بلجیم میں شہریوں کے غیر ضروری سفر پر پابندی اٹھالی گئی
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلجیم میں شہریوں کے غیر ضروری سفر پر پابندی اٹھالی گئی

برسلز( حافظ انیب راشد ) بلجیم میں 19اپریل سے شہریوں کے بیرون ملک غیر ضروری سفر پر پابندی اٹھا لی گئی ہے لیکن واپس ملک میں آنے والوں کو ہر صورت دو کورونا ٹیسٹ اور کم از کم سات دن کیلئے قرنطینہ میں رہنا ہوگا۔ اس پابندی کا اطلاق اس سال 27 جنوری کو کیا گیا تھا۔ جس کا مقصد شہریوں کی جانب سے بلاوجہ پڑوسی ممالک کا سفر کرنے کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔ اس کے ساتھ ہی غیر ضروری سفر ( Non essential travel ) کی یہ اصطلاح حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلائو کی روک تھام کیلئے ان تمام مسافروں کیلئے بھی عائد کی گئی تھی جو کسی بھی ذریعے سے یورپ سے باہر سفر اختیار کرتے ہیں۔ ملک میں مشاورتی کونسل کے تازہ اجلاس کے بعد حکومت نے یہ پابندی تو اٹھا لی ہے لیکن اب واپس آنے والے مسافروں پر زیادہ توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔ واپس آنے والے مسافروں کو ٹریسنگ سسٹم کے ذریعے زیادہ بہتر طریقے سے آبزرویشن میں رکھا جائے گا۔ ہر مسافر ہوائی جہاز میں سوار ہوتے ہوئے تو اپنا کورونا ٹیسٹ کرواتا ہی ہے لیکن بلجیم میں آکر بھی اسے ایک ٹیسٹ فوری طور پر ، اس کے بعد سات دن کا قرنطینہ اور پھر دوبارہ ایک ٹیسٹ اور کرانا ہوگا۔ جس کے منفی آنے کے بعد وہ گھر سے نکل سکے گا۔ اس طرح اگر دیکھا جائے تو یہ پابندی اٹھنے کے باوجود اس دوران سفر کرنے والے مسافر پر معاشی بوجھ اسی طرح قائم رہے گا۔ ایک اندازے کے مطابق کورونا کے اس موجودہ دور میں ہر مسافر کو اوسطاً کم از کم 200 یورو کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے جبکہ پاکستان جیسے ملک سے آنے والوں کو وہاں بھی اپنے سفر کے آغاز سے قبل کورونا ٹیسٹ کروانا لازمی ہے۔ اس طرح 48 گھنٹے سے زائد کسی بھی ملک میں قیام کرنے والے ہر مسافر کو کم از کم 4 مرتبہ یہ کورونا ٹیسٹ کروانا پڑتا ہے۔ اس بات کی تصدیق جنگ سے بات کرتے ہوئے برسلز ائیر پورٹ کی ترجمان نتھالی پیرارڈ نے بھی کی ہے۔
یورپ سے سے مزید