آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍رمضان المبارک 1442ھ21؍ اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

الیکشن سے ایک دن پہلے سندھ اسمبلی میں مار پیٹ

الیکشن سے ایک دن پہلے سندھ اسمبلی میں مار پیٹ


کراچی(جنگ نیوز،اسٹاف رپورٹر)سینیٹ الیکشن سے ایک دن قبل سندھ اسمبلی میں مار پیٹ، شہریار شر، اسلم ابڑو اور کر یم بخش گبول کےشرجیل میمن کے ہمراہ سندھ اسمبلی پہنچنے پر پی پی کا استقبال،تحریک انصاف کے ارکان نے منحرف ایم پی ایز کی پٹائی لگادی، پی پی ارکان سے بھی جھڑپ، گتھم گتھا بھی ہوئے۔

جیونیوز کےمطابق سندھ اسمبلی کا اجلاس جاری تھا کہ اس دوران تحریک انصاف کے تین باغی ارکان کریم بخش گبول، شہریار شر اور اسلم ابڑو ایوان میں پہنچے اور حاضری لگائی، حکومتی اراکین نے تینوں ایم پی ایز کا استقبال کیا جس پر پی ٹی آئی اراکین آگ بگولہ ہوگئے۔

سندھ اسمبلی میں باغی ارکان کے آنے پر پی ٹی آئی کے پہلے سے موجود اراکین نے شور شرابا شروع کردیا اور آپس میں گتھم گتھا ہوگئے، پی ٹی آئی اراکین نے باغی اراکین کی خوب پٹائی لگائی جس پر پیپلزپارٹی اراکین بیچ بچاؤ کے لیے آگئے۔

دوسری جانب اسٹاف رپورٹر کے مطابق منگل کوسندھ اسمبلی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے ناراض اراکین کریم بخش گبول، شہریارشراوراسلم ابڑو پیپلزپارٹی رہنما شرجيل میمن کےساتھ ہال میں داخل ہوئے، حکومتی ارکان نے تینوں ایم پی ایز کا استقبال کیا۔

تینوں ارکان کےداخل ہوتے ہی پی ٹی آئی کےايم پی ایزنے انہیں گھیرلیا جس پر ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی اور معاملہ مارپیٹ تک جاپہنچا ،ارکان ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوگئے اور خوب گالی گلوچ بھی ہوئی ،تحریک انصاف کے ارکان اپنے منحرف رکن کو گاڑی میں بٹھا کر کسی نامعلوم مقام کی جانب روانہ ہوگئے۔

تحریک انصاف کے ارکان اپنے ایک منحرف رکن کرم بخش گبول کو ایوان سے نکال کر اپنے ہمراہ باہر لیجانے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ پیپلز پارٹی کے ارکان اس کی مزاحمت، جس پرشدید دھکم پیل شروع ہوگئی، کریم بخش گبول کی قمیض کا گریبان پھٹ گیا۔

وزیر پارلیمانی امور میکش کمار چاؤلہ زمین پر گرپڑے اور ان کا پاؤں زخمی ہوگیا ،ہنگامہ آرائی کے دوران، پیپلز پارٹی کی کئی خواتین ارکان بھی پیچ بچاؤ کی کوشش میں دھکم پیل کی زد میں آگئیں،منگل کو سندھ اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ تاخیر سے ڈپٹی اسپیکر ریحانہ لغاری کی زیر صدارت شروع ہوا ۔

تلاوت کلام پاک ، نعت خوانی اور وقفہ سوالات کے بعد جب قرارداد پر بات ہو رہی تھی اسی اثنا ءمیں پی ٹی آئی کے تین منحرف ارکان شہر یار شر، اسلم ابڑو اور کریم بخش گبول ایوان میں داخل ہوئے تو پیپلز پارٹی کے ارکان نے ڈسک بجاکر اور جئے بھٹو کے نعروں کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔

ان ارکان کی آمد سے قبل حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب کے ارکان کی بہت کم تعداد ایوان میں موجود تھی لیکن وقفہ سوالات کے بعد اچانک دونوں جانب کے ارکان ٹولیوں کی شکل میں ایوان میں داخل ہوئے۔

کریم بخش گبول اپنی نشست پر جا کر بیٹھے اسی دوران پی ٹی آئی کے خرم شیر زمان نے ان سے سرگوشی میں کوئی بات کی اور غالباً وہ باہر لے جانے کی کوشش کر رہے تھے جس کو دیکھتے ہوئے پیپلز پارٹی کے ارکان آگے بڑھے اور کہا کہ ا نہیں نہیںلے جا سکتے ، اس کے بعد ایوان میں شدید ہنگامہ شروع ہوگیا جس پرڈپٹی اسپیکر نے اجلاس جمعرات تک ملتوی کر دیا۔

اجلاس ملتوی ہونے کے اعلان کے بعد بھی پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے ارکان جو ایوان میں اسپیکر کی نشست کے سامنے جمع تھے وہ ایک دوسرے کے ساتھ گتھم گتھا ہوگئے اور ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی۔

مارپیٹ کے دوران پی ٹی آئی کے ارکان اپنے منحرف رکن کریم بخش گبول کو گھیر ے میں لیکر ایوان سے باہر آئے اور پھر بڑی برق رفتاری سے انہیں ایک گاڑی میں بٹھا کر کسی نامعلوم مقام کی جانب روانہ ہوگئے، اس موقع پر سیکورٹی کے عملے نے انہیں روکنے کی کوشش بھی کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکا ۔

ہنگامہ آرائی کے دوران ارکان نے ایک دوسرے کو گالیاں بھی دیں ،ہلڑ بازی کے دوران پی ٹی آئی کے دو دیگر منحرف ارکان شہر یار شر اور اسلم ابڑو ایوان میں موجود رہے اور بعدازاںپیپلز پارٹی کے ارکان کے ساتھ ایوان سے باہر گئے ۔

سندھ اسمبلی کی کوریج کرنے والے سینئر پارلیمانی رپورٹرز کا کہنا ہے کہ ایوان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنی شدید بد نظمی اور ہنگامہ آرائی دیکھی گئی ہے جس کی گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران مثال ملنا مشکل ہے۔ 

کریم بخش گبول کی سندھ اسمبلی سے روانگی کے بعد پی ٹی آئی کے ارکان ٹولیوں کی شکل میں اپنے دو دیگر ارکان شہر یار شر اور اسلم ابڑو کو سندھ اسمبلی کے مختلف کمروں میں تلاش کررہے تھے لیکن وہ ان کے ہاتھ نہ آسکے۔ 

دریں اثنا ،اسپیکرسندھ اسمبلی آغا سراج درانی نےمنگل کو سندھ اسمبلی میں بدنظمی کی تحقیقات کا حکم دیتےہوئےسیکرٹری اسمبلی کوانکوائری رپورٹ جمع کرانےکاحکم دے دیا۔ آغاسراج درانی کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جائے۔ 

اہم خبریں سے مزید