اسلام کے خاندانی نظام میں کفالت اور ذمے داری کا تصور
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام کے خاندانی نظام میں کفالت اور ذمے داری کا تصور

مولانا نعمان نعیم

(مہتمم جامعہ بنوریہ عالمیہ)

اسلام کے معاشرتی نظام میں مسلمانوں کی اکثریت مشترکہ خاندانی نظام پر نہ صرف عمل پیرا ہے، بلکہ اسے عظمت واحترام کی نظر سے دیکھتی ہے، اسے خیر وبرکت کا ذریعہ سمجھتی اور بسا اوقات اس طرز معاشرت کو اسلام کا مطلوب ومقصود بھی گردانتی ہے۔خاندان کے لیے عربی میں ’’الاسرۃ‘‘ انگریزی میں ’’فیملی‘‘اور فارسی زبان میں خانوادہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے جو عرف عام میں کنبہ، قبیلہ، برادری کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔

خاندان کی اصطلاحی تعریف یہ ہے کہ اس کی آل اولاد اور باپ کی طرف سے قریبی رشتے داروں کو کہا جاتا ہے۔علامہ شامی نے خاندان کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے :کسی شخص کا خاندان اس کی بیوی اور گھر کے افراد ہیں۔ امام محمدؒاور امام ابو یوسف ؒکے ہاں کسی شخص کی کفالت و حضانت میں سوائے غلاموں کے جتنے بھی افراد شامل ہیں، وہ سب خاندان کہلاتے ہیں ۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے انہیں اوران کے خاندان کو نجات دی۔خاندان کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے ،جتنا کہ خود انسان کا وجود کیونکہ انسان طبعی طور پر معاشرت پسندی اور اجتماعیت کو چاہتا ہے ۔ عربی کا مشہور مقولہ ہے: انسان ہمیشہ سے معاشرت اور اجتماعیت کا دل دادہ رہا ہے۔

انسان اجتماعیت اور معاشرت پسند اس لئے ہے کہ اللہ نے اس کے اندر ایسےمختلف عناصر کو جمع کر رکھا ہے جس وجہ سے وہ اکیلا رہ سکتا ہے اورنہ اسے پسندکرتا ہے۔ اللہ نے انسان میں جو محبت کا عنصر رکھا ہے ،اس وجہ سے بھی انسان دوسرے انسان کے دکھ درد میں شریک ہوتا ہے قرآن کریم میں ارشادِ رب العزت ہے:ہم نے تمہارے اندر محبت و الفت پیدا کر دی۔(سورۃ الروم)اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کے ساتھ دکھ درد اور تعاون کاحکم فرمایا :اورنیکی وتقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو ،جبکہ گناہ کے کاموں میں تعاون نہ کرو۔(سورۃ المائدہ)رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اورتم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں بازپُرس ہو گی۔(صحیح بخاری)

قرآن مجید میں ارشاد ہے:اے لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو، بے شک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے‘‘۔(سورۃ النساء)

اسلام میں جہاں عبادات ،معاملات،حُسنِ معاشرت ،باہمی رویوں ،حسنِ سلوک اور مکارم ِ اخلاق کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔وہیں دینی ، اخلاقی اوراسلام کی عطا کردہ خاندانی اقدار کو کلیدی اور بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ قرآن کریم میں ارشادہے:( ترجمہ) ’’اللہ ہی نے تمہیں زمین کا خلیفہ بنایا اور باہم فرق مراتب رکھا، تاکہ تمہیں عطا کردہ چیز کے بارے میں آزمائے،بے شک، تمہارا پروردگار جلد عذاب دینے والا ہے اور وہ یقیناً بخشنے والا اور مہربان بھی ہے‘‘۔ اسی لیے شریعت مطہرہ نے اپنے تمام قانونی احکام اور اخلاقی ہدایات میں اس فطری تنوع کا لحاظ رکھا ہے،زندگی کا کوئی مرحلہ ہو اسلام نے اپنے کسی بھی حکم میں یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ اس نے کسی فریق یا زندگی کے کسی پہلو کو نظر انداز کیاہو،یا کسی کی شناخت کو ختم کرنے کی کوشش کی ہو،اسلامی قانون سراپا عدل وانصاف پر مبنی ہے،اسی بنیاد پر یہ دین قیم اور دین فطرت ہے،اسلام کے نزدیک عدل ہی تقویٰ کا معیار ہے۔ ہم مثال کے طور پر اسلام کی چند ان ہدایات کا تذکرہ کرتے ہیں،جن کا تعلق دو مختلف المراتب فریقین سے ہے اور جن سے انسان کو روز وشب دو چار ہونا پڑتا ہے۔

والدین اور اولاد دو مختلف طبقے ہیں،مگر اسلام نے دونوں کے مراتب کا مکمل لحاظ رکھتے ہوئے قانونی ہدایات دی ہیں،ایک طرف والدین کا اتنا عظیم حق بتایا گیا کہ ان کے سامنے اُف تک کہنے کی اجازت نہیں ہے،قرآن کریم میں ہے:’’ اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو، اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف تک نہ کہو اور نہ جھڑکو،ان سے اچھے لہجے میں بات کرو اور رحمت وانکسار کے ساتھ ان کے آگے جھک جاؤ اور ان کے لیے دعاکرو کہ پروردگار ان پر رحم فرما، جس طرح انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی۔ احادیث میں والدین کے حق کو جہاد فی سبیل اللہ سے بھی مقدم بتایاگیا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ، اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کیا ہے؟آپﷺ نے ارشاد فرمایا، وقت پر نماز پڑھنا، میں نے عرض کیا، اس کے بعد کس عمل کا درجہ ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، میں نے عرض کیا پھر کون سا عمل؟ 

آپﷺ نے فرمایا، جہاد فی سبیل اللہ۔ دوسری طرف والدین کو اپنی اولاد کے حقوق کی طرف توجہ دلائی گئی اورانسان پر اولاد کی تعلیم و تربیت کی پوری ذمے داری ڈالی گئی اور کہا گیا کہ اس سلسلے میں اللہ کے دربار میں انہیں جواب دہی کا سامنا کرنا ہوگا،ایک حدیث کے الفاظ ہیں: ’’مرد اپنے گھروالوں کا نگراں ہے،اس سے اس کی رعیت کے بارے میں بازپُرس ہوگی۔ اولاد کو انسان کی سب سے بڑی پونجی اور صدقہ جاریہ قرار دیاگیا۔ میاں اور بیوی گھریلو زندگی کے بڑے ستون ہیں،ازدواجی زندگی میں دونوں کو الگ الگ ہدایات دی گئیں،شوہر سے کہا گیا کہ تمہاری یک گونہ فضیلت کے باوجود ان کے حقوق کے معاملے میں تم اسی طرح جواب دہ ہو جس طرح کہ وہ تمہارے معاملے میں جواب دہ ہیں: (ترجمہ) عورتوں کا مردوں پر اتنا ہی حق ہے، جتنا مردوں کا ان پر ہے، البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت حاصل ہے۔

جولوگ اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھے طور پر رہتے ہیں، انہیں معاشرے کا اچھا آدمی قرار دیاگیا ۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں بہتر شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔ عورتوں کی دل داری کا اس قدر خیال رکھا گیا کہ ان کی جبری اصلاح سے بھی روکا گیا۔ ایک حدیث میں ہے:کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے نفرت نہ کرے، اس لیے کہ اگر ایک بات ناپسند ہوگی تو دوسری کوئی بات ضرور پسند آئے گی۔ شوہر کی رضا مندی کو عورت کے لیے جنت میں داخلے کا وسیلہ قرار دیاگیا۔ حضرت ام سلمہؓ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو عورت مرجائے اور اس کا شوہر اس سے راضی ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگی۔

ایک طرف امراء وحکام کو عدل وانصاف،ادائے امانت، رحم وکرم، خوف خدا اور قانون کی بالادستی کی تاکید کی گئی۔( ترجمہ)رحم کرنے والوں پر رحمن رحم کرتا ہے،اہل زمین پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔(ترجمہ) انصاف کرو یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ (ترجمہ) امانتیں اہل امانت کے حوالے کرو اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو۔ نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا: جو امام وحاکم ضرورت مندوں سے اپنا دروازہ بند کرلیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت کے وقت آسمان کے دروازے بند کرلے گا۔( ترجمہ) جو شخص مسلمانوں کے معاملے کا ذمے دار ہونے کے بعد ان کی ضرورت کے وقت سامنے نہ آئے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی ضرورت وحاجت کے وقت اسے نظر نہیں آئے گا۔( ترجمہ) وہ حاکم جولوگوں پر مقرر ہے، وہ نگران کار ہے،اس سے اس کی زیرنگرانی افراد کے متعلق بازپرس ہوگی۔(ترجمہ) جس بندے کو اللہ کسی رعیت کا نگراں بنائے اور وہ اس کی خیرخواہی نہ کرے تو وہ جنت کی بوبھی نہیں پائے گا۔

ایک طرف انسان کو مواقع تہمت سے بچنے کا حکم دیاگیا،تاکہ کسی کو بدگمانی یا قیاس آرائی کا موقع نہ ملے تودوسری طرف اپنے مومن بھائیوں کے ساتھ حسن ظن رکھنے کا حکم دیاگیا اور بہت سے گمانوں کو گناہ قرار دیاگیا اور کسی کی ٹوہ میں رہنے سے منع کیاگیا۔ اس طرح کی بے شمار مثالیں ہیں،جن میں شریعت اسلامیہ نے دو طرفہ اور سہ طرفہ ہدایات دے کر لوگوں کے حقوق،ان کی شناخت اور ترجیحات کا تحفظ کیا ہے، تاکہ نظام عالم قائم رہے، معاشرتی اقدار و روایات جاری رہیں اور ہر شخص کی ذاتیات بھی محفوظ رہیں، اسلام کسی بھی ایسے فکر وعمل کی اجازت نہیں دیتا جس سے کسی فرد یا اجتماع کا مفاد متاثر ہوتا ہو، خاندانی نظام کے مسائل کو سمجھنے کے لیے اسلام کے اس مزاج کو پیش نظر رکھنا ازحد ضروری ہے۔