پاکستانی ڈاکٹر آمنہ خان نوویل کیمیکلز پر ریسرچ کرنے والی پہلی طالبہ
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستانی ڈاکٹر آمنہ خان نوویل کیمیکلز پر ریسرچ کرنے والی پہلی طالبہ

پاکستانی ڈاکٹر آمنہ خان نے مالٹا یونیورسٹی میں نوویل کیمیکلز میں ریسرچ کرنے والی دنیا کی پہلی طالبہ ہونے کا اعزاز اپنے نام کرلیا۔

آمنہ خان نے مالٹا کے نیشنل ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ دنیا میں پہلی دفعہ ان نیچرل کیمیکلز سے بون کینسر پر ریسرچ کی جا رہی ہے یہ نوویل کیمیکل حشرات الارض اور پودوں سے حاصل کیے جاتے ہیں اور اس کے ذریعے سے بون کینسر کو ٹریٹ کیا جاسکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ کیموتھراپی کی طرح صحت مند ہڈیوں کو نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ صرف کینسر کے سیل کو ختم کرتے ہیں۔

آمنہ خان نے بتایا کہ اس ریسرچ میں میں نے یہی ثابت کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ نوویل ٹریٹمنٹ بون کینسر کا علاج کر کے کیموتھراپی کو’ر پلیس‘ کیا جاسکتا ہے اور یہ سروائیول ریٹ زیادہ کرتا ہے کیونکہ یہ ایک جدید طریقہ علاج ہے۔

آمنہ خان کا کہنا تھا کہ یہ طریقہ اس سے پہلے دنیا میں کہیں بھی بون کینسر پر استعمال نہیں کیا گیا، اس طریقہ علاج کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس سے مریض کو زیادہ تکلیف نہیں ہوگی اور جو کیمو کی وجہ سے باقی جسم کو نقصانات ہوتے ہیں ان سے بھی بچا جاسکے گا۔

ڈاکٹر آمنہ خان نے ایک کامیاب ریسرچ کی ہے اور بون کینسر کے سیل کو ہڈیوں سے ختم کیا ہے اور اس نیچرل پروڈکٹ نے صرف بون کینسر کے سیل ہی کو ختم کیا ہے باقی صحت مندہڈی کو نقصان نہیں پہنچایا۔

یہ ایک بہت کامیاب تجربہ تھا جس سے بون کینسر جیسے موذی مرض کہ علاج میں ایک بہت بڑی جدت پیدا ہو سکتی ہے۔

آمنہ خان نے یہ کامیاب تجربہ کر کے ملک و قوم کا نام فخر سے بلند کردیا ہے۔

ڈاکٹر آمنہ نے اس ریسرچ پر لکھی گئی اپنی کتاب مالٹا کے صدر جارج ویلا کو پیش کی ہے جس پر مالٹا کے صدر نے پاکستان کی بیٹی کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر آمنہ کی ریسرچ دور حاضر کی انمول ایجاد ثابت ہو گی اور ہمیں یہ فخر ہے کہ یہ ریسرچ مالٹا کی یونیورسٹی میں کی گئی ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید