یہ دنیا اور وہ دنیا
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم کن خرافات، فروعات اور لغویات میں الجھے پھنسے اور دھنسے ہوئے ہیں ؟ہمارے ایشوز کیا ہیں، موضوعات کیسے ہیں، ترجیحات کس نوعیت کی ہیں؟ دوسری طرف ’’اصلی‘‘ دنیا کس رفتار سے کن منزلوں کی طرف رواں دواں ہے ؟ یہ عجیب وغریب سا منظر دیکھ کر سوچتا ہوں کہ صرف 100سال بعد یہ ’’اصلی’’ دنیا کہاں اور کیسی ہو گی اور ہم کہاں اور کیسے حال میں ہوں گے ؟

مجھے اپنی جہالت کا احساس، ادراک اور اعتراف بھی ہے کہ میں کبھی سائنس سٹوڈنٹ نہیں رہا اس لئے دنیا کی سائنسی اڑان اور پیش رفت سے نہ ہونے کے برابر ہی واقف ہوں ۔جدید سائنسی علوم کے ناموں سے بھی پوری طرح واقف نہیں لیکن جو ماڑا موٹا نہ ہونے کے برابر جانتا ہوں وہ بھی ڈرا دینے اور ہوش اڑا دینے کیلئے کافی ہے لیکن اس ملک کے لیڈروں کو دیکھو جو بھیانک ترین حقیقتوں سے بے خبر، بے نیاز نت نئے ڈرامے، نوٹنکیاں اور ٹھنڈ پروگرام پیش کر رہے ہیں ۔انہیں نہ گزرے کل کی فکر نہ آنے والے کل کی پروا،ڈنگ ٹپائو قسم کے لوگوں کا اک ہجوم ہے جو صرف ، صرف اور صرف ’’آج‘‘ میں زندہ ہے۔

قرضوں میں غرق، پینے کے صاف پانی سے بھی محروم، آپس میں گتھم گتھا، چھوٹے سر، لمبی زبانیں کیا جانیں کہ جوہر کی دریافت، ڈی این اے کی جینیات اور کمپیوٹر کی لسانیات کیسے کیسے گل کھلا رہی ہے بلکہ کیسے کیسے چمن آباد کر رہی ہے ۔

جینیاتی انجینئرنگ INTELLIGENT DESIGN کو فطری چنائو پر غلبہ دے چکی ہے۔ بندہ خودقدرتی ساخت کو اپنی ضروریات و ترجیحات کے اعتبار سے بدلنے کی اہلیت حاصل کر چکا ہے۔

جینیاتی انجینئرنگ اور کمپیوٹر کی شادی خانہ آبادی کیسے کیسے انڈے بچے پیدا کر رہی ہے اور ان خوش بختوں کو جعلی قسم کے لانگ مارچوں کے علاوہ اور کچھ نہ دکھائی دے رہا ہے نہ سنائی دے رہا ہے۔ دنیا ہے کہ 2050ء تک اس بات پر قادر ہونے کا سوچ رہی ہے کہ چاہے تو انسان صرف حادثاتی موت ہی مرسکے، دوسری طرف یہ ہماری دنیا ہے جو ’’روز جیتا ہوں روز مرتا ہوں‘‘ کے زندہ حصار سے ہی باہر نہیں نکل رہی ۔

ایک طرف علم وہنر، تحقیق و تخلیق کے سمندر۔

دوسری طرف جہالت کی طاقت کے سرچشمے۔

ایک طرف گمشدہ میراثِ علم کی کامیاب تلاش جاری۔

دوسری طرف ڈوم، بھانڈ، مسخرے اور موقع پرست مہم جُو ۔

ایک طرف کرۂ ارض سے باہر کی فتوحات۔

دوسری طرف کوڑے کے خوشبودار ڈھیر۔

بقاء کی جنگ بہت سنگدل اور سفاک ہوتی ہے اور اس جنگ کے میدان اور ہتھیار تبدیل ہوتے رہتے ہیں ۔لاکھوں سال ’’مسل‘‘ نے حکومت کی، اب ’’عقل‘‘ کا زمانہ ہے جو قرض کی صورت میں دستیاب نہیں ۔یہ زمانہ کسی سیمسن یا رستم کا نہیں .... معذور وہیل چیئر نشین ادھورے سے آدمی سٹیفن ہاکنگ کا ہے جو بول بھی نہیں سکتا تھا، آنکھوں کی پتلیوں سے دنیا اتھل پتھل کر گیا کہ اب ستاروں پر کمندیں ڈالنے کیلئے ہاتھوں اور کمندوں کی ضرورت نہیں رہ گئی اور نہ ہی لہو گرم رکھنے کیلئے پلٹ کر جھپٹنے اور جھپٹ کر الٹنے کی بازی گری درکار ہے۔

آج انسانی حیاتیاتی علم فوق البشر تخلیق کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے بلکہ اس کے کافی قریب پہنچ چکا ہے۔کرین انسان کی ایجاد ہے جو انسان سے ہزاروں گنا زیادہ وزن اٹھا کر بھی نہیں تھکتی، انسان خود تو چھلانگ مار کر خود اپنے گھر کی چھت تک نہیں جا سکتا لیکن اس کا بنایا ہوا مضحکہ خیز قسم کا کھلونا مریخ کی خبریں بھی لاسکتا ہے تو یہ عام فہم سے اشارے ہمیں یہ سمجھنے میں خاصی مدد دے سکتے ہیں کہ آج سے 100سال بعد کی اصلی دنیا کہاں ہو گی اور ہم کہاں ہوں گے۔

چینیوں کا ایک قدیم محاورہ ہے کہ ’’ہر شہر میں ایک سے زیادہ شہر آباد ہوتے ہیں ‘‘ یہ سو فیصد درست ہے کیونکہ پوش ترین آبادیوں سے غریب ترین آبادیوں تک کی یہی کہانی ہے تو کیوں نہ ’’برادر غیر اسلامی چین‘‘ کے اس محاورے کو وسیع تر تناظر میں دیکھیں کہ اگر ایک شہر میں کئی شہر آباد ہوتے ہیں تو پھر یقین رکھیں کہ اس ایک دنیا میں بھی کئی دنیائیں آباد ہوتی ہیں تو سوچیں جب دنیا سے باہر بھی دنیائیں آباد ہوں گی تو اس دنیا میں ہم اور ہم جیسوں کی اوقات کیا ہو گی؟ کردار کیا ہو گا؟حیثیت کیا ہو گی؟

تاریخ بن رہی ہے تو ایک تاریخ مٹ بھی رہی ہے لیکن ہمارے نصیبوں میں جعلی لانگ مارچوں کی تاریخیں ہی لکھی ہیں اور نہ کوئی جانتا ہے نہ جاننا چاہتا ہے کہ ہم فقط ایک محدود سے دائرے کے مسافر ہیں۔

سائنسی انقلاب نہیں انقلابات نے دنیا کو یکسر تبدیل کر دیا ہے ۔دیانتداری اور غیر جانبداری سے تصور کریں کہ دو سو سال قبل مرنے والا کوئی ’’عالم فاضل‘‘ شخص اچانک زندہ ہو کر جاپان تو کیا ، پاکستان کے شہر لاہور میں ہی پہنچ جائے تو اس کی ذہنی ، فکری، جذباتی، روحانی، نفسیاتی حالت کیسی ہو گی؟وہ موجودہ ماحول کا 200سال پہلے کے ماحول سے موازنہ بھی کر پائے گا یا نہیں؟

ہرن قلانچیں بھرنے لگے تو ماہر سے ماہر شکاری بھی اپنے گھوڑے کی لگامیں یہ سوچ کر کھینچ لیتا ہے کہ اب ہرن کا تعاقب بے سود ہے۔سائنس کی رفتار نے ’’وقت‘‘ کے معنی تبدیل کر دیئے ہیں، اب ایک سال میں ہزاروں سال کا فاصلہ طے ہو رہا ہے۔’’سنوبالنگ‘‘ شروع ہے جو ہمارے ’’عظیم قائدین‘‘ کو سمجھ نہیں آ رہی کہ آئندہ 100سال میں ہزاروں نہیں لاکھوں سال کاسفر طے ہو چکا ہو گا۔

تب ہم ہوں گے تو کہاں اور کیسے ہوں گے؟

کہاں یہ دنیا.....کہاں وہ دنیا !

ﷲ کا شکر کہ ہمیں گزرے،کئی زمانے گزر چکے ہوں گے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

تازہ ترین