کورونا کی شدت برقرار
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ سے آنے والی کورونا کی تیسری لہر جس میں اب بھارت سے منتقل ہونے والی کوروناکی نئی قسم بھی شامل ہو چکی ہے، پوری شدت سے ملک بھر خصوصاً صوبہ پنجاب میں پھیل رہی ہے۔ ہر روز متاثرین کی تعداد کے ساتھ اموات میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ماہرینِ صحت انتباہ جاری کرنے لگے ہیں کہ اگر وبا پر اب بھی کنٹرول نہ کیا گیا تو اموات خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روز ملک بھر میں کورونا سے 137اموات ہوئیں، جن میں ایک سو چار پنجاب میں، خیبرپختونخوا میں 21سندھ میں 3افراد جاں بحق ہوئے، 730نئے کیس رپورٹ ہوئے جن میں سے 403کا تعلق کراچی سے ہے۔ منگل کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر سے جاری اعداد و شمار کے مطابق چوبیس گھنٹوں میں جاں بحق ہونے والے 137مریضوں میں سے 122اسپتالوں اور 15اپنے گھروں میں قرنطینہ کے دوران انتقال کر گئے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ وبا میں شدت کی سنگینی کا احساس نہ حکومتی سطح پر پایا جاتا ہے اور نہ ہی سماجی و عوامی سطح پر کوئی فکر محسوس ہورہی ہے۔ حکومتی اجلاسوں سے لے کر عوامی تقریبات و مقامات پر کورونا ایس او پیز پر خال ہی عملدرآمد ہوتا ہے جبکہ گزشتہ سال انہی دنوں میں جب کورونا کی شدت میں اتنی تیزی نہ تھی، احتیاطی تدابیر بڑی حد تک اپنائی گئیں۔ اگرچہ اب بھی وفاقی و صوبائی سطح پر کورونا کے پھیلائو کو روکنے کیلئے تعلیمی اداروں کی بندش، ہوٹلوں میں کھانے پر پابندی، کاروبار کیلئے اوقات کار مقرر کرنے، اداروں میں آن لائن کام کی سہولت اور ریلوے و جہاز میں ایس او پیز کے مطابق سفرکی اجازت دینے سمیت مختلف اقدامات کئے گئے ہیں، ویکسی نیشن کا عمل بھی قدرے سست رفتاری سے جاری ہے لیکن اس باب میں زیادہ متحرک ہوکر موثر و جامع حکمت عملی اپنانےکی ضرورت ہے اسی طرح اس وبا کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔

تازہ ترین