بنگلادیش میں انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔
ملک بھر کے 299 حلقوں میں پاکستانی وقت کے مطابق صبح ساڑھے 6 بجے شروع ہونے والے انتخابات سہ پہر ساڑھے 3 بجے تک جاری رہیں گے۔
انتخابات میں بی این پی اور جماعت اسلامی کی زیر قیادت اتحاد کے درمیان مقابلہ متوقع ہے۔
سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کی جانب سے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ہیں جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے شفیق الرحمان وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ہیں۔ انتخابات میں تاریخی ٹرن آؤٹ کا امکان ہے۔
بنگلادیشی الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوج اور پولیس سمیت ملک بھر میں 3 لاکھ اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور یہ انتخابات منصفانہ ہوں گے۔
جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے نوجوان ووٹرز (جین زی) کو جولائی کے انقلاب کا ہیرو قرار دیتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پروپیگنڈے میں نہ آئیں اور ووٹ ڈالنے کا اپنا مقدس فریضہ سرانجام دیں۔
بنگلادیش نیشنل پارٹی کے سربراہ طارق رحمان نے ووٹ کاسٹ کردیا
بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سربراہ طارق رحمان کا کہنا ہے کہ امن عامہ میری پہلی ترجیح ہے تاکہ عوام خود کو محفوظ سمجھ سکیں۔ ملک کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے، ہم ان پر توجہ دیں گے، جیت کی اُمید ہے۔
طارق رحمان نے انتخابات میں حمایت پر ملک کے ممتاز علمائے کرام کا شکریہ ادا کیا ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے بھی ووٹ کاسٹ کر دیا۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شفیق الرحمان نے کہا کہ بنگلادیش کے لیے یہ انتخابات ایک اہم موڑ ہیں، لوگوں کے مطالبات اور خواہشات بدل رہی ہیں، ہم بھی تبدیلی کے حق دار ہیں۔
واضح رہے عوامی لیگ کی رہنما شیخ حسینہ واجد کا اگست 2024 میں تختہ الٹ دیا گیا تھا۔ اس تبدیلی کے اہم کردار جین زی پر مشتمل نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) بھی جماعت اسلامی کے اتحاد میں شامل ہے۔
پابندی کے سبب عوامی لیگ کے امیدوار الیکشن میں حصہ نہیں لے رہے۔
بنگلادیش کی سیاسی سمت 12 کروڑ 70 لاکھ ووٹرز طے کریں گے، جن میں 44 فیصد تعداد نوجوانوں کی ہے، انتخابات میں نوجوانوں کا کردار انتہائی اہم ہو گا۔
حکومت بنانے کے لیے 300 میں سے 151 نشستوں پر اکثریت حاصل کرنا لازم ہے۔