آپ آف لائن ہیں
منگل7؍رمضان المبارک 1442ھ 20؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستان کی کشمیر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، ترجمان دفتر خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کے رابطے اور سیزفائر معاہدے پر مشترکہ اعلامیے سے پاکستان کی جموں و کشمیر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کو مسلسل وحشیانہ فوجی محاصرے کا سامنا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ فروری میں بھارتی فوج نے جعلی سرچ آپریشن میں 6 کشمیری شہید کیے، جعلی مقابلوں میں کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل کی مذمت کرتے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ آسیہ اندرابی، شبیر شاہ، یاسین ملک سمیت کئی کشمیری رہنما مسلسل نظر بند ہیں، پاکستان کو کشمیری رہنماؤں کی مسلسل نظربندی پر شدید تشویش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے کشمیری رہنماؤں کو جھوٹے الزامات کے تحت گرفتار کیا ہے، عالمی برادری بھارت سے کشمیری قیادت اور سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرے۔

زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں اقوامِ متحدہ اور او آئی سی مبصرین کو رسائی دی جائے، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا کو بھی مقبوضہ کشمیر تک رسائی دی جائے۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کا ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا، دونوں جانب سے معمول کا رابطہ ہوتا رہتا ہے۔

ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت بار بار ایل او سی کی خلاف ورزیاں کر رہا تھا، معصوم کشمیریوں کی جان بچانے کے لیے ایل او سی معاہدے پر عمل درآمد یقینی ہے۔

ان کا یہ کہنا تھا کہ مشترکہ اعلامیہ موجودہ معاہدے پر عمل درآمد کا مظہر ہے تاہم پاکستان کی جموں و کشمیر پر پالیسی میں تبدیلی نہیں آئی۔

زاہد حفیظ چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں استصواب رائے کے مطالبے پر بدستور قائم ہے۔

انھوں نے بھارتی دراندازی پر پاک فضائیہ کی کارروائی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دو سال قبل بھارت کو منہ توڑ جواب دیا تھا، پاکستان نے ثابت کیا تھا کہ مہم جوئی کا جواب دینا جانتے ہیں۔

ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں قیامِ امن کا خواہاں ہے۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان نے سید علی گیلانی کو ان کی خدمات پر اعلی ترین سول اعزاز کے لیے نامزد کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سید علی گیلانی کی کشمیر کاز کے لیے خدمات گراں قدر ہیں، پاکستان کا سید علی گیلانی کے ساتھ احترام کا رشتہ ہے۔

قومی خبریں سے مزید