آپ آف لائن ہیں
منگل7؍رمضان المبارک 1442ھ 20؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سب سے پہلے تو آپ کا بیحد شکریہ کہ مجھ ناچیز کو پذیرائی بخشی۔مجھے ہرگز توقع نہیں تھی کہ سولہویں صدی کے ایک فرسودہ وبیہودہ اوربدنام زمانہ شخص کی باتوں کو اس قدر اہمیت دی جائے گی۔اٹلی میرا دیس ہے اور اطالوی شہر فلورینس کی اوفیٹسی گیلری (Uffizi Gallery)میںمیرا قدآدم مجسمہ نصب ہے۔مگر میرے بس میں ہو تو اپنا مجمسہ وہاں سے اکھاڑ کر راولپنڈی میں نصب کروائوںکیونکہ وہاں میرے نظریات کی قدر نہیں کی گئی ۔گاہے خیال آتا ہے کہ اس خطے میں میری پیدائش ہی غلط تھی ۔اچاریہ رشی کا ہونہار بیٹاوشنو گپت ٹیکسلا میں پیدا ہوا توکوتلیہ چانکیہ کے نام سے مشہور ہوا ۔نہ صرف اسے چندر گپت موریا کا اتالیق اور وزیراعظم بننے کا موقع ملا بلکہ اس کی تصنیف ’’ارتھ شاستر‘‘کی آج بھی ایک دنیا معترف ہے۔میںنے بھی جرنیلی سڑک کے آس پاس اٹک،جہلم ،چکوال،منڈی بہائوالدین اور گجرات جیسے کسی علاقے میںجنم لیا ہوتا تو میرے مجسمے نصب ہوتے ۔بھارت میں کوتلیہ چانکیہ کے گن گائے جاتے تو پاکستان میں میرے چرچے ہوتے۔یوں کسی بھارتی کو یہ کہنے کا موقع نہ ملتا کہ ہمارے پاس تو کوتلیہ چانکیہ ہے،تمہارے پاس کیا ہے۔یہاں تو گورے سیاح میرا منہ چڑاتے،جملے کستے اور مجھے شیطان قرار دیتے ہیں۔بہر حال ،برنارڈوڈی نکولو کا بیٹا نکولو میکا ولی حسبِ وعدہ حاضر ہے۔آج آپ کو ایک راز کی بات بتائوں؟سنسرشپ موجودہ دور کا تحفہ نہیں ،ہمارے عہد میں بھی بات کرنا بہت مشکل ہوتا تھا ۔میں نے اپنی کتاب ’’دا پرنس‘‘میں حکمرانی کے جو اصول بیان کئے ،وہ دراصل طنزو استہزا کا استعارہ لئے ہوئے تھے ۔یعنی یہ باتیں میں نے طنزیہ پیرائے میں بدترین حکمرانوں کا مذاق اُڑانے کے لئے لکھیں مگر احمق اور بدذوق لوگوں نے اس گہری چوٹ کو محسوس کرنے کے بجائے اسےحرزِ جاں اور وردِ زباں بنا لیا۔خیر خواہوں نے وضاحت جاری کرنے کے لئے قائل کرنے کی ہرممکن کوشش کی مگر میں نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ جو نادان میری بات سمجھ نہیں سکے ،یہ کتاب دراصل ان کے لئے تھی ہی نہیں۔

بلاشبہ میں اپنی تصنیف’’دا پرنسـ‘‘کا ترمیم شدہ ایڈیشن شائع کرنا چاہتا ہوں مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں اپنی لکھی سب باتوں کو تاریخ کے کوڑادان میں پھینکناچاہتا ہوں۔بعض باتیں ضرور حذف کرنے لائق ہیں ،چند صفحات میں معمولی رد وبدل سے کام چلایا جا سکتا ہے جبکہ موجودہ دور کے تقاضوں کے پیش نظر کچھ نئے خیالات کا اضافہ بھی کرنا ہے۔مگر کئی سو سال گزر جانے کے باوجود اس کتاب میں تحریر کی گئی بعض باتیں اب بھی سدابہار ہیں اور ابتدا میں ،میں ایسی ہی چند بصیرت افروز باتیں پیش کرنا چاہتا ہوں۔

٭جو ایک آزاد علاقے کو فتح کرتا ہے اور اسے تباہ نہیں کرتا ،وہ بہت بڑی خطا کا مرتکب ہوتا ہے اور اسے اپنی بربادی کی توقع رکھنی چاہئے۔(دیارِ مغرب کی نام نہاد مہذب دنیا میں بھلے میری اس بات کو اہمیت نہ دی جاتی ہو مگر اس خطے میں میرے الفاظ پر من وعن عمل کیا جاتا ہے۔اور ہنستے بستے شہر فتح کرنے کے بعد اجاڑ دیئے جاتے ہیں۔)

٭اگر یہ ممکن نہیں کہ لوگ بیک وقت آپ سے خوف بھی کھائیں اور آپ ہردلعزیز بھی ہوں تو پھرخوف طاری کرنا، چاہے جانے سے بہتر ہے۔ (اب اس بات کی تشریح اور تعبیر کیا بیان کروں ،آپ کے ہاں اس کے عملی مظاہرے ہر سطح پر جاری ہیں۔بیشترافراد کو یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ کب ان کی ویڈیو لیک ہوجائے اور وہ کسی کو منہ دکھانے لائق نہ رہیں۔)

٭جو دھوکہ دیتا ہے اسے ہر وقت ایسے لوگ میسر رہتے ہیں جو دھوکہ کھانا چاہتے ہیں۔(کیا نئے پاکستان میں بسنے والا کوئی ایک بھی شخص اس حقیقت کو جھٹلا سکتا ہے؟)

٭جو وعدہ کیا گیا تھا ،وہ کل کے حالات کی ضرورت تھا اور جو وعدہ آج توڑا گیا ،وہ آج کے حالات کا تقاضا ہے۔(قرضے نہیں لوں گا،سائیکل پر دفتر جائوں گا،این آر و نہیں دوں گااور اس طرح کے بیشمار وعدے وفا نہ ہونے کی اس سے بڑی تاویل اور کیا ہو سکتی ہے)

٭حاکم کبھی معقول وجہ کے بغیر وعدہ نہیں توڑتا۔(اب وجہ معقول ہے یا نہیں ،یہ فیصلہ بھی تو حاکمِ وقت کو ہی کرنا ہے ناں تو پریشانی کیسی )

٭جو مسلسل کامیابی کا خواہاں ہے ،اسے وقت کے ساتھ ساتھ اپنا طرزعمل تبدیل کرنا چاہئے۔ (اب سیاسی مخالفین بیشک گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے کا طعنہ دیتے رہیں لیکن آپ کو پانی کی طرح ہر نئے برتن میں ڈھل جانا چاہئے۔)

٭برائی کے سبب جس قدر نفرت ملتی ہے اتنی نفرت اچھے کام کرنے پر بھی حصے میں آتی ہے(اب ایسی صورت میں کوئی احمق ہی ہوگا جو اچھے کام کرکے لوگوں کی باتیں سنے ۔اگر سڑکیں ،پل اور ڈیم بنانے، کارخانے لگانے اور ترقیاتی کام کروانے سے بھی تنقید کے سوا کچھ حاصل نہیں ہونا تو تین حرف بھیجیں مفادِ عامہ کے ان کاموں پراور وہی کام کرتے چلے جائیں جس میں آپ کو مہارت حاصل ہے۔)

٭دھوکہ دینے والے کا دھوکہ دینے سے لطف دوبالا ہوجاتا ہے۔(اس بات کی حقیقت صرف وہی شخص جان سکتا ہے جسے یہ سہولت دستیاب ہو۔لوگ بھول جاتے ہیں اور جس کے خلاف باتیں کرتے رہے،ایک دن اسی کے قدموں میں بیٹھ جاتے ہیں مگر حکمران کچھ نہیں بھولتا اور سب سے چن چن کر بدلے لیتا ہے۔)

تازہ ترین