آپ آف لائن ہیں
جمعہ3؍رمضان المبارک 1442ھ 16؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ریاض کو دھمکایا نہ جائے، سعودی کالم نگار نے جو بائیڈن انتظامیہ کو خبردار کردیا

کراچی (نیوز ڈیسک) ریاض کو دھمکایا نا جائے، سعودی کالم نگار نے جوبائڈن انتظامیہ کو خبردار کردیا ہے۔ سعودی کالم نگار خالد المالک کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اپنے دفاع کے لیے چین یا روس کے ہتھیاروں کی جانب توجہ مرکوز کرسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، سعودی عرب کے کالم نگار کا کہنا ہےکہ سعودی عرب کی خودمختاری ایک سرخ لکیر ہے۔ یہ بات انہوں نے امریکی انتظامیہ کی جانب سے سعودی حکام پر پابندی عائد کرنے تاہم، ولی عہد محمد بن سلمان کو مستثنیٰ رکھنے پر کہی۔

خالد المالک نے مقامی اخبار الجزیرہ میں لکھا کہ امریکا کو اسٹریٹجک علاقائی اتحادی پر دبائو ڈالنے کا حق نہیں ہے اور نا ہی اپنے شراکت داروں کے ذاتی اختلافات کو خطے کے مفاد کو نقصان پہنچانے کی اجازت دی جانی چاہیئے۔

خالد المالک کا کہنا تھا کہ سعودی عرب جو کہ اپنے دفاع کے لیے امریکا پر انحصار کرتا رہا ہے، جس میں پہلی خلیج کی جنگ اور 2019 کے حملوں کے بعد آئل انفراسٹرکچر کی حفاظت بھی شامل ہے، وہ اپنے دفاع کے لیے چین یا روس کے ہتھیاروں کی جانب بھی توجہ مرکوز کرسکتا ہے۔ انہوں نے ایران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپنے تاریخی تعلقات اور مشترکہ مفادات کی وجہ سے سعودی عرب کی ترجیح امریکا ہی ہے۔

امریکی صدر جوبائڈن جنہوں نے سعودی عرب کو اسلحہ فروخت کرنے کے حوالے سے نظرثانی کا حکم دیا تھا، ان کی جانب سے آج سعودی عرب کے حوالے سے اعلان کا امکان ہے۔ لندن کے اشراق الاوسط اخبار میں عبداللہ العتیبی نے لکھا کہ سعودی عرب ، واشنگٹن کا پرانا عرب اتحادی ہے جو کوئی غیرمستحکم ملک نہیں ہے جسے دھمکیوں سے ڈرایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت کئی بار واضح کرچکی ہے کہ جمال خاشقجی کا قتل ایک بھیانک جرم تھا جس پر سعودی عرب گزشتہ برس آٹھ افراد کو سزا سنا چکا ہے۔ اسی طرح عکاظ اخبار میں فہیم الحامد نے لکھا کہ ہم امریکا کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانا چاہتے ہیں مگر ایسا ہماری خودمختاری کی قیمت پر نہیں ہوگا۔ ہماری عدلیہ اور ہمارے فیصلے سرخ لکیر ہیں۔

واضح رہے کہ جب سے امریکی رپورٹ جاری کی گئی ہے، بہت سے سعودی شہریوں نے ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ بنایا ہوا کہ ہم سب محمد بن سلمان ہیں۔

دنیا بھر سے سے مزید