• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وادی مہران کی مٹی سے جنم لینے والی متعدد ایسی خواتین کا نام ملتا ہے جن کے رفاہ عامہ کے کاموں کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی رہائشی بستی، علاقے، عمارت، گلی ان کے نام سے منسوب کر دی۔ اس کی واضح مثال منچھر جھیل کے کنارے ’’بوبک‘‘ ٹنڈو محمد خان کے قریب شاہ کریم ’’بلڑی‘‘ حیدرآباد کا ٹنڈو ماہی ماہین اور سندھ کا پرانا شہر ڈگری شامل ہے۔

یہ حیدرآباد سے جنوب کی سمت 134کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ 1780ء تک’’ ڈگری ‘‘نام کا کوئی شہر یا گوٹھ سندھ میں نہیں تھا۔ آج جہاں ڈگری شہر آباد ہے، وہاںکسی دور میں مچھیروں کےچند گھروں پر مشتمل بستی آباد تھی، جب کہ اس کے گردو نواح کے علاقے میںزراعت سے وابستہ چند کاشت کار رہائش پذیر تھے۔ڈگری، ضلع میرپورخاص کا دُوسرا بڑا شہر ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ’’یہ شہر ایک میر بحر خاتون‘‘ مائی ڈگھی‘‘ کے نام سے منسوب ہے۔ اس خاتون کا اصل نام تو کسی کو معلوم نہیں، لیکن یہ اپنی دراز قامت اور باوقار شخصیت کی وجہ سے پوری بستی میںڈگھی کے نام سے معروف تھی۔’’ ڈگھی‘‘ سندھی زبان میں دراز، یا لمبائی کے لیے استعمال ہوتا ہے جو بعدازاں بگڑ کر ڈگری ہوگیا۔

مائی ڈگھی، سندھ کے حکم راں میاں سرفراز کلہوڑو کے نام سے منسوب ’’سرفراز واہ‘‘ کے گھاٹ پر اپنی کشتی کے ذریعے علاقہ مکینوں اور مسافروں کو بلامعاوضہ ایک کنارے سے دُوسرے کنارے پہنچانے کا فریضہ انجام دیتی تھی۔سرفراز واہ کے قریب ہی ایک چھوٹا سا قصبہ آباد تھا، جس میں ایک مختصرسا بازار بھی تھا۔اس میں روزمرہ کی اشیاء کی خرید و فروخت کے علاوہ سونے کی تجارت بھی ہوا کرتی تھی۔ اسی بناء پریہ قصبہ ’’سنہری‘‘ کے نام سے معروف ہوگیا تھا۔ اس دور میں میر محمد خان نامی ایک ڈاکوکی بڑی دہشت پھیلی ہوئی تھی، وہ جنوبی سندھ کے علاقوں میں انتہائی دیدہ دلیری سے ڈاکے ڈالتا تھا۔ 

ایک روزوہ اپنے گروہ کے ساتھ سنہری بازار کی دُکانوں پر حملہ آور ہوا اور یہاں سے بھاری مقدار میں سونا لوٹ کر لے گیا۔اس واردات کے نتیجے میں سونے کے بیوپاری، تاجر اور دُکان دار مالی طور پر مکمل قلاش ہوگئےاور اس واقعے سے اتنے دِل برداشتہ ہوئے کہ انہوں نے اس قصبے کو مکمل طورپر خیرباد کہہ دیا اور جنوبی افریقہ ہجرت کر گئے۔ کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ نے سے قصبہ سنہری کے اس بازار کا نام و نشان مٹ گیا۔کہا جاتا ہے کہ کچھ عرصے بعدمائی ڈگھی نےانتہائی بہادری سے ڈاکوئوں کا مقابلہ کیا اور ان کے گروہ کا خاتمہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے بعد یہ شہر مائی ڈگھی کے نام کی مناسبت سے ’’ڈگری‘‘ کے نام سے معروف ہوا۔

مؤرخین کی متفقہ رائے ہے کہ دُنیا کی قدیم تہذیبوں کا ظہور دریائوں کے کنارے ہوا۔ دریا،نہر، جھیلوں اورواہ کے کنارے چند گھروں پر مشتمل بستیاں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قصبوں اور شہروں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ ڈگری شہر کی یہ خوش قسمتی رہی کہ سرفراز واہ کے علاوہ اس کے وسط میں دریائے سندھ بھی بہتا تھا، جو اس شہر کی آبادی میں اضافے کا سبب بنا۔ اس کا پانی کھیتوں، کھلیانوں اور آبادی کو سیراب کرتا ہوا، بحیرئہ عرب میں گرتا ہے۔ 1026ء میں سلطان محمود غزنوی نے سومنات کو فتح کرنے کے بعد اپنے لشکر کے ساتھ اسی دریا کے کنارے سفر کرتا ہوا غزنی پہنچا تھا۔ واپسی کے سفر میں سلطان کے متعدد سپاہی ہلاک ہو گئے تھے جنہیں ٹنڈو محمد خان سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر قدیم آمری قبرستان میں دفن کیا گیا۔ڈگری شہر کو خانانی تالپوروں نے اپنا مسکن بنایا۔ 

انگریزوں نے سندھ پر اپنی حکم رانی قائم کی تو اس وقت ڈگری کا علاقہ تحصیل دیر محبت خان ضلع حیدرآباد میں شامل تھا۔ بعدازاں 1903ء کے دوران اس کو حیدرآباد سے علیحدہ کر کے تحصیل کا درجہ دے دیا۔ اس دور کے گزٹ میں تحریر ہے کہ اس شہر کی آبادی اس دور میں 11 سو نفوس پر مشتمل تھی، مگر 2017ء کی مردم شماری کے مطابق 2 لاکھ نفوس سے زائد ہے۔ انگریزوں نے اس شہر کو خاصی ترقّی دی، لیکن حوادثِ زمانہ اور موجودہ حکم رانوں کی عدم توجہی کے سبب یہ شہر اپنی تاریخی و سماجی اہمیت کھو رہا ہے۔

اس شہر کے لوگ علی الصباح بیدار ہوتے ہیں۔ یہاں کی 80 فیصد آبادی کھیتی باڑی، تجارت، صنعت و حرفت، کاروبار و مختلف ہنرمندی و پیشوں سے وابستہ ہیں جبکہ 20 فیصد سرکاری ملازمت کرتے ہیں۔ اس شہر کی 85 فیصد آبادی سندھی، پنجابی اور اُردو بولنے والوں پر مشتمل ہے۔ یہاں پشتون اور بلوچ برادریاں بھی رہائش پذیر ہیں۔ بلوچ اور جٹگال وارڈ نمبر9 کی بلوچ کالونی اور میر فتح ٹائون وارڈ نمبر11 میں یوسف آباد، غریب آباد کالونی اور الٰہ باد کالونی میں پنجابی برادریاں رہتی ہیں۔

اس شہر میں اقلیتی برادریاں بھی آباد ہیں۔ ان میں مالہی تعلیم یافتہ ہو کر تعلیمی اداروں سے وابستہ ہیں، مینگواڑ اور کولہی برادری زراعت کے آبائی پیشے سے وابستہ ہے۔ یہ شہر مختلف شہروں کے قلب میں واقع ہے۔اسےوسعت دینے کے لیے انگریزوں نے میرپورخاص سے کھوکھراپار مونا بائو کی سمت میٹر گیج ریلوے لائن بچھائی جس سے 1909ء کے دوران جھڈّو تک ریلوے لائن کا کام مکمل کر کے ریلوے نظام سے مربوط کردیا گیا۔جس کے بعدڈگری کے لوگوں کو سفرمیں آسانی ہوگئی۔ڈگری شہر کی جانب ٹرینوں کی آمدورفت گزشتہ ایک دہائی سے بند ہے۔

لیکن شہر کے قلب میں واقع محمدی چوک سے 5 سڑکیں مختلف علاقوں کی سمت جاتی ہیں۔ ان میںٹنڈو غلام علی روڈ،ر ٹنڈو باگو روڈ، کوٹ غلام محمد روڈ، ٹنڈو جان محمد روڈ شامل ہے۔ 1901ء کے دوران انگریزوں نے سندھ کی غیرآباد زمینوں کو آباد کرنے کے منصوبے کے تحت ڈگری اور اس کے نواحی علاقوں میں مشرقی پنجاب کے کاشت کاروں کو زراعت کی بہتر سہولتیں و مراعات مہیا کیں اور 1910ء تک ان کاشت کاروں کی ڈگری میں آبادکاری کا کام مکمل کیاگیا۔ 

ان میں جاٹ، سکھ اور آرائیوں کی تعداد نمایاں تھی۔ جس کی واضح مثال ڈگری کی دیہہ نمبر170اور دیہہ نمبر190ہیں جن کے کاشت کار اب بھی انتہائی محنت کش ہیںاورزراعت کے قدیم ُصولوں پر قائم رہ کر بہتر فصلیں حاصل کرتے ہیں۔ قیام پاکستان کے دوران ڈگری سے سکھ کاشت کارمشرقی پنجاب کوچ کر گئے، یہاں کا گنا، مرچ اور کپاس خاصی مشہور ہے۔ سرسوں، کیلا، جوار، گندم اور سبزیوں کی وافر فصل ہوتی ہے جبکہ امرود، بیر، پپیتا، چیکو اور آم تو انتہائی ذائقہ دار ہوتے ہیں۔

ڈگری، ہمیشہ ہی سے سیاسی، سماجی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے، اس شہر سے محض 4 کلومیٹر کے فاصلے پر گائوں فقیر غلام علی لغاری واقع ہے۔ یہ سوریہ بادشاہ پیر صبغت اللہ راشدی المعروف پیر صاحب پگارا کے حُر مریدوں کا سب سے بڑا گائوں ہے، انگریزوں کے خلاف جدوجہد آزادی میں نا صرف اس گائوں ، بلکہ اس کے نواحی علاقوں میں رہائش پذیر حُروں نے بھی بھرپور حصہ لیا، لیکن انگریزوں نے اس تحریک کو بغاوت کا نام دے دے کر سندھ میں ماشل لاء نافذ کر دیا۔

بعدازاں ’’حُر ایکٹ‘‘ تشکیل دے کر حُروں کو گرفتار اور انہیں سزائیں سُنائی جانے لگیں تو ڈگری کے حُر مجاہدین بھی انگریزوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے۔ تحریک پاکستان کے دوران نمایاں خدمات انجام دینے والی اہم شخصیت اور قائداعظم محمد علی جناح کے رفقائے خاص میں شامل بیرسٹر غلام محمد بھرگڑی کا تعلق بھی اسی شہر سے ہے، جنہوں نے مقامی نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کو نا صرف یقینی بنایا بلکہ کپاس صاف کرنے کا پہلا کارخانہ بھی لگایا۔ اسی طرح مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور مسلم لیگ کے تحت قیام پاکستان میں خدمات انجام دینے والے فاروق مصطفیٰ مرحوم اور انڈیا کے سابق وزیر خارجہ سردار سورن سنگھ کا تعلق بھی اسی شہر کی دیہہ نمبر 202سے ہے۔ 

اسی شہر میں رُوحانی بزرگ سیّد محمد شاہ جیلانی کا مزار ہے۔بالاکوٹ کے سیّد احمد شہید دہلوی اور سیّد اسماعیل شہید بھی سکھوں سے جہاد کرنے کے لیےاس علاقے سے گزر کر گئے تھے۔شہر میں بڑھتی ہوئی آبادی نے مسائل کو بھی جنم دیا۔ دیگر شہروں کی طرح یہاں بھی گھنٹوں بجلی کی لوڈشیڈنگ رہتی ہے۔ اندرون شہر لوگ پیدل چلنے کے بجائے چنگ چی رکشہ کو ترجیح دیتے ہیں۔ جن راستوں پرکبھی تانگے چلتے تھے ،اب لوگ 20روپے کے کرائے میں چنگ چی یا آٹو رکشہ پر سفر کرتے ہیں جو انہیںشہرکےایک کونے سے دُوسرے کونے تک بآسانی پہنچا دیتے ہیں۔ 

خواتین انتہائی ضرورت کے تحت گھروں سے باہر نکلتی ہیں۔ ڈگری کی خواتین، کھیتوں میں مردوں کے شانہ بہ شانہ کام کرتی ہیں یااپنے گھروں میں دست کاری کے ہنر سے آمدنی حاصل کرتی ہیں، اس شہر میں اقلیتوں کو تمام تر حقوق حاصل ہیں، ان کی سب سے بڑی آبادی ڈگری شہر کے ہریجن محلّے میںہے۔ لوگوں کی تفریح طبع کے لیے ایک پارک اور جیم خانہ کلب ہے جبکہ لوگوں میں تعلیمی رُجحان ہونے کے باوجود ہائی اسکولوں کی کمی کو شدت سے محسوس کیا جاتا ہے۔

ڈگری کی ہوائیں، دن بھر کی محنت مشقت اور تھکا دینے والے کاموں میں راحت جاں محسوس ہوتی ہیں۔ پولیس کا نظام مؤثر ہونے کی بنا پر جرائم کی شرح کا تناسب کم ہے۔ اس لیے سیّاح اس شہر میں قیام و طعام کو پسند کرتے ہیں اور تازہ دَم ہو کر اپنی اگلی منزل کی جانب روانہ ہو جاتے ہیں، اگر آپ بھی فطرت کے نظاروں سے لُطف اندوز ہونے اور جفاکشی دیکھنے کے خواہش مند ہوں تو ڈگری شہر ضرور دیکھئے گا اور ہاں! یہاں کی لسّی اور گرم جلیبیاں کھانا مت بھولئے گا۔