• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کووِڈ-19: بچاؤ کے مختلف ماسک اور ان میں فرق

کورونا وائرس سے تحفظ کے لیے ماسک کا استعمال روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ اگرچہ طبی ماہرین ویکسین کے ذریعے بڑے پیمانے پر مدافعت حاصل ہونے تک ماسک اور سماجی دوری کو ہی کورونا سے بچاؤ کا ذریعہ تصور کرتے ہیں، تاہم اس سب کے باوجود ماسک پہننے سے متعلق آج بھی بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں؛ مثلاً:

٭ وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے ماسک کتنا محفوظ اور کتنا مؤثر ہے؟

٭ ماسک کی ضرورت کب اور کہاں ہوتی ہے ؟

٭ ماسک کا صحیح استعمال کیسے کیا جائے؟

ذیل میں مارکیٹ میں دستیاب مختلف اقسام کے ماسک کے محفوظ ہونے اور ان کی افادیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

کپڑے کا ماسک

طبی ماہرین کے مطابق، ماسک ایک شخص کو بڑے پیمانے پر کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ کئی لوگ اپنے طور پر تصور کرلیتے ہیں کہ کپڑے کے ماسک تحفظ فراہم نہیں کرتے لیکن درحقیقت کپڑے کا ماسک بھی کورونا وائرس سے بچانے میں مؤثر ہے۔ کپڑے کا ماسک ناک اور منہ کے درمیان رکاوٹ پیدا کرتا ہے جس سے کھانسنے ،چھینکنے اور بات کرنے کے دوران وائرس کے ذرات کا پھیلاؤ مشکل ہوجاتا ہے۔

مختلف مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ ماسک وائرس کے بڑے ذرات کو بالواسطہ طور پر چہرے کو چھونے نہیں دیتے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی ریاستیں اپنے شہریوں کو ماسک پہننے کی تاکید کررہی ہیں ۔

کئی خواتین اپنی مرضی کے ماسک خود بھی بنا لیتی ہیں۔

پاکستان میں کورونا وبا کے حوالے سے نافذ ضوابط کے تحت کھلے علاقوں اور خاص طور پر تمام سرکاری و نجی دفاتر میں داخل ہوتے وقت ماسک پہننا لازمی ہے۔ ایک سادہ کپڑے کا ماسک یا چہرے پر اسکارف بھی رکھنے کو کافی خیال کیا جاتا ہے کیونکہ ان کی وجہ سے انفیکشن ہونے یا پھیلنے کاخطرہ کم ضرور ہو جاتا ہے۔ ایسے کپڑے کے ماسک کو وقفے وقفے سے تبدیل کرنا بھی اہم ہوتا ہے۔

سرجیکل ماسک

ایسے ماسک پروفیشنل افراد استعمال کرتے ہیں اور انہیں کپڑے کے ماسک کے مساوی قرار دیا جاتا ہے۔ استعمال کرنے والے پروفیشنل افراد میں ڈاکٹرز، دوا ساز اداروں میں کام کرنے والے اور نرسنگ ہومز کے ملازمین کو لیا جاتا ہے۔ یہی ماسک آپریشن کے وقت سرجن بھی استعمال کرتے ہیں۔ اگر اسے پہنا ہو تو کھانسی یا چھینکتے وقت گلے یا منہ سے نکلنے والا مواد باہر نہیں گرتا۔ اس کو بھی بار بار تبدیل کرنا ضروری ہوتا ہے اور اسی صورت میں یہ فائدہ مند ہوتا ہے۔ عام افراد کے لیے بھی سب سے سہل طریقہ یہی ہے کہ وہ یہ کم قیمت سرجیکل ماسک استعمال کریں۔ 

سرجیکل ماسک استعمال کرنے والے صارفین کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اسے استعمال کرنے کے بعد ٹھیک سے مخصوص جگہ پر ٹھکانے لگادیا کریں، کیونکہ اکثر لوگ اسے استعمال کرنے کے بعد کہیں بھی پھینک دیتے ہیں، جس سے ناصرف ماحولیاتی گندگی پیدا ہوتی ہے بلکہ اس ماسک میں کسی انفیکشن کی موجودگی کی صورت میں اس سے دیگر لوگوں کے متاثر ہونے کا خدشہ بھی ہوتا ہے۔

ایف ایف پی ماسک

اس ماسک میں کچن ٹاول کی کئی تہیں ہوتی ہیں۔ اس میں ایک ہاف ماسک ہوتا ہے جس میں ایک فلٹر لگا ہوتا ہے جو کہ گرد اور دوسرے جراثیمی ماحول میں نہایت مفید ہے۔ یہ دو طرح کے ہوتے ہیں، ڈسپوزایبل اور بار بار استعمال کے قابل۔ ان کی ساخت قدرے مضبوط ہوتی ہے۔ یورپی یونین میں ایف ایف پی ماسک کی درج ذیل قسمیں ہیں۔

ا) ایف ایف پی وَن

ایسے ماسک سرجیکل ماسک سے بہتر خیال کیے جاتے ہیں۔ تعمیرات اور لکڑی کا کام کرنے والے بھی یہ ماسک پہن سکتے ہیں۔ ان کے پہننے سے گرد و غبار سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔

ب) ایف ایف پی ٹُو، این 95 اور کے این95

یہ ماسک بین الاقوامی معیار کے مطابق ہیں۔ انہیں این 95، کے این 95، اور پی ٹُو بھی کہا جاتا ہے۔ اب یہ زیادہ مستعمل ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر بزرگ افراد کے نرسنگ ہومز میں ان کا استعمال اہم ہوچکا ہے۔

ت) ایف ایف پی تھری

جہاں اس بات کا خدشہ ہو کہ وہاں انفیکشن کی موجودگی کے امکانات زیادہ ہیں، ایسے مقامات پر ایف ایف پی تھری استعمال کرنا اہم ہوتا ہے۔ اس ماسک کو بہت زیادہ محفوظ قرار دیا جاتا ہے۔

سانس لینے میں مشکلات

یہ ایک حقیقت ہے کہ ایف ایف پی ٹُو ماسک سے سانس لینے میں قدرے مشکل ہوتی ہے۔ ہیلتھ ورکرز اگر ایسا ماسک 75منٹ تک پہنے رکھیں تو وہ 30 منٹ کا وقفہ لینے کے مجاز ہوتے ہیں۔

ماسک کی اسٹیرلائزیشن

بسوں اور ریل گاڑیوں میں سفر کرنے والے افراد بار بار نیا ماسک نہیں خرید سکتے۔ ایسے لوگ ماسک کو محفوظ رکھنے کے لیے اُسے جراثیم سے پاک یا اسٹیرلائز کر سکتے ہیں۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ کپڑے کے ماسک کو بار بار دھو کر استعمال کرنا بھی بہت محفوظ ہوتا ہے۔ کورونا وبا سے بچاؤ کے لیے بہتر اور مناسب ماسک کا استعمال بے حد اہم ہے۔

صحت سے مزید