھ سے یہ پوچھو کہ آخر اس میں کیا حکمت ہے کہ زمانہ قدیم میں آدم علیہ السلام کے بعد لوگوں کا رجحان ذہن کے جمود اور طبیعت کی سستی کی طرف زیادہ رہا اور وہ حیوانی خواہشات میں بیشتر الجھے رہے۔ اس زمانے میں معدودے چند کے سوا کہیں اجتماعی ادارے وجود میں نہ آئے ۔ اور شاذ و نادر ہی خطابت ، طبیعات اور الہٰیات کے علوم میں سے کوئی علم ایجاد ہوا ۔ باوجود اس کے کہ اس زمانے میں لوگوں کی بڑی لمبی عمریں ہوتی تھیں ۔ اور وہ ان علوم میں بہت غور و خوض بھی کرتے تھے۔ لیکن جب حضرت ابراہیم علیہ السلام مبعوث ہوئے تو ان کے بعد یونان، روم ، فارس ، بنی اسرائیل ، مغرب اور عرب میں ان علوم میں قدرے ترقی ہوئی۔ پھر جوںہی رسول اللہﷺ کی بعثت ہوئی، ان علوم کا بڑے زور و شور سے فیضان ہو ا اور علوم حکمت ،فنون ،ادب و خطابت اور علوم شریعہ اس طرح پھوٹ پڑتے ہیں کہ گویااس کے بعد علوم کا ارتقاء عمل میں آیا‘‘۔

شاہ ولی اللہ ؒ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی تجلّی ظاہر ہوئی جس سے زمینوں اور آسمانوں کی کل فضا بھر گئی ۔ اس کی حقیقت عبارت ہے اس معرفت سے جو انسان کو اپنے رب کے بارے میں حاصل ہوئی ۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اس نے جب اپنے رب کو اس طرح جان لیا ، جیسا کہ اس کے جاننے کا حق تھا اور اس نے اپنے رب کا اسی طرح تصور کرلیا، جیسے اسے تصور کرنا چاہیے تھا ،تو رب کو اس طرح جاننے اور اس کا اس طرح تصور کرنے سے اس کے ادراک میں اللہ تعالیٰ کی ایک باعظمت صورت نقش ہو گئی ، جو ترجمان بن گئی ،اللہ تعالیٰ کی جلالت شان ، اس کی عزت اور رفعت کی ۔ چناںچہ جب تک یہ تصور قائم ہے ، اللہ تعالیٰ کی یہ صورت بھی اْس کے اندر موجود رہے گی ۔ اس صورت کی خصوصیت یہ ہے کہ اْس کا کلیتہً اللہ پر انطباق ہوتا ہے اور وجود باری تعالیٰ جو فی نفس الامر ہے، یہ صورت اس کی بہت صحیح ترجمانی کرتی ہے ‘‘۔

یہاں شاہ صاحبؒ نے کچھ باتیں بیان فرمائی ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے ۔ شاہ صاحبؒ نےاس حوالے سے’’ شخص اکبر‘‘ کا ذکر فرمایا۔ جس کا ڈاکٹرغلام حسین جلبانی نے ( Greater Body ) کے نام سے ترجمہ کیا ہے ۔ یعنی اللہ نے ایک ایسی عظیم ذات کی تخلیق کی جس میں کون ومکان کی ہر چیز کا وجود ہے ۔

دوسری بات جو شاہ صاحب نے فرمائی ہے ،یہ وہ بیان ہے ۔ جسے سورۂ نجم کی آٹھویں آیت میں بیان کیا گیاہے ثم دنا فتدلیٰ ، شاہ صاحبؒ کی کتابوں میں یہ تدلی کے زیرِ عنوان ہے ۔در حقیقت شاہ ولی اللہ ؒیہ فرماتے ہیں کہ تمام علوم انبیاء سے چلے، اسے لوگوں نے اپنے اپنے اعتبار سے لیا اور اپنے اعتبار سے اس کی تاویل کی ۔ اس سے مسلمانوں کا ان علوم پر اثر انداز ہونا ظاہر ہوتا ہے ۔ شاہ صاحبؒ کی نگاہ کہاں تک نہیں پہنچی ۔ آپ نے الہٰیات ، فلسفہ ، زبان دانی ، علم النجوم و فلکیات ، تاریخ ، علوم کا مختلف قوموں میں رواج پانا اور پھر وہاں سے دوسری قوموں میں جانا وغیرہ پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔

شاہ ولی اللہؒ کی اور تصانیف سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے پڑپوتے، حضرت ادریس علیہ السلام نے علم الاعداد، حروف کے اسرار، تعویذات کا علم ، ستاروں اور برجوں کے علوم کو ترقی دی ۔ آپ کے تشریف لےجانے کے بعد یہ علوم کلدانیوں ، بابل ونینوا میں پروان چڑھتے رہے۔ ان لوگوں نے ان علوم کو کتابی شکل میں مدون کیا اور ان کے اصول وضع کیے۔ (ملاحظہ فرمائیں تفہیمات الہٰیہ ، تفہیم نمبر ۳۶ ، ناشر شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی ،انڈیا ) پھر جب یونانیوں کا دور آیا توانہوں نے ان علوم کو بابل و نینوا سے لیا اور اسے مزید ترقی دی ۔ آپ واقف ہیں کہ سرزمین یونان نے بڑے بڑے فلسفی اور حکما کو پیدا کیا ، نئے نئے علوم ایجاد ہوئے ، سوچنے کے انداز میں تبدیلی اور مختلف نظریات پیش کیے گئے ۔ یہ ساری باتیں اہل علم کی نگاہ میں ہیں ۔

پھر ایک وقت آیا کہ یونانیوں کا زوال اور رومیوں کو ترقی ہوئی اور اس طرح یہ علوم یونانیوں سے ہوتے ہوئے رومیوں کے پاس پہنچے ۔جب بھی کوئی قوم ترقی کرتی ہے ،وہ ان علوم میں اپنا اپنا حصہ ڈالتی ہے اور یہ علوم آگے بڑھتے ہیں ۔ رومیوں نے نہ صرف ان علوم کو آگے بڑھا یا، بلکہ ان علوم کو سنبھالنے کا ذریعہ بھی بنے اور یہ علمی امانت بالآخر عباسیوں کے دور میں قرون وسطیٰ کے مسلمانوں کے حوالے کی۔ یہاں سے ایک اور داستان پیدا ہوتی ہے جس کے اثرات صدیوں پر محیط ہیں ۔

جب یہ افکار مسلمانوں میں پہنچے تو مسلمانوں میں بھی ہلچل پیدا ہوئی اور بڑے بڑے فلسفی ، سائنس دان، مفکر اور حکما پیدا ہوئے ۔ حکمت ، فلسفہ ، حسابیات، نجوم و فلکیات کو عروج حاصل ہوا ۔ یہ سلسلہ یہاں تک پھیلا کہ اس سے پہلے کسی نے دیکھا نہ سنا ۔ یہاں تک تو سب ٹھیک ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ کئی برائیاں بھی سامنے آئیں ،جس نے ایما ن اور یقین میں کمزوری پیدا کی اور کئی فتنے کھڑے ہوگئے ، جیسے خلق قرآن کامسئلہ ۔ عباسیوں کا دور ایسا دور ہے، اگر آج اس کا موازنہ کیا جاے تو جو صورت حال آج امریکہ کی ہے ،اس سے اسےکافی مماثلت حاصل ہے ۔جب دولت کی فراوانی ہو ، جب روزی کمانے کی فکر نہ ہو ، جب امن و امان کا دور دورہ ہو اور انسان کی عموماً عزت و آبرو محفوظ ہو ،ایسے دور میں انسان کو مختلف خیالات سوجھتے ہیں۔ کچھ اچھے بھی ہوتے ہیں اور عموماً نقصان دہ بھی ۔ مسلمان ایک نظریاتی قوم ہے، اس کا تعلق کسی علاقے سے نہیں ،اس لئے ان کے عقائد اور نظریات میں خلل ہوگا تو ان میں آہستہ آہستہ کمزوری پھیلے گی جو آخرکار ان کی تباہی کا سبب بن جائےگی ۔ (…جاری ہے…)

تازہ ترین