آپ آف لائن ہیں
بدھ یکم رمضان المبارک 1442ھ14؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بے اعتمادی اسکی دیکھا چاہئے

جب کسی قوم میں غربت، کرپشن، دیانتداری کے دعوے، جمہوریت کا نیلام عام، بے عقل دیانتداری اور سیاست کی منڈی میں دنگل کا بھی اہتمام ہو تو وہ قوم اپنی سرزمین پر بوجھ بن جاتی ہے، یہ خبر آج کی اہم ترین خبر کہ ایک بیروزگاری سے تنگ شخص نے بیوی بچے قتل کرنے کے بعد اپنا بھی کام تمام کر دیا۔اسے بھی سیاست برائے ڈیش ڈیش میں شامل کر لیں تاکہ سیاسی پہچان و جنون کا جن پوری طرح عریاں ہو، ایک طرف دولت سیاست کو نچا رہی ہے دوسری جانب محرومیوں کا سورج سوا تیزے پر عوام کوبھون کر ناخدائوں کو کھلا رہا ہے، وزیر اعظم کو اپنوں پر بے اعتمادی کے ساتھ اپنے اوپر بھی اعتماد نہ رہا ، ابھی تو سینیٹ کی چیئرمینی کا کلیدی دنگل باقی ہے یہ تو اب سب کو تسلیم کر لینا چاہئے کہ جمہوریت کا نعرہ بلند کرکے اس ملک کے عوام جنت جانے کیلئے کوئی شارٹ کٹ تلاش کر رہے جبکہ دولت مند سیاست دان حکمران مزید دولتمند ہونے کیلئے عوام سے اپنے جھوٹے عشق کے غبارے میں مزید کاربن ڈائی آکسائیڈ بھر رہے ہیں۔؎

کوئی بے اعتمادی سی بے اعتمادی ہے

سانس نکلا تو خدا یاد آیا

خوش امید بیچارے لوگ کہتے ہیں ؎

جب توقع اب بھی باقی ہے

پھر کیوں نہ کسی کا گلہ کرے کوئی

تحریک انصاف کے پیرومرشد سے دو نمبر مریدوں نے اعتماد بھی چھین لیا، چھاپ تلک پر تو پہلے ہی ہاتھ صاف کر لیاتھا، دعاگو ہیں کہ اب کم از کم کوئی تو ہو جو قائداعظم کی روح سے کہے ؎

گو میں رہا رہین ستم ہائے روز گار

لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا

٭٭ ٭ ٭ ٭

سفید پوش گدڑی پوش

کتنے ہی لوگ ہمارے معاشرے میں ہیں جو پھٹے پرانے کپڑوں پر اجلا اچھا لباس زیب تن کرکے باہر نکلتے ہیں، تاکہ کوئی ان سے یہ نہ کہدے بابا معاف کرو، اور کتنے ایسے بھی ہیں جو اب اپنی عزت و حرمت سے بھی گزر گئے ہیں، مجبوری پھر مجبوری ہے سکہ چند خاندانوں میں گردش کر رہا ہے اور باقی سب گردشِ ایام کی زد میں ہیں۔ سفید پوش بازار سے گزرتے ہیں خریدار نہیں ہیں، ایک نیک مزدور نے مجھ سے کہا میں اپنے بچوں کے حقوق پورے نہیں کر رہا خدا کو کیا جواب دوں گا، اسے تسلی دیتے ہوئے کہا حقوق العباد کی باز پرس حکمرانوں سے ہو گی، تم تو ہر روز مزدوری گھر لے جاتے ہو پوری نہیں پڑتی تو جواب دہ عہد کا سلطان ہو گا، اب دل کو تسلی دینے کیلئے نیچے دیکھا جائے تو کچھ نظر نہیں آتا، اوپر دیکھا جائے تو ’’اوپر والےلے‘‘ نظر آتے ہیں، حیرانی ہے کہ امراء کی ’’پوتر‘‘ بستیوں میں پھیری لگا کر روزی کمانے والے آواز لگانے نہیں جاتے وہ عوامی بستیوں کا رخ کرتے ہیں اور دیہاڑی لگا لیتے ہیں۔ آوارہ بے گھر کتے بھی غریبوں کی آبادیوں میں اب بھی وہی مشاعرے کرتے ہیں جن کا ذکر پطرس نے کیا تھا، بلکہ اب یہ مشاعرے زیادہ طویل ہوتے ہیں، کتے امیروں کےگھر میں بھی ہوتے ہیں جن کے رہن سہن پر مفلس رشک کرتے ہیں، حالانکہ وہ مشاعرہ کرتے ہیں اور نہ بائولے ہوتے ہیں، کچھ گدڑی پوش زرپوش بھی ہوتے ہیں یہ غریبوں کی عقیدتوں کا شکار ہوتے ہیں، بہرحال وفاداری بشرط استواری اصلِ ایماں ہے۔

٭٭ ٭ ٭ ٭

جس کھیت سے میسر نہ ہو گندم

حکومت نے 3لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کر لی ہے، حالانکہ اس زرعی ملک سے گندم برآمد کی جاتی تھی، گائوں اجڑتے جا رہے ہیں دیہاتی شہروں کی جانب جوق در جوق منتقل ہو رہے ہیں، اگر دیہات پر توجہ دی جاتی فصلوں کا خیال رکھا جاتا، اناج اگانے والوں کو بجلی، پانی، سڑکیں، سکول، زرعی آلات، کھاد دی جاتی، زرعی جدید انڈسٹری قائم کی جاتی تو شہروں میں کاندھے سے کاندھا نہ چھلتا، کتنے معاشی، سماجی، اخلاقی اور ناخواندگی کے مسائل حل ہو جاتے، ترقی کرنے والے ممالک نے گائوں اتنے دلکش بنا دیئے ہیں کہ کوئی وہاں سے ہجرت کا سوچتا بھی نہیں ضرورتیں پوری ہوں تو اخلاقیات کا بھی بول بالا ہوتا ہے، الغرض ہم نے زراعت پر رتی بھر توجہ نہ دیکر اس ملک کو ایک شہر بنا دیا ہے جس میں ہر طرف آشوب ہی آشوب ہے، شہر جو کھاتے ہیں وہ دیہات اگاتے ہیں، اب صرف شہر ہیں اور ہم ہیں دوستو، جیسا سماں ہے جو بھی حکومت ہو جس کی بھی ہو اپنے دیہات پر پوری توجہ دے، ہمارے بہت سے زخم بھر جائیں گے، اگر دیہات میںکئی منزلہ عمارتیں کھڑی کر دی جائیں اور زراعت کیلئے زمینیں وافر رکھی جائیں تو بے گھر کاشت کاروں کے ہاتھ کھیتوں سے سونا سمیٹ کر پورے ملک کو دلہن بنا دینگے ، گائوں کے لوگوں کو جوبراہ راست کاشت کار ہیں پینڈو نہ کہا جائے یہ قوم کے محسن ہیں اور ہم احسان فراموش۔

٭٭ ٭ ٭ ٭

جب ملک ہی سارا کیچڑ ہو

٭الیکشن کمیشن:کیچڑ نہ اچھالیں،

اب یہاں اور کیا باقی رہ گیا ہے!

٭وفاقی وزراء الیکشن کمیشن کا بیان نامناسب۔

اپنا تناسب درست کیا ہوتا تو یہ بیان بہت مناسب لگتا یا سامنے ہی نہ آتا۔

٭مریم نواز :جنہیں بکائو کہتے ہیں انہی سے اعتماد چاہتے ہیں،

بات تو سچ ہے کہ بات ہے جگ ہنسائی کی۔

٭شیخ رشید :وزیر اعظم سرخرو ہونگے۔

وہ تو پہلے ہی اچھے خاصے سرخ چہرہ ہیں، البتہ آپ شیخ صاحب !سرخروئی پاچکے۔

تازہ ترین