دہشت گردی کیس کے 9 ملزموں کو عمرقید اور 234 سال کی سزا
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دہشت گردی کیس کے 9 ملزموں کو عمرقید اور 234 سال کی سزا

راولپنڈی (نمائندہ جنگ) انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر ایک راولپنڈی کے جج شوکت کمال ڈار نے دہشت گردی کے جرم میں 9ملزمان کو عمر قید دیتے ہوئے دیگر الزامات میں مجموعی طور پر 234سال قید اور 70لاکھ روپے سے زائد ارش ومعاوضہ کی سزا سنا دی۔ سزا پانے والے صداقت حسین، عدیل حسین، جمشید علی، شاہد علی، تصدق، غالب حسین، عمر جہانگیر، محمد زاہد، سہیل احمد کیخلاف کوٹلی ستیاں پولیس نے 24دسمبر 2019کو مقدمہ درج کیا تھا، شروع کے تین ملزم گرفتار باقی ضمانت پر تھے۔ایف آئی آر کے مطابق پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ ایک اشتہاری ملزم صداقت نے کرنل تصدق کے ڈیرے پر پناہ لے رکھی ہے پولیس نے کارروائی کی تو وہاں موجود ملزمان نے فائرنگ شروع کر دی اور ملازمین کو یرغمال بناکر اسلحہ چھینا اور تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کانسٹیبل نبیل عباسی کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ جرم ثابت ہونے پر گزشتہ روز عدالت نے 9ملزمان کو عمر قید، اقدام قتل اور انسانی جسم کا حصہ ضائع کرنے پر دس دس سال قید، مزاحمت کے جرم میں دو دو سال، ملازمین کو ڈیوٹی سے روکنے پر ایک ایک سال اور بلوہ کرنے پر تین تین سال قید، ملازم کو زخمی کرنے پر 27لاکھ روپے ارش اور پانچ پانچ لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم دیا۔عدالت نے منصوبہ بندی کے الزام میں ملوث کرنل ریٹائرڈ تصدق حسین اور امر ربی کو جرم ثابت نہ ہونے پر بری کر دیا۔
اسلام آباد سے مزید