• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورونا وائرس ویکسین سے متعلق تمام خدشات، افواہیں بےبنیاد ہیں

بات چیت: عالیہ کاشف عظیمی

عکّاسی: اسرائیل انصاری

دسمبر 2019ء میں کووِڈ-19کا پہلا کیس چین سے رپورٹ ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ وبا پوری دُنیا میں پھیلتی چلی گئی۔سال2020ءدُنیا نے اِسی وبا کے زیرِ اثر سخت خوف و ہیجان میں گزارا۔دُنیا بھرمیں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد کروڑوں،جب کہ ہلاک شدگان کی لاکھوں تک پہنچ گئی تادَمِ تحریر 11 کروڑ57لاکھ79ہزار7سو 77کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جب کہ 25 لاکھ 72ہزار مریض ہلاک اور9کروڑ14لاکھ83ہزار 4سو68افراد صحت یاب ہوچُکے ہیں۔ عالمی وبا کے آغاز کے ساتھ ہی ترقّی یافتہ مُمالک میں بڑے پیمانے پر طبّی تحقیق کا آغاز ہوا اور نتیجتاً انتہائی مختصر عرصے میں کورونا وائرس ویکسین کی تیاری کا مشکل مرحلہ انجام پایا۔

بلاشبہ اس ویکسین کی تیاری سے شعبۂ طب کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہوا، لیکن ساتھ ہی مفروضات، غلط معلومات، افواہیں بھی زبانِ زد وعام ہوئیں۔ خصوصاً کم ترقّی یافتہ مُمالک، بشمول پاکستان میں اس ویکسین سے متعلق کافی خدشات، ابہام پائے جاتے ہیں، تو اس ضمن میں ہم نے معروف کنسلٹنٹ انفیکشس ڈیزیزز، ڈاکٹر سیّد فیصل محمود سے بات چیت کی۔

ڈاکٹر سیّد فیصل محمود نے آغا خان یونی ورسٹی اسپتال، کراچی سے1997ء میں ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی،جب کہ2002ء میں امریکن بورڈ آف انٹرنل میڈیسن اور 2004ء میں امریکن بورڈ آف انفیکشس ڈیزیزز سے دو مختلف اسناد لیں۔ 2005ء میں سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانس پلانیٹیشن (SIUT) سے ملازمت کا آغاز کیا ۔بعد ازاں،2007ء میںآغا خان یونی ورسٹی اسپتال، کراچی کے ڈیپارٹمنٹ آف میڈیسن کے شعبہ انفیکشس ڈیزیزز سےوابستہ ہوگئےاور اب اِسی شعبے سے بطور اسسٹنٹ پروفیسر اور سیکشن ہیڈ منسلک ہیں۔ 

علاوہ ازیں ، عالمی ادارۂ صحت کے انسدادِ ایچ آئی وی پروگرام کے لیے بھی کام کررہے ہیں۔کورونا ٹاسک فورس، سندھ ، جب کہ چین میں کینسینو (Cansino) ویکسین پر کی جانے والی تحقیقی ٹیم کا بھی حصّہ رہے۔نیز، شعبۂ طب میں ان کی خدمات پر انھیں کئی مُلکی و غیر مُلکی ایوارڈز سے بھی نوازا جا چُکا ہے۔ ڈاکٹرسیّدفیصل محمود سے ہونے والی گفتگو کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔

س:اب تک کتنی ویکسینز متعارف ہوچُکی ہیں، سب کے متعلق مختصراً بتادیں اور یہ بھی کہ ان میں سے سب سے محفوظ کون سی ہے؟

ج: دُنیا بَھر میں اس وقت تقریباً ایک سو سے زائد ویکسینز تکمیل کے مراحل تقریباًطے کرچُکی ہیں، تاہم ان میں سےصرف6سے7ویکسینز کو منظوری ملی ہے، باقی ابھی پائپ لائن میںہیں۔اگرچہ ان ویکسینز کے قوتِ مدافعت ٹرینڈ کرنےکے طریقے، کولڈ چین( کولڈ چین سے مُراد ویکسین بنانے کے عمل سے لے کر لگوائے جانے تک اس کا درجۂ حرارت برقرار رکھنا ہے)،ڈوزز کی تعداد،ایک سےدوسری ڈوزکا وقفہ وغیرہ الگ الگ ہیں،لیکن ہر ویکسین شدید بیماری سے تحفّظ فراہم کرنے کے ساتھ اموات کی شرح کم کررہی ہے۔ 

یاد رکھیے، ویکسین لگوانےکے بعد کوئی وائرس سے متاثر تو ہوسکتاہے، لیکن بیماری کی نوعیت شدید ہوگی، نہ اسپتال میں داخلے کی ضرورت پیش آئے گی۔علاوہ ازیں، یہ ویکسین اُن تمام افراد کے لیے بھی ناگزیر ہے، جن میں کسی شدید نوعیت کی بیماری لاحق ہونے کے امکانات پائے جاتے ہیں۔یہ بتانا کہ ان میں سے کون سے ویکسین سب سے محفوظ ہے،ذرا مشکل ہے۔دراصل کسی بھی ویکسین کے ٹرائل کا عمومی دورانیہ ایک سال پر محیط ہوتاہے اور چوں کہ یہ ویکسینز ہنگامی بنیادوں پرتحقیق کے مراحل سے گزار کر منظور کی گئی ہیں، توقریباً ایک سال بعد ہی وثوق سے کہا جاسکے گا کہ کون سی ویکسین زیادہ محفوط ہے۔

لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جو ویکسینز دستیاب ہیں،وہ مؤثر نہیں۔ ہاں بس ان کا ایک دوسرے سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ درحقیقت ویکسینز کے ذریعے قوتِ مدافعت ٹرینڈ کی جاتی ہے ،تاکہ خدانخواستہ اگر وائرس جسم تک رسائی حاصل کرلے، تو دفاعی نظام اسے باآسانی زیر کرسکے۔قوتِ مدافعت ٹرینڈ کرنے کےکئی طریقے ہیں۔

مثلاًبعض اوقات جسم میں ویکسین کے ذریعے پورا وائرس مُردہ حالت میںداخل کیا جاتا ہے اور کبھی وائرس کا چھوٹا سا نمونہ یا ٹکڑا انجیکٹ کردیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی ایسے طریقے ہیں، جن کے ذریعے مدافعتی نظام کو وائرس کے خلاف دفاع کے قابل بنایا جاتا ہے۔

س:چین میں کتنی اقسام کی ویکسینز تیار کی گئی ہیں اور پاکستان کو کون کون سی ویکسینز فراہم کی گئیں؟

ج:چین نے کئی اقسام کی ویکسینز تیار کی ہیں، لیکن ان میں سے ابھی صرف تین ویکسینز سائنو فارم (Sinopharm)، کینسینو(Cansino)اور سائنو ویک (Sinovac)کو منظوری ملی ہے۔ پاکستان کو چین کی جانب سے سائنو فارم ویکسین فراہم کی گئی ہے، جو ہیلتھ ورکرز کو لگائی جارہی ہے۔آکسفورڈ یونی ورسٹی کی آسڑازینیکا ویکسین (AstraZeneca Vaccine)، 60برس سے زائد عُمر کے افراد کے لیے ہے، جب کہ چین کی کینسینو اور روس کی تیار کردہ اسپٹنک (Sputnik) ویکسین کی فراہمی کے لیے معاہدہ طے پاچُکا ہے اور یہ جلد ہی مُلک میں دستیاب ہوں گی۔

س:کورونا وائرس ویکسین کی بڑے پیمانے پر تیاری کے لیے عالمی ادارۂ صحت کن مُمالک کی مدد کررہا ہے اورعالمی سطح پر ویکسین کی منصفانہ تقسیم کے لیے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں؟

ج: عالمی ادارۂ صحت Covax scheme کے تحت متعدّدمُمالک کی مدد کررہا ہے، جس میں کئی اداروں کا تعاون بھی شامل ہے۔اس اسکیم کا ایجنڈا کم از کم 20 فی صد آبادی کی ویکسی نیشن کرنا ہے۔ترقّی یافتہ مُمالک نہ صرف ویکسین خرید رہے ہیں،بلکہ کئی مُلک کی ادویہ ساز کمپینزیہ ویکسین تیار بھی کررہی ہیں،لیکن مسئلہ ترقّی پذیر مُمالک کا ہے، جہاں صحتِ عامّہ کی بھی بنیادی سہولتیں بھی دستیاب نہیں، تو اس اسکیم کے تحت دُنیا بَھر کے190مُمالک میں ویکسین کی لگ بھگ2بلین ڈوزز فراہم کی جائیں گی۔

ان میں92مُمالک(بشمول پاکستان) پس ماندہ ہیں، جنہیں ویکسین فراہم کرنے کے لیے6بلین ڈالرز جمع کیے جاچُکے ہیں اور2بلین ڈالرزمزید جمع کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ویکسین کی منصفانہ تقسیم کے لیے ایک عالمی پیمانہ بھی مقرر کیا گیاہے، تاکہ عُمر اور رسک کے اعتبار سے ہر مُلک میں مرحلہ وار ویکسین فراہم ہوسکے۔

س:کورونا وائرس کی ویکسین کس طرح کام کرتی ہے اور یہ اندازاً کتنی مدّت کے لیے سود مند ہے؟

ج:دیکھیں، کورونا وائرس ویکسین کا بنیادی کام قوّتِ مدافعت کو اس قابل کرنا ہے کہ اگر وائرس جسم میں داخل ہوجائے، تو دفاعی نظام انتہائی سُرعت سےاسےختم یا اس کی شدّت کم کردے۔رہی بات یہ کہ یہ کتنی مدّت کے لیے سود مند ہے، توجیسا کہ مَیں پہلے بتاچُکا ہوں کہ ویکسین کے استعمال کی ہنگامی منظوری دی گئی ہے، تو جب تک ایک سال کا دورانیہ مکمل نہیں ہوجاتا تو یہ اندازہ لگانا مشکل ہوگا کہ ویکیسن کتنے عرصے کے لیےسود مندرہے گی۔

س:وہ کون سے افراد ہیں، جو یہ ویکسین نہیں لگوا سکتے اور کیوں؟

ج:اصل میں ہر ویکسین کی اسٹڈی یا ٹرائل مختلف ہے۔مثلاًآزمایش میں کس عُمر کےافراد شامل تھے اور یہ کن کن لوگوںپر آزمائی گئی۔ اس ٹرائل کی بنیاد پرہر ویکسین کا اپنا الگ معیار ہے کہ وہ کن افراد کو لگائی جاسکتی ہے اور کن کو نہیں۔ اور اس بات کا فیصلہ ایک مستند معالج ہی کرسکتا ہے کہ کون سی ویکسین کس کے لیے فائدہ مندرہے گی۔

س:ہر ویکسین کی الگ اسٹڈی ہے، تو کیا ان کے ڈوزز کی تعداد میں بھی فرق ہے؟

ج:جی بالکل ڈوزز کی تعداد بھی مختلف ہے۔ جیسے سائنو فارم اور آسڑازینیکا کی دو دو ڈوزز ہیں اور پہلی ڈوز کے عموماً تین سے چار ہفتے بعد دوسری لگائی جاتی ہے۔ کینسینو کی صرف ایک ڈوز ہے۔یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ جن ویکسینز کی ڈبل ڈوز زہیں،معالج کی ہدایت پر ان کاکورس لازماً مکمل کیا جائے، تاکہ قوتِ مدافعت وائرس کے خلاف بَھرپور دفاع کے قابل ہوسکے۔

س:ویکسین کروانے کے بعد کس طرح کے مضر اثرات مرتّب ہوسکتے ہیں اور کیا اثرات ظاہر ہونے پر دوسرا ٹیکا لگوایا جاسکتا ہے؟

ج:دُنیا بَھر میں ویکسی نیشن کا عمل جاری ہے،جس میںبعض کیسز میں معمولی نوعیت کے ضمنی اثرات ظاہر ہوئے ہیں۔ جیسے، انجیکشن کی جگہ پر سُوجن یا درد ، جسم میں درد، گھبراہٹ، کم درجے کا بخار اوربیرونِ مُمالک میں شدید الرجی وغیرہ۔

تاہم، یہ ویکسین کے معمولی، وقتی مضر اثرات ہیں، جوجان چلے جانے یا خطرناک پیچیدگیاں لاحق ہونے کی نسبت کچھ بھی نہیں۔رہی بات دوسری ڈوز کی، توچوں کہ دونوں ڈوزز میں کم از کم تین سے چار ہفتے کا وقفہ ہے، تو اس طرح کی علامات ظاہر ہونے پر دوسری ڈوز لینے میں قطعاًکوئی حرج نہیں۔

س:کیا ویکسی نیشن سے قبل بھی کوئی ٹیسٹ کروایا جاتا ہے؟

ج:نہیں، ویکسی نیشن سے قبل اینٹی باڈیز سمیت کسی بھی قسم کا کوئی ٹیسٹ کروانا ضروری نہیں۔

س:ایک انٹرویو میں آپ نے بتایا تھاکہ جن افراد کی قوتِ مدافعت کم زور ہو، وہ ویکسین نہیں لگواسکتے ،اس کی کیا وجہ ہے؟

ج:قوتِ مدافعت کم زور ہونے کی کئی وجوہ ہیں، جیسے بعض افراد میں قدرتی طور پر مدافعتی نظام کم زور ہوتا ہے۔ بعض اوقات کسی بیماری، دوا، کیموتھراپی، ٹرانس پلانٹ یا ایچ آئی وی انفیکشن کی وجہ سے بھی قوتِ مدافعت کم زور پڑ جاتی ہے، تو ایسی صُورت میں معالج کی پہلی کوشش یہی ہوتی ہے کہ جب مریض کی حالت قدرے بہتر ہو، تب ہی ویکسی نیشن کی جائے، تاکہ وہ مؤثر طریقے سے اثرانداز ہوسکے،لیکن ایسے کیسز جن میں مدافعتی نظام بہتر ہونےمیں کچھ عرصہ درکار ہوتو پھر ویکسی نیشن میں تاخیر نہیں کی جاتی۔ ویسے ایسا کم ہی کیسز میں ہوتا ہے۔

س:اب تک جن افراد کی ویکسی نیشن کی گئی،تو نتائج کیا رہے؟

ج: اگر پاکستان کی بات کریں تو ابھی سائنو فارم کی دوسری ڈوز کا مرحلہ جاری ہے، تو اس کے نتائج آنے میں کچھ وقت لگے گا۔ بہرحال، دُنیا بَھر میں مجموعی طور تمام ویکسینز کے بہترین نتائج سامنے آرہے ہیں۔

س:کیا ویکسی نیشن کروانے کے بعد بھی کورونا ایس او پیز پر عمل ضروری ہے؟
ج: 
جی بالکل، ویکسی نیشن کے بعد بھی احتیاطی تدابیر پر عمل ضروری ہے کہ اگر کوئی فرد ویکسی نیشن کے بعد وائرس سے متاثر ہوجاتا ہے، تو اُس میں تومرض کی علامات معمولی نوعیت کی ظاہر ہوں گی، لیکن وہ کسی دوسرے فرد میں کورونا وائرس باآسانی منتقل کرسکتا ہے، تو بہتر یہی ہے کہ ویکسی نیشن کے بعد بھی ایس او پیز پر عمل جاری رکھا جائے۔

س:ویکسی نیشن کے بعد بخار، سر درد اور چکّر آنے جیسی علامات کے علاوہ بھی کوئی پیچیدگی ظاہر ہوسکتی ہے؟

ج:پاکستان سمیت دُنیا بَھر میں شدید نوعیت کےمضر اثرات مرتّب ہونے کی کوئی مصدّقہ اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں۔ البتہ، ویکسی نیشن کے بعد فرد کو قریباً آدھ گھنٹہ انڈر آبزرویشن رکھا جاتا ہے،تاکہ اگر خدانخواستہ کوئی طبّی مسئلہ جنم لے تو فوری طور پرفرسٹ ایڈ فراہم کی جاسکے۔

س:کیا کورونا وائرس سے متاثرہ وہ افراد، جو اب صحت یاب ہوچُکے ہیں، وہ بھی ویکسین کروا سکتے ہیں؟

ج:کووِڈ-19 سے متاثر ہونے والے افراد صحت یابی کے بعدلازماً ویکسی نیشن کروائیں، کیوں کہ اس سے انفیکشن سے دوبارہ متاثر ہونے کے امکانات معدوم ہوجائیں گے اور قوتِ مدافعت بھی مزید بہتر ہوگئی۔

س:عام افراد ہی نہیں، بیش تر معالجین بھی ویکسی نیشن کرواتے ہوئے کیوں گھبرا رہے ہیں؟

ج:اصل میں ہمارے یہاں منفی پروپیگنڈا بہت زیادہ کیا جارہا ہے، اسی لیے لوگ تذبذب کا شکار ہیں کہ ویکسی نیشن کروائیں یا نہیں۔ جیسے بعض افراد ویکسین کی افادیت پر بھروسا نہیں کررہے، تو کچھ مضر اثرات کے ڈر سے نہیں کروارہے۔حالاں کا ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ کورونا وائرس ویکسین سے متعلق تمام خدشات، افواہیں بے بنیاد ہیں۔

ویکسین کے بے ضرر ہونے کی بَھر پور تسلّی کے بعد ہی اس کے استعمال کی منظوری دی گئی ہے۔ویسے دُنیا بھر میں اس بات کا جائزہ لیا جارہا ہے کہ لوگ ویکسی نیشن کروانے سے کیوں گھبرا رہے ہیں اور ایسے کیا اقدامات کیے جائیں کہ عوام النّاس میں اس حوالے سے پائے جانے والے خدشات دُور کیے جاسکیں۔یاد رکھیے، ویکسین کےبعد کسی قسم کی پیچیدگی ظاہر نہیں ہوتی،البتہ کورونا وائرس لاحق ہونے کے بعد کئی پیچیدگیاں ظاہر ہوسکتی ہیں۔

س:کیا دورانِ حمل بھی یہ ویکسین لی جاسکتی ہے؟

ج: اگر عام حالات میں حاملہ کی ویکسین کی جاتی ہے، تو یہ بھی کروانے میں کوئی حرج نہیں۔ اگرچہ اس حوالے سے تاحال کوئی خاص تحقیق نہیں ہوئی، مگر میرا مشورہ یہی ہے کہ حاملہ خواتین ویکسی نیشن کروالیں کہ اگر دورانِ حمل کووِڈ-19 ہوجائے تو پیچیدگیوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

س:پاکستان میں کورونا وائرس کے پہلے مریض کا علاج آپ نے کیا ،تو پہلے کیس سے لے کر اب تک کے تجربات سے متعلق کچھ بتائیں؟

ج:اگر ایک سال پہلے اور موجودہ حالات کا موازنہ کیا جائے، تواب مریضوں کاعلاج خاصا سہل ہوگیا ہے ،کیوں کہ ایک سال قبل ادویہ وغیرہ سے متعلق بھی اس قدر معلومات نہیں تھیں کہ کون سی دوا زیادہ مؤثر ثابت ہوگی،آکسیجن کتنی مقدار میں دینی ہے، آکسیجن دینے کاکون سا طریقہ اختیار کرنا ہے۔ 

وقت کے ساتھ ساتھ ان سب معاملات میں معالجین کو تجربہ حاصل ہوچُکاہے۔ پھر کورونا وائرس کی دوسری لہر میںکچھ نئی ادویہ بھی متعارف کروائی گئی ہیں۔اس لیے گزشتہ برس مارچ میں شدید کوروناوائرس کا شکار ہونے والوں کی نسبت اب جونئے مریض رپورٹ ہورہےہیں، اُن میں جان جانے اور دیگر پیچیدگیوں کے امکانات کم سے کم ہیں۔

س:ویکسی نیشن سے متعلق عام افراد کو کیا پیغام دیں گے؟

ج: کورونا وائرس ویکسین ایک طرح سے مدافعتی نظام کی ریہرسل ہےکہ اگر وائرس اپنا شکار بنائے،تو جسم پہلے سےدفاع کے لیے تیارہو،لہٰذاہمارے مُلک میں جب بھی عام افراد کے لیے ویکسین دستیاب ہوگئی، تو بغیر کسی ڈر وخوف کے ویکسی نیشن کراوئی جائے ۔ یہ آپ کو مرض لاحق ہونے کی صُورت میں اس کی پیچیدگیوں سے تحفّظ فراہم کرے گی۔نیز، ویکسی نیشن کے بعد بھی احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔

یاد رکھیں،یہ وبا آخری بارنہیں پھیلی، حالات جس طرف جارہے ہیں، تو ایسی کئی وبائیں پھیلنے کے امکانات بھی بڑھ رہے ہیں، تو وبائی امراض سے محفوظ رہنے کے لیے ویکسین ہی بہترین ڈھال ہے۔