ویکسین پاسپورٹ جاری نہ کیا جائے، غیراخلاقی ہے، چرچ رہنماؤں کا موقف
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ویکسین پاسپورٹ جاری نہ کیا جائے، غیراخلاقی ہے، چرچ رہنماؤں کا موقف

لندن (پی اے) برطانیہ کے 1,200 سے زیادہ چرچ کے رہنمائوں نے وزیراعظم بورس جانسن نام ایک کھلے خط میں ان پر زور دیا ہے کہ وہ کورونا ویکسین کے سرٹیفکیٹ جاری نہ کریں، کیونکہ یہ جبر کی ایک غیراخلاقی شکل ہے۔ اینگلیکن اور کیتھولک چرچ کے رہنمائوں نے متنبہ کیاہے کہ ویکسین پاسپورٹ سے ایک مشتبہ ریاست کا تصور جنم لے گا، حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ کیا لوگوں کو یہ ثابت کرنا چاہئے کہ انھیں ویکسین لگ چکی ہے۔ برطانیہ کی مساوات سے متعلق واچ ڈاگ کا کہنا ہے کہ ویکسین پاسپورٹ سے دو سطحی معاشرہ جنم لے گا۔ دوسری جانب وزراء کا کہنا ہے کہ اس سرٹیفکیٹ کے ذریعہ لوگ یہ ثابت کرسکیں گے کہ انھیں ویکسین لگ چکی ہے، ان کا ٹیسٹ منفی آچکا ہے اور سابقہ 6 ماہ تک انفیکشن سے قدرتی تحفظ حاصل رہا ہے۔ درجنوں ارکان پارلیمنٹ نے بھی کووڈ پاسپورٹ کو تقسیم کرو پالیسی قرار دے کر اس پر تنقید کی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اب جبکہ پابندیوں میں نرمی کی جارہی ہے، کووڈ سرٹیفکیٹس سے تھیٹر، نائٹ کلبس اور ایسے ایونٹس کے انعقاد میں آسانی ہوگی جن میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے ہیں۔ اس سے ہوٹلوں، ریسٹورنٹس اورپبس وغیرہ میں سماجی فاصلے کے حوالے سے بھی نرمی کرنے میں آسانی ہوگی۔ وزیراعظم کے نام کھلے خط میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کووڈ پاسپورٹ کے اجرا سے طبی امتیاز پیدا ہوگا اور اس اسکیم سے لبرل جمہوریت کا خاتمہ ہوسکتا ہے اور اس سے ایک ایسی حکومت کا تاثر ابھرے گا، جہاں مملکت ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے شہریوں کی زندگی کے بعض پہلوئوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرسکتی ہے۔ اس لئے ایسا کرنا برطانوی سیاست کی تاریخ کا انتہائی خطرناک قدم ہوگا۔ چرچ کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ قطع نظر اس بات کے کہ حکومت اس حوالے سے حتمی طور پر کیا فیصلہ کرتی ہے وہ کسی کو اپنے چرچز میں داخلے سے نہیں روکیں گے۔ ویکسین سرٹیفکیٹس نے دارالعوام میں تمام پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کو متحد کردیا ہے اور 10 ڈائوننگ کو اپوزیشن کے علاوہ خود حکمراں کنزرویٹو پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے بھی اس کے خلاف شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ 70 سے زیادہ ارکان پارلیمنٹ اس سرٹیفکیٹ کے خلاف متحد ہوگئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ کمیونٹی کی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور پب میں جانے کیلئے میڈیکل ثبوت طلب کرنا امتیازی سلوک اور لوگوں کوتقسیم کرنے کے مترادف ہے۔ لیبر پارٹی کے سربراہ سر کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ وہ بہت پریشان ہیں، کیونکہ ویکسین پاسپورٹ ویکسین نہ لگانے والوں کے درمیان امتیاز کی بنیاد بن جائے گا۔