پستی، زوال اور قومی سفر معکوس کا رونا ہم سب روتے ہیں، غور و فکر بہت کم کرتے ہیں قیادت کے دعویدار کبھی نہیں، قرآن مجید میں اہل ذکر سے رجوع کرنے کا حکم ہے یہ کبھی نہیں کرتے روحانی شعبدہ بازوں کو دربار میں بلا کر مستقبل کا حال پوچھتے اور خورسند ہوتے ہیں۔ زندہ باد کے نعرے انہیں مرغوب، اپنے محاسن اور مخالفین کے عیب کا تذکرہ آسودگی بخشتا اور تنہائی میں حاشیہ نشینوں کیقصیدوں کے جیبہلاتے ہیں۔ سوچ و بچار کی فرصت نہ خواہش۔ ڈھلوان کا یہ سفر مگر ایک دو صدی کی بات نہیں۔
ہمہ گیر سیاسی ابتری، معاشرتی و اخلاقی زوال اور علمی و روحانی پستی ایک دن کا قصہ نہیں سلاطین اور حکمران خدا سے دور اور خلق خدا سے بیزار ہوئے تو قابل فہم تھا مگر علماء و صوفیا نے ظواہرپرستی شعار کی رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی، مخصوص لباس، وضع قطع، چال ڈھال اوراوراد و وظائف پر اکتفا کیا تو سمجھئے اصل خسارے کا سودا یہ تھا حتیٰ کہ نوجوان نسل ماضی کی مستند روحانی شخصیات کے بارے میں بھی سوال اٹھانے لگی کہ یہ اساطری داستانیں ہیں اور ماضی مرحوم کے قصے کہانیاں۔ یوں روحانیت اور تصوف سے دلچسپی رکھنے والے ہر ذی شعور کے نہاں خانہ دل میں ہوک سی اٹھی اور یہ سوال ابھرا کہ کہیں رسالت کی طرح روحانیت کا دروازہ بھی ہمیشہ کے لئے بند تو نہیں ہو گیا؟
لاہور آنے سے پہلے تصوف مطالعے کا میدان رہا اور خاندانی پس منظر کی وجہ سے بہت سے بزرگوں کو قریب سے دیکھنے، عالمانہ و متصوفانہ باتیں سننے اور کشف و کرامات کے واقعات سے آگاہ ہونے کا موقع ملا یہاں آ کر بھی ہر سرچشمہ فیض سے پیاس بجھانے کی کوشش کی مگر سچی بات ہے تشفی کبھی نہ ہو سکی۔
حسن ظن بہرحال برقرار رہا۔ سرفراز شاہ صاحب سے ملاقات زبیر شیخ کی مہربانی سے ٹیک کلب میں ہوئی، تذکرہ دو عشروں سے سن رکھا تھا تب سے اب تک شاہ صاحب کی شخصیت اور حسن اخلاق نے باندھ رکھا ہے حلیے اور چلا ڈھال سے وہ ہرگز روحانی شخصیت نہیں لگتے، لباس اور طرز زندگی دنیا داروں جیسا، پوش علاقے میں رہائش، سجا سجایا ڈرائنگ روم، کھانے کا وقت ہو تو لنگر کی روائتی دال روٹی کے بجائے مرغن کھانے اور چائے بھی پُر تکلف، پورچ میں کھڑی مہنگی گاڑیاں، بھلا درویش ایسے ہوتے ہیں؟ مگر دل کو چھو لینے والی پُر مغز، مدلل گفتگو سن کر سوچنا ہی پڑتا ہے ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں۔
شاہ صاحب کی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے بجائے، رب کی طرف بلاتے ہیں ارادو وظائف کے بجائے قرآن مجید اور حدیث رسول پڑھنے کی تلقین کرتے اور کشف و کرامت کی جگہ عمل اور جدوجہد پر زور دیتے ہیں۔ شیخ بہاء الدین نقشبند سے لوگوں نے کرامت کا تقاضا کیا تو فرمایا ”یہی کرامت کیا کم ہے کہ اتنے بڑے اور زیادہ گناہوں کے باوجود ہم روئے زمین پر چل پھر رہے ہیں“ خود بینی کے بجائے خود شکنی کا یہ رویہ شاہ صاحب کے ہاں ہمیشہ نظر آتا ہے۔ شائد حضرت نظام الدین اولیاء کی یہ نصیحت انہیں ازبر ہے اور جسے دیکھو اپنے سے بہتر سمجھو، اگرچہ تم اطاعت گزار ہو اور وہ گناہنگار ہو سکتا ہے یہ تمہاری آخری اطاعت ہو اور اس کا آخری گناہ۔ تم گناہنگار بن جاؤ اور وہ اطاعت گزار و نیکوکار“
علامہ اقبال ٹاؤن لاہور میں شاہ صاحب کی روحانی مجلس سے ہر ہفتے ہزاروں لوگ فیض یاب ہوتے ہیں مگر صابر ملک اور ان کے دیگر معتقدین نے ان کے مجلسی فرمودات کو کتابی شکل دے کر دور دراز کے ان طالبان علم و روحانیت کے لئے آسانی پیدا کر دی ہے جو براہ راست ہم کلام ہونے سے بوجوہ قاصر ہیں۔ ”کہے فقیر“ اور ”فقیر رنگ“ کے بعد اب ”فقیر نگری“ منظر عام پر آئی ہے جو پہلی دو کتابوں کی طرح لائق مطالعہ ہے۔ ملکی اور غیر ملکی تعلیمی اداروں سے تعلیم یافتہ اس نجیب الطرفین سید زادے نے اپنے نانا سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دادا باب العلم حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی علمی و روحانی میراث بانٹنے کا بیڑا کیونکر اٹھایا یہ الگ روح پرور داستاں ہے مگر شاہ صاحب یہ فرض خوش اسلوبی سے ادا کر رہے ہیں۔
بات زوال امت سے شروع ہوئی تھی اس کا سبب دیگر معروف صوفیاء کی طرح سرفراز شاہ صاحب مسلمانوں کی بے عملی کو قرار دیتے ہیں ”فقیر نگری“ کے مطابق صرف دعاؤں پر تکیہ کرنا بے عملی کی راہ ہے اور بے عمل لوگوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا۔“ ”یاد رہے کہ پہلے جدوجہد ہے پھر دعا۔ لیکن بدقسمتی سے ہم دعا کو پہلے اور جدوجہد کو بعد میں رکھتے ہیں اس میں بھی کوشش کرتے ہیں کہ دعا سے بیڑا پار ہو جائے۔ محنت اور جدوجہد نہ کرنی پڑے۔ جب ہم محنت کرنے کے بعد دعا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہماری محنت کا ثمر ضرور عطا کرتا ہے۔“
کم وسائل اور زیادہ مسائل میں غربت و افلاس اور بھوک کا خاتمہ کس طرح ممکن ہے۔ شاہ صاحب دور رسالت مآب سے کامیابی کا نسخہ پیش کرتے ہیں ”بھوک کو آپس میں تقسیم کر لو“ حضرت علی نے فرمایا ”میں نے اپنے اخراجات اتنے کم کر لئے کہ میں امیر ہو گیا“ کیا ہم اخراجات کم کر کے امیر نہیں ہو سکتے؟ یہ فیصلہ سازوں اور حکمرانوں کو سوچنا چاہئے۔ بشرطیکہ انہیں فرصت اور توفیق ملے اور آخر میں ”فقیر نگری“ کا یہ روح پرور، سکون آور اقتباس ”جب کسی شخص کے لئے آپ کے دل میں کینہ، بغض، کدورت، نفرت، دشمنی، مخالفت اور رنجشرہنے لگتی ہیتو اللہ تعالیٰ وہاں سے نکل جاتا ہے“
ارادہ ڈاکٹر آصف جاہ کی کتاب ”اللہ تعالیٰ کعبہ اور بندہ“ پر لکھنے کا بھی تھا مگر شاہ صاحب نے موقع ہی نہیں دیا لذیز بود حکایتدراز تر گفتم خانہ کعبہ کے انوار تجلیات اور روضہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کا تذکرہ پھر سہی۔