آپ آف لائن ہیں
جمعرات19؍ رجب المرجب 1442ھ4؍مارچ 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

فالکنز ایکسپورٹ نہیں، تحفہ میں دیئے جارہے ہیں، ڈپٹی اٹارنی جنرل

اسلام آباد (نمائندہ جنگ) وفاق نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو بتایا ہے کہ فالکنز برآمد نہیں کئے جارہے بلکہ تحفہ کے طور پر بھجوائے جا رہے ہیں، وزارت موسمیاتی تبدیلی نے عدالت کو بتایا کہ عالمی قوانین کی پاسداری ہم پر لازم ہے ، ہم نے کوئی پرمٹ جاری نہیں کیا اور نہ ہی فالکنز برآمد کئے جا سکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ وزارت خارجہ جواب جمع کرائے اور وزیراعظم کو فالکنز کی ایکسپورٹ پر عالمی قوانین کی پاسداری سے آگاہ کرے، آئین میں اجازت نہیں، کوئی قانون سے بالاتر ہے نہ ہی اسطرح تحفہ دیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ روز چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 150 فالکنز کی بیرون ملک برآمد روکنے کی درخواست کی سماعت کی۔ اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل سید محمد طیب شاہ نے عدالت کو بتایا کہ فالکنز ایکسپورٹ نہیں بلکہ تحفہ میں دئیے جارہے ہیں ، فالکنز تحفہ میں دینا خارجہ پالیسی کی وجہ سے حساس معاملہ ہے۔وزارت موسمیاتی تبدیلی نے تحریری جواب داخل کرایا کہ انہوں نے کوئی پرمٹ جاری نہیں کیا ، نہ ہی فالکنز ایکسپورٹ کئے جا سکتے ہیں۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا تو پھر کیا آپ یہ بات وزیر اعظم کے نوٹس میں لائے؟ وزارت خارجہ فالکنز ایکسپورٹ پر وزیر اعظم کو آگاہ کرے کہ ہم بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے پابند ہیں، آئین کی کوئی شق

اسکی اجازت نہیں دیتی اور نہ کوئی اتھارٹی اس طرح تحفہ دے سکتی ہے،بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 4 مارچ تک ملتوی کر دی۔

ملک بھر سے سے مزید