سعد رضوی کی گرفتاری اور احتجاج
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریک لبیک پاکستان کے امیر علامہ سعد حسین رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک بھر کی فضا کشیدہ ہوتی چلی جا رہی ہے۔ پیر کے روز لاہور پولیس کے سربراہ غلام محمد ڈوگر نے خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں کہا کہ سعد رضوی کو امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے گرفتار کیا گیا ہے کیوں کہ انہوں نے حکومت کو 20 اپریل تک کی ڈیڈ لائن دی تھی۔ خیال رہے کہ 2020 میں فرانس میں سرکاری سطح پر پیغمبر اسلام ﷺ کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر مسلم دنیا میں سخت ردعمل آیا تھا اور تحریک لبیک پاکستان نے اسلام آباد میں احتجاج کیا تھا جسے حکومت کے ساتھ 16 نومبر کو معاہدے کے بعد ختم کردیا گیا تھا۔ اس معاہدے میں یہ درج تھا کہ حکومت فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق 3 ماہ میں پارلیمنٹ کے ذریعے فیصلہ کرے گی، فرانس میں اپنا سفیر مقرر نہیں کرے گی اور ٹی ایل پی کے تمام گرفتار کارکنان کو رہا کرے گی، آخری 2مطالبات فوری طور پر مان لیے گئے تھے لیکن پہلے مطالبے پر غور جاری تھا۔ ٹی ایل پی نے جنوری میں خبردار کیا تھا کہ حکومت نے اگر اپنا وعدہ پورا نہ کیا تو وہ احتجاج دوبارہ شروع کرے گی۔ حکومت پاکستان اور تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ کے درمیان گزشتہ ایک ماہ سے اس ضمن میں مذاکرات جاری تھے، جس میں حکومت نے اپنے اس عزم کو دہرایا کہ معاہدے کی شقوں کو 20 اپریل 2021 تک پارلیمنٹ میں پیش کردیا جائے گا اور فیصلے پارلیمنٹ کی منظوری سے طے پائیں گے۔ سرِدست علامہ سعد حسین رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک کے بیشتر بڑے چھوٹے شہروں میں احتجاجی مظاہرے دوسرے روز بھی جاری ہیں۔ ایسا ممکن نہیں کہ حکومت کو معاملے کی حساسیت کا علم نہ ہو اور اگر نہیں تھا تو اب ہو جانا چاہئے۔ احتجاج میں تشدد کا عنصر نمایاں ہے، اس سے پیشتر کہ خدانخواستہ یہ بڑھ جائے‘ حکومت فوری طور پر معاملات سلجھانے کی سبیل کرے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

تازہ ترین