• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میرے والد کا انتقال 2015ء میں ہوا۔ اُن کی آمدنی اتنی قلیل تھی کہ ہم گیارہ بہن بھائیوں کی پرورش سے یک سر قاصر تھے۔ انتہائی نامساعد حالات میں ایک کمرے اور برآمدے پر مشتمل مکان کا کرایہ کیسے ادا کرتے، وہی جانتے تھے۔ جب کہ والدہ محترمہ گھر کے روزمرّہ کے اخراجات نانا،نانی کی مدد سے کھینچ تان کے پورے کیا کرتیں۔ یہ 1970ء کا عشرہ تھا، اس قدر کٹھن حالات میں ہمارے نانا جان نے ہم دو بھائیوں کو تعلیم دلوانے کی غرض سے اپنے ساتھ رکھ لیا تھا۔ ناناجان کی سرپرستی اور محمود ماموں کی نگرانی اور خصوصی دیکھ بھال کے نتیجے میں ہم نے امتیازی نمبروں سے میٹرک کا امتحان پاس کرلیا۔ 

محمود ماموں ویسے تو ملازمت کے سلسلے میں کراچی میں مقیم تھے، مگرہر ہفتے حیدرآباد آکر ہماری مکمل رپورٹ ضرور لیتے۔ وہ ہماری تعلیمی میدان میں رہنمائی کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور معاشرتی اصلاح بھی کرتے۔ میٹرک کے بعد تلاشِ معاش کی فکر ہوئی، تو ہم دونوں بھائیوں نے ٹائپنگ سیکھ لی اور میں ایک مہربان دوست کی مدد سے سٹی کورٹ کے احاطے میں ایک اسٹامپ وینڈر کے ساتھ بیٹھ کر سو، پچاس روپے روز کمانے لگا، مگر یہ ہوائی روزی تھی۔

گھر کے معاشی حالات روز بروز ناگفتہ بہ ہوتے جارہے تھے۔ پھر جب ماموں شادی کے بعد مستقل طور پر کراچی سیٹل ہوگئے، تو انہوں نے مجھے بھی اپنے پاس بلالیا۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں ہم جیسوں کے لیے نوکری کا حصول جوئے شِیر لانے کے مترادف تھا۔ کئی جگہ ٹیسٹ اور انٹرویو دیئے، لیکن کام یابی نہیں ملی۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آئے کے مصداق، مایوس ہوکر دوبارہ اپنے آبائی شہر لوٹنا پڑا۔ کچھ عرصے یہاں بھی بے روزگاری کا عذاب جھیلنے کے بعد ایک دوست کی معرفت حیدرآباد ہی میں ایک کنسلٹنگ فرم میں ٹریسر کی جاب مل گئی۔ پھرسال، ڈیڑھ سال بعد ماموں جان کے توسّط سے کراچی کے ایک نجی بینک میں کلرک کی اسامی کے لیے ٹیسٹ اور انٹرویو دیا، جہاں میرٹ کی بنیاد پر میرا بحیثیت کلرک تقرر ہوگیا۔ ملازمت کے دوران ماموں جان کے یہاں کراچی میں مقیم رہا۔ 1975ء میں، جب میں نے بینک میں کلرکی کا آغاز کیا، تو اس وقت میری عُمر محض 18 برس تھی۔ اس دوران اُن سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے نہ صرف میری اعلیٰ اخلاقی تربیت کی، بلکہ قدم قدم پر بھرپور رہنمائی بھی کی۔ 

ایک بارمجھے کسی دوست کے ساتھ سگریٹ پیتے ہوئے دیکھ لیا، تو گھر آکر ایسی ڈانٹ پلائی کہ اس دن کے بعد سے زندگی بھر کبھی سگریٹ کو ہاتھ نہیں لگایا۔ کراچی کے نجی بینک میں ملازمت کو چھے سال ہوگئے تھے، اُن ہی دنوں عرب امارات کے ایک بینک کی مختلف اسامیوں کے لیے تحریری ٹیسٹ اور انٹرویوز لیے جارہے تھے، میں نے بھی اپلائی کیا، تو 150امیدواروں میں کام یاب ہونے والے 25امیدواروں کی فہرست میں میرا نام بھی شامل تھا۔ اس طرح عرب امارات کے ایک بین الاقوامی بینک میں میرا تقرر ہوگیا، جہاں دن رات محنت کی اور 36 سال بعد ریٹائر ہوکر وطن واپس آیا۔ اسی دوران میری شادی بھی ہوئی، اور اللہ تعالیٰ نے نیک، صالح اولاد کی نعمت سے بھی نوازا۔ الحمدللہ، آج تین شادی شدہ بچّوں کا باپ ہوں۔ 

بیٹی ڈینٹل سرجن اور دونوںبیٹے انجینئر ہیں۔ اس پورے عرصے میں محمود ماموں کا ساتھ کبھی نہیں چُھوٹا، ہمیشہ اُن سے رابطہ رہا، کبھی فون پر اور کبھی بالمشافہ۔دیارِ غیر میں طویل عرصہ ملازمت کے بعد ریٹائر ہوکر آیا، تو سوچا ماموں نے ایک طویل عرصہ ہمیں اپنے بچّوں کی طرح پالاپوسا، لکھایا، پڑھایا، اب ہمیں بھی اُن کی خدمت کا موقع ملے گا، لیکن افسوس، میرے محسن، میرے استاد اور باپ کی طرح محبت و شفقت کرنے والے ماموں میری ریٹائرمنٹ کے ایک ماہ بعد ہی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ 

بلاشبہ، ہم سب بھائیوں کی ترقی و کام یابی اور خوش حالی میں اُن کا بڑا ہاتھ ہے، ہم سب ہمیشہ محمود ماموں کے ممنون اور شکرگزار رہیں گے کہ آج ہم جو کچھ بھی ہیں، اُن ہی کے طفیل ہیں۔ وہ نہ صرف ہم بہن، بھائیوں کا اپنے بچّوں کی طرح خیال رکھتے، بلکہ خاندان کے دیگرافراد کی فلاح و بہبود کے لیے بھی ہمیشہ کمر بستہ رہتے۔

اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنے حبیب کے صدقے اُن کی بخشش اور مغفرت فرمائے، اُن کے درجات بلند کرے اور جنّت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ (سیّد اشرف علی،لطیف آباد، حیدرآباد)

تازہ ترین