آپ آف لائن ہیں
پیر6؍رمضان المبارک 1442ھ 19؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سینیٹ الیکشن، کھیل مزیدار، سب نے دوسروں سے بدلہ لیا، حکومتی وزراء


اسلام آباد(ایجنسیاں)وفاقی وزراءپرویز خٹک ‘فواد چوہدری اورسینیٹر شبلی فرازنے کہاہے کہ پی ڈی ایم میں شامل سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے ہی مخلص نہیں‘ سینیٹ انتخابات میں پیپلزپارٹی نے ن لیگ، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں ن لیگ نے پیپلزپارٹی سے بدلہ لیا۔

پی ڈی ایم نے مولانا فضل الرحمان سے بھی ہاتھ کر دیا‘ سب نے ایک دوسرے سے بدلے لئے‘مجھے ان کے کھیل سے بڑا مزہ آیا ہے ‘سیاسی لاوارثوں نے حکومت کے خلاف مہم شروع کی ہوئی ہے ، الطاف حسین اور نواز شریف کی سیاست ایک جیسی ہے۔

الطاف حسین بننے والوں کو اس کا انجام بھی پتہ ہونا چاہئے‘اپوزیشن کے پاس ایک چانس ہے وہ کورونا کی وجہ سے اپنا لانگ مارچ منسوخ کرے ‘ ہم بات کرنے کو تیارہیں‘ویسے بھی انہیں لانگ مارچ سے کچھ نہیں ملنے والا۔

تفصیلات کے مطابق اتوار کو اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ پہلے مرحلے میں سینیٹ انتخابات میں پیپلزپارٹی نے ن لیگ کے ووٹ یوسف رضاگیلانی کو دلوائے لیکن پیپلزپارٹی نے خود ن لیگ کو دھوکا دیا اور ن لیگ کی امیدوار کو جان بوجھ کر ہرایا۔ 

اسی طرح دوسرے مرحلے میں جب چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات ہوئے تو وہی بدلہ ن لیگ نے پیپلزپارٹی سے لیا‘پی ڈی ایم نے پھر مولانا فضل الرحمان سے بھی ہاتھ کیا، سب نے ایک دوسرے سے بدلے لئے اور یہ آئندہ بھی ایک دوسرے سے اسی طرح بدلے لیتے رہیں گے۔

مولانا کو اب عقل آ جانی چاہیے اور سینیٹ انتخابات کے بعد انہیں پی ڈی ایم کے عزائم معلوم ہو جانےچاہئیں‘ مجھے ان کے کھیل سے بڑا مزہ آیا ہے اور آگے بھی ان کا کھیل اسی طرح جاری رہے گا، یہ لوگ ایک دوسرے کو مار کر بغض نکالیں گے اور ہم تماشا دیکھیں گے۔

پی ڈی ایم نے مولانا فضل الرحمان کو فارغ کر دیا ہے‘ مولانا جب دھرنے کیلئے آئیں گے تو یہ لوگ آدھے راستے میں ان کا ساتھ چھوڑ دیں گے جس طرح انہوں نے ماضی میں مولانا فضل الرحمان کو دغا دیا تھا۔

دریں اثناءگزشتہ روزپی آئی ڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ معیشت ایسے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے جس میں استحکام آیا ہے‘کاروبار مثبت رفتار سے اوپر جارہے ہیں۔

سیاسی لاوارث لوگوں نے ایک مہم شروع کی ہے‘ وزیر اعظم پر اعتماد کے ووٹ سے انھیں مایوسی ہوئی جبکہ سینٹ الیکشن میں بھی انھیں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا، اپوزیشن اپنی سیاسی موت دیکھ رہی ہے۔پی ڈی ایم ایک ایسا اکٹھ ہے جس کا آپس میں جوڑ نہیں بنتا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس ایک چانس ہے وہ کورونا کی وجہ سے اپنا لانگ مارچ ختم کریں ‘ ویسے بھی انھیں لانگ مارچ سے کچھ نہیں ملنے والا ۔اس موقع پر چوہدری فواد حسین نے کہا کہ ہماری جماعت کے دو بیانیے ہیں ایک احتساب اور دوسرا شفاف الیکشن ۔ 

زرادری نے پہلے پیپلز پارٹی کو علاقائی پارٹی بنایا اور اب بے نظیر بھٹو کے دستخط شدہ میثاق جمہوریت کو بھی پامال کرنے پر تلے ہوئے ہیں‘فواد چوہدری نے مسلم لیگ (ن) کے میاں جاوید لطیف کے بیان پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاوید لطیف شطرنج کا مہرہ ہے، اصل سوچ ان کی ہے جوبانی ایم کیوایم بننا چاہتے ہیں اور بانی ایم کیوایم بننے کی خواہش رکھنے والے ان کا انجام بھی دیکھ لیں۔

نوازشریف اور بانی ایم کیوایم 1985 کے الیکشن کا تحفہ ہیں‘ تربیت ایک ہی کھوکھ سے ہوئی تھی‘یہ سیاسی لوگ نہیں، ہم غداری کے سرٹیفکیٹ دینے کے لیے نہیں بیٹھے ہیں۔ بانی ایم کیوایم اور نوازشریف بھی لندن سے واپس نہیں آسکتے جبکہ مریم نوا زبھی لندن جانا چاہتی ہیں مگران کو جانے نہیں دیں گے۔

اہم خبریں سے مزید