• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا ایران جنگ: واشنگٹن کا اصل ہدف کیا ہے؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

2003ء میں عراق جنگ کے بعد دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد اب امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف نئی جنگ چھیڑ دی ہے۔

ایران، امریکا اور اسرائیل کی جنگ اب دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، تاہم جنگ کے دوران امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات اور پالیسیوں میں بار بار تبدیلی نے ایک اہم سوال پیدا کر دیا ہے کہ امریکا اس جنگ کا اختتام کس طرح چاہتا ہے؟

ایران پر بڑے پیمانے پر حملے

جنگ کے آغاز کے بعد امریکا اور اسرائیل نے ایران میں تقریباً 2 ہزار اہداف کو نشانہ بنایا ہے، ان حملوں میں ایران کے کئی اعلیٰ حکام شہید ہوئے، جن میں سابق سپریم لیڈر خامنہ ای بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ جوہری تنصیبات، تیل ریفائنریاں، شہری علاقے اور بنیادی انفراسٹرکچر جیسے پانی صاف کرنے کے پلانٹس بھی حملوں کا نشانہ بنے۔

ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں 1300 سے زائد افراد جان سے جا چکے ہیں جن میں 160 سے زیادہ بچے شامل ہیں، جبکہ امریکی فوج کے 7 اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔

ایران کی جوابی کارروائیاں

دوسری جانب ایران نے بھی بھرپور ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل اور خلیجی ممالک کی جانب سیکڑوں میزائل اور ہزاروں ڈرون فائر کیے۔

تہران کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا ہدف امریکی فوجی اڈے، توانائی تنصیبات اور امریکی سفارت خانے تھے۔

امریکا کے ممکنہ جنگی مقاصد

1۔ ایران میں حکومت کی تبدیلی

کئی ماہرین کے مطابق امریکا کا اصل مقصد ایران کی موجودہ حکومت کو کمزور کر کے نظام کی تبدیلی (Regime Change) لانا ہو سکتا ہے۔

لیکن ایران میں سیاسی نظام اب تک برقرار ہے اور مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا ہے، جسے ماہرین امریکا کے منصوبوں کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔

2۔ پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ معاہدہ

امریکا نے ابتداء میں ایران کی طاقتور فوجی تنظیم پاسدارانِ انقلاب کو ہتھیار ڈالنے اور معاہدہ کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔

لیکن آئی آر جی سی نے ناصرف اس پیشکش کو مسترد کر دیا بلکہ نئی قیادت کے ساتھ مکمل وفاداری کا اعلان کرتے ہوئے جنگی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔

3۔ ایران کی فوجی طاقت کو تباہ کرنا

امریکا اور اسرائیل کا ایک واضح مقصد ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور فوجی صلاحیت کو تباہ کرنا بھی بتایا جا رہا ہے۔

حملوں میں ایران کے بحری جہاز، میزائل لانچرز اور فوجی انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف فوجی طاقت کو تباہ کرنا سیاسی تبدیلی کی ضمانت نہیں دیتا۔

4۔ ایران میں نئی قیادت لانا

جنگ کے آغاز پر ٹرمپ نے ایرانی عوام سے کہا تھا کہ اپنی حکومت خود سنبھال لو، لیکن بعد میں انہوں نے کہا کہ ایران کی نئی قیادت کے انتخاب میں امریکا کا کردار ہونا چاہیے۔

 انہوں نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا لیڈر تسلیم کرنے سے انکار بھی کر دیا۔

ایران نے اس مطالبے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی قیادت بیرونی دباؤ سے قبول نہیں کی جائے گی۔

5۔ کرد فورسز کے ذریعے بغاوت

ایک اور منصوبے کے تحت امریکا ایران کے خلاف کرد جنگجوؤں کو استعمال کرنے پر بھی غور کر رہا تھا، لیکن ماہرین کے مطابق کرد گروپس کے پاس ایران کے خلاف بڑی کارروائی کی صلاحیت اور اتحاد دونوں نہیں اور اس اقدام سے ترکی کے ساتھ بھی نیا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

6۔ زمینی حملہ

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران امریکی زمینی حملے کے امکان کے لیے بھی تیار ہے، تاہم ماہرین کے مطابق عراق اور افغانستان کی جنگوں کے تجربے کے بعد امریکا کے لیے زمینی حملہ کرنا سیاسی طور پر انتہائی مشکل ہو گا۔

اسرائیل کا مقصد

اسرائیلی وزیرِاعظم نتین یاہو کی حکومت طویل عرصے سے ایران کو اپنا سب سے بڑا دشمن قرار دیتی رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق اسرائیل اس جنگ کو مشرق وسطیٰ کی نئی ترتیب کے منصوبے کا حصہ سمجھتا ہے تاکہ خطے میں اپنے تمام مخالفین کو کمزور کیا جا سکے۔

ممکنہ انجام کیا ہو سکتا ہے؟

کئی تجزیہ کاروں کے مطابق اس جنگ کا سب سے حقیقت پسندانہ انجام ایک دباؤ کے ذریعے معاہدہ (Coercive Settlement) ہو سکتا ہے۔

اس کے تحت امریکا ایران پر فوجی دباؤ ڈال کر میزائل پروگرام، جوہری سرگرمیوں اور خطے میں اس کے کردار پر کچھ رعایتیں حاصل کر کے جنگ ختم کر سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ ممکنہ طور پر کسی معاہدے کا اعلان کر کے اسے اپنی کامیابی قرار دے سکتے ہیں اور یوں جنگ کا اختتام کیا جا سکتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید