جعلی مقالے پر صدارتی ایوارڈ اور انعام دیئے جانیکا انکشاف
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جعلی مقالے پر صدارتی ایوارڈ اور انعام دیئے جانیکا انکشاف

اسلام آباد( نمائندہ جنگ)وزارت مذہبی امور میں سیرت کے حوالے سے لکھے گئے مقالے پر جعل سازی ، ’ریاست مدینہ اور اسلامی فلاحی مملکت کا تصور‘ کے عنوان سے لکھے گئے ڈاکٹر عامرطاسین کے مقالے پرآسیہ اکرام نامی خاتون کوبھی صدارتی ایوارڈاورانعام سے نوازے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔یہ انکشاف ڈاکٹر عامر طاسین کی جانب سے وزیر مذہبی امور ڈاکٹر نور الحق قادری اور سیکرٹری مذہبی امور کے نام لکھے گئے خط میں کیا گیا ہے، خط کے مطابق وزرت مذہبی امورکی طرف سے مقالات سیرت 2019 کے حوالے سے شائع کیے گئے خصوصی ایڈیشن میں بھی عامرطاسین کے مقالے کوآسیہ اکرام کے نام سے بھی شامل کردیا ،خط کے مطابق وزارت مذہبی امورکے شعبہ تحقیق ومراجع نے مقالہ جمع کرانے کی آخری تاریخ کو ڈاکٹر عامر طاسین سے رابطہ کرکے کہاگیاکہ آپ کا جمع کرایا گیا مقالہ ریکارڈ سے غائب ہوگیاہے ،نیا مقالہ سینڈ کریں، ضابطہ کے مطابق ججز حضرات نے بہترین اور قومی سطح پر ڈاکٹر عامر طاسین کو مقابلے میں دوسرے انعام کاحق دار قراردیا اور سیرت ایوارڈ بھی دیا، مگر بعدازاں انکشاف ہواہے کہ ڈاکٹرعامرطاسین کے اسی مقالہ کو وزارت کی جانب سےعملہ نے چوری کرتے ہوئے آسیہ اکرام کے نام سے خواتین کٹیگری میں جمع کرادیا اور وزارت مذہبی امورکی جانب سے اسی چوری شدہ مقالہ پر آسیہ اکرام نامی خاتون کو خواتین کٹیگری میں نہ صرف انعام سے نوازا بلکہ وزارت مذہبی امورکی طرف سے 2019کے جو مقالات سیرت شائع کیا گیا، اس کے صفحہ نمبر439پربھی ڈاکٹرعامر طاسین کا مکمل مقالہ آسیہ اکرام کے نام سے بھی شائع ہوا ہے۔

ملک بھر سے سے مزید