اکثر افراد سپلیمنٹس کو قدرتی اور محفوظ سمجھتے ہیں مگر طبی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ کچھ غذائی اور ہربل سپلیمنٹس کمزور گردوں اور جگر پر اضافی دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق اضافی اور غیر تجویز کردہ سپلیمنٹس کا استعمال پہلے ہی سے متاثرہ اعضاء کے لیے سنگین نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی سپلیمنٹ کے استعمال سے پہلے مستند ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔
گردوں اور جگر کے مریض کن سپلیمنٹس سے پرہیز کریں؟
گرین ٹی ایکسٹریکٹ
سبز چائے کی پتی کے ایکسٹریکٹ کی صورت میں محفوظ، مگر کیپسول میں موجود زیادہ مقدار جگر میں سوزش اور شدید نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
زیادہ مقدار والے پروٹین پاؤڈر
غیر ضروری پروٹین کا استعمال گردوں پر بوجھ بڑھاتا ہے اور دائمی گردے کے مریضوں میں بیماری بگاڑ سکتا ہے۔
فیٹ سولیوبل وٹامنز (A, D, E, K) کی زیادتی
یہ وٹامنز جسم میں جمع ہو کر زہریلا اثر ڈال سکتے ہیں، خاص طور پر وٹامن A جگر کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
بغیر ٹیسٹ کے آئرن سپلیمنٹس کا استعمال
ضرورت کے بغیر آئرن لینے سے جگر میں آئرن جمع ہو سکتا ہے جو ہیموکرومیٹوسس جیسی بیماری کا سبب بنتا ہے۔
جگر کو نقصان پہنچانے والی ہربل ادویات
کومفری، بلیک کوہوش اور گارشینیا کمبوگیا جیسے اجزا تحقیق کے نتائج میں جگر کے لیے خطرناک ثابت ہو چکے ہیں۔
ملیٹھی (Licorice Root)
ملیٹھی کے استعمال سے بلڈ پریشر بڑھ اور پوٹاشیم کم ہو سکتا ہے جو گردوں اور دل کے مریضوں کے لیے خطرناک ہے۔
پوٹاشیم یا فاسفورس والے سپلیمنٹس
گردوں کی بیماری میں یہ معدنیات خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہیں، اس لیے احتیاط لازم ہے۔
غیر مستند ڈیٹوکس اور فیٹ برنر ادویات
ان میں موجود نامعلوم اجزا جگر اور گردوں کے افعال متاثر کر سکتے ہیں۔
ماہرین کی ہدایت:
گردے اور جگر جسم سے زہریلے مادے خارج کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان اعضاء کی کمزوری کی صورت میں بغیر طبی نگرانی کے سپلیمنٹس کا استعمال بیماری کو بگاڑ سکتا ہے۔
چونکہ سپلیمنٹس پر ادویات جیسی سخت نگرانی نہیں ہوتی اس لیے آلودگی اور غیر ظاہر شدہ اجزا کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔ سپلیمنٹس کا استعمال کرتے ہوئے ہمیشہ احتیاط کریں اور ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کے لیے اپنے معالج سے رجوع کریں۔