رمضان پیکیج، بدنظمی کا شکار
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی حکومت یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے توسط سے ہر سال ماہِ صیام میں عام لوگوں کو بازار کے مقابلے میں ارزاں نرخوں پرضروری اشیا ءکی فراہمی کے لئے اربوں روپے کے امدادی پیکیج دیتی ہے جو قابلِ ستائش بات ہے تاہم ان اشیاءکی فروخت میں ذمہ داری کا فقدان پائے جانے کی شکایات عام ہیں۔ اس سال کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سات ارب 60کروڑ روپے کے رمضان امدادی پیکیج کے تحت آٹا 30سے 50روپے فی کلو کم، چینی مارکیٹ ریٹ سے 40روپے کم، گھی اور کوکنگ آئل عام بازار سے 43روپے فی کلو گرام رعایتی قیمت پر فراہم کرنے سمیت کل 19اشیا کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے جس کا آغاز یکم رمضان المبارک سے ہو چکا ہے۔ جملہ اشیا میں دالیں، لوبیا، بیسن، کھجور، چاول، شربت، چائے خشک دودھ اور مصالحہ جات شامل ہیں۔ صارفین کی سہولت کے لئے یوٹیلیٹی اسٹورز ان اشیا ءکی قیمتیں آویزاں کرنے کے پابند ہیں جو ایک اصولی بات ہے تاہم عوام کی اکثریت اس سال بھی رمضان پیکیج سے محروم اور بازار سے یہ اشیا مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہے جس سے سات ارب کے پیکیج پر پانی پھرتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس حوالے سے اطلاعات ہیں کہ گردو نواح کے دکاندار متعلقہ اہلکاروں کی ملی بھگت سے اشیائے ضروریہ سستے داموں خرید کر مہنگا بیچنے کے لئے اپنی دکانوں میں اسٹور کر لیتے ہیں۔ یقیناً یہ امر بھاری بھرکم تنخواہیں لینے والے افسران کی کارکردگی پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ حکومت نے غریب لوگوں کو کم قیمت پر روز مرہ اشیا کی فراہمی کے لئے ملک کے طول و عرض میں 5939یوٹیلٹی اسٹور قائم کر رکھے ہیں جہاں اکثر و بیشتر رعایتی نرخوں پر فراہم کی جانے والی اشیا کا فقدان ملتا ہے اس حوالے سے حکومت کو ٹھوس میکانزم بنانے کی ضرورت ہے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

تازہ ترین