• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صرف دو ہفتے شوگر چھوڑنے سے جسم میں آنیوالی حیران کن تبدیلیاں

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

معدے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص صرف 14 دن کے لیے اضافی چینی (شوگر) چھوڑ دے تو جسم میں نمایاں مثبت تبدیلیاں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔

غذائی و ماہرینِ امراض معدہ کے مطابق شوگر ترک کرنے سے چہرے کی سوجن کم ہو جاتی ہے کیونکہ انسولین کے باعث پانی رکنے (واٹر ریٹینشن) کا عمل کم ہوتا ہے، چاہے وزن فوراً کم نہ ہو پیٹ اور کمر میں کمی محسوس ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شوگر کم کرنے سے جگر پر شوگر کا بوجھ گھٹتا ہے جو فیٹی لیور کے لیے نہایت اہم ہے، اس کے علاوہ آنتوں میں گیس، اپھارہ اور خمیر (فرمینٹیشن) کم ہوتی ہے جبکہ جِلد کی صفائی میں بھی بہتری آتی ہے، خاص طور پر کیل مہاسوں کی شکایت میں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ شوگر چھوڑنے کے ابتدائی دنوں میں لوگوں کو شوگر کی طلب، سر درد، تھکن، چڑچڑاپن اور ذہنی کارکردگی میں کمی محسوس ہو سکتی ہے مگر یہ کسی نشے کی لت نہیں بلکہ دماغ کے ’ریوارڈ سسٹم‘ کی نئی ترتیب ہے۔

دو ہفتوں کے اندر اکثر افراد میں شوگر کی طلب کم، توانائی مستحکم، اپھارہ کم، نیند بہتر اور بے وقت کی بھوک واضح کم ہو جاتی ہے۔ انسولین کا ردِعمل بہتر ہونے لگتا ہے اور فاسٹنگ شوگر میں بھی بہتری دیکھی جا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ عمل وزن گھٹانے کا نسخہ نہیں بلکہ جسم کے میٹابولزم کو بہتر بنانے اور انسولین اسپائکس کم کرنے کا ایک قدرتی طریقہ ہے۔

طبی ماہرین کی جانب سے عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کم از کم 14 دن کے لیے اضافی شوگر (پروسیسڈ میٹھی غذاؤں اور مشروبات) سے پرہیز کر کے اس کے جسم پر فوائد خود محسوس کر سکتے ہیں۔

صحت سے مزید