غازی۔۔امیداورعافیت
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حرف و حکایت…ظفرتنویر
سرخ و سپید بالکل کشمیری سیبوں کی طرح یہ دونوں بھائی بھی اس گروپ کی جان تھے، گروپ کیا گورنمٹ کالج میرپور کے طلباء کی ایک ٹولی تھی جو 24 گھنٹوں میں سے زیادہ تر وقت ایک دوسرے کے ساتھ گزارتے، یہ نئے میرپور بننے سے پہلے کی بات ہے، پرانے میرپور کے کالج سے لے کر لازی اڈہ پر حاجی شیخ کے ہوٹل تک، دن بھر یہ متحرک رہتے، پڑھتے شاید کم لیکن غیر تدریسی سرگرمیوں میں سب سے آگے یہ دو سرخ و سپید نوجوان انور اور ارشد غازی تھے جو جاوید نظامی، راجہ نصرت، مسعود لون، راجہ نسیم، صابری انصاری اور دوسروں کے ساتھ مل کر وہ سب کچھ کرجاتے جس کا تصور ہی کیا جاسکتا ہے، محبت ان میں اتنی تھی کہ دن تو دور کی بات ایک دوسرے کے خلاف پل بھی گزارنا ان کیلئے مشکل ہوجاتا، شام پڑتے ہی حاجی شیخ کا ہوٹل ان کا ٹھکانہ ہوتا، چائے کے دور پر دور چلتے اور یہ کالج کی سیاست سے لے کر ملکی سیاست پر اپنی بحثوں میں غرق رہتے، حاجی صاحب کب تک ان کا انتظار کرتے، سارے دن کے تھکے ہارے گھر جاتے تو اپنا ہوٹل بند کرنے کی بجائے اس ٹولی کے حوالے کردیتے اس تاکید کے ساتھ کہ جب اٹھیں تو ہوٹل کی کرسیاں اور برتن اپنی اپنی جگہ رکھتے جائیں، پیار اور محبت کے اسی ماحول کے عادی اس ٹولے نے پھر ساری زندگی پیار اور محبت سے پکڑا ایک دوسرے کا ہاتھ نہیں چھوڑا، اگر یہ ساتھ ٹوٹا بھی تو اس وقت جب ان میں سے کسی کی زندگی کی ڈور ٹوٹی، پاپا جاوید نظامی رخصت ہوئے تو گویا محفلوں کی رونق چلی گئی پھر نصرت راجہ بھی رخصت ہوئے، ممتاز راٹھور بھی اللہ کو پیارے ہوگئے اور اب ارشد غازی بھی اپنے سفر آخرت پر روانہ ہوگئے، مسعود لون روتے اور چیختے ہوئے یہی کہتے ہیں کہ میں تو اب صرف اپنے یاروں کو ہی رخصت کرنے کا رہ گیا ہوں، ارشد غازی ایک سیاسی رہنما کے طور پر ایک عرصہ یاد رکھے جائیں گے لیکن ان کا سب سے بڑا تعارف خود ان کے والد محترم غازی الہی بخش تھے جنہوں نے اپنی تمام زندگی سماجی ناانصافیوں کیخلاف جدوجہد کرتے گزار دی، ان کی جدوجہد تو 1931ء میں ہی شروع ہوگئی تھی جس کی شدت اور دبدبہ ان کی آخری سانسوں تک جاری رہا، غازی کشمیر کے صرف دو ہی بیٹے نہیں تھے بلکہ ارشد اور انور کا تیسرا بھائی امجد بھی ہے جس نے اپنے بڑوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تمام عمر اپنے بڑوں کے احترام میں اپنی رائے اور اپنی آواز کو دھیما رکھا، ارشد غازی اس لحاظ سے خوش قسمت رہا کہ اسے ہاں میں ہاں ملانے والے بھائی اور دیوتا کی طرح عزت اور مان دینے والی بہنیں ملیں، غازی الہٰی بخش کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی کہ ان کا بڑا بیٹا ارشد سول سروس میں جائے وہ اپنے چھوٹے بیٹے انور کو سیاست کیلئے زیادہ موزوں سمجھتے تھے اور بارہا انہوں نے اس کا اظہار بھی کیا، ارشد غازی نے تو باپ کی خواہش پر محکمہ مال میں ملازمت بھی کرلی اور تحصیل دار بھی بن گئے لیکن انور غازی کسی طور پر سیاست سے پرے پرے ہی رہے، وہ تو غازی الہٰی بخش کی اچانک رحلت نے منظر ہی تبدیل کردیا اور اپنی ملازمت چھوڑ کر باپ کا شروع کیا گیا مشن سنبھالنا پڑا، 1991ء میں ارشد غازی میرپور شہر سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تو شہر کی ان تمام اقلیتوں میں ایک نئی جان سی پڑ گئی جنہیں اقلیت میں ہونے یا اقلیتی برادری کا فرد ہونے کے باعث نظر انداز کیا جاتا رہا تھا، غازی منزل کو پرانے میرپور سے شہر کے غریبوں، دیہاڑی داروں، مزدوروں اور جاٹ برادری کے مقابلہ میں چھوٹی ذات کے لوگوں نے اپنے لئے ایک عافیت گھر کے طور پر قبول کر رکھا تھا، ان دنوں ٹیلی فون اور بجلی کی سہولتیں تو دستیاب نہیں تھیں، غازی صاحب شام کے سائے گہرے ہوتے ہی پیدل چلتے ہوئے ایس پی، ڈی سی اور دوسرے افسروں کے گھروں پر دستک دیتے ہوئے شہر کے لوگوں کے مسائل حل کروانے کی کوشش کرتے، ارشد غازی نے باپ کی جلائی ہوئی یہ شمع بجھنے نہیں دی اور غازی منزل اور اپنے دفتر کے دروازے ہمیشہ لوگوں پر کھلے رکھے، ارشد غازی نے سیاست میں شرافت، شائستگی اور رواداری کا دامن کبھی نہیں چھوڑا، میرپور ایک ایسا شہر ہے جہاں کسی بھی قسم کا اختیار یا عہدہ رکھنے والوں نے ہمیشہ اپنے گھر کو بھرنے کی کوشش کی جب کہ ارشد غازی نے وزیر بننے کے باوجود کبھی بھی اپنا دامن آلائشوں سے داغ دار نہیں ہونے دیا، 94/1993 میں جب وہ وزیر صحت تھے تو برطانیہ کے دور پر آئے، یہ مسعود لون کے گھر کا واقعہ ہے جہاں تاجروں کی دو مختلف ٹولیوں نے اسپتالوں کو بستر فراہم کرنے اور بعض ایسی ہی دیگر ضرورتوں کو پوری کرنے کیلئے اپنی خدمات پیش کیں لیکن ارشد غازی نے ایسی تمام ترغیبات کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ وہ اپنے باپ کے نام پر کوئی بھی دھبہ لگانا پسند نہیں کرے گا، یہ وہ شہر ہے جس میں 70 کی دہائی میں کھوکھا کرنے والے یا چھابڑی لگانے والے آج کروڑپتی ہیں اور ارشد غازی ایک بڑا تاریخی ورثہ رکھنے والا اسی طرح کا صاف دامن رکھتا ہے جس طرح کا دامن اس کے باپ کا تھا، ارشد غازی نے غازی خاندان کے نام کروڑوں کی مالیت کا وہ پلاٹ بھی عیدگاہ اور مسجد کے نام مکمل طور پر وقف کردیا جس پلاٹ میں ان کے والدین اور اب خود وہ بھی دفن ہیں، ارشد غازی ایک سیدھا سادہ مسلمان تھا جو انسانوں کے حقوق کی پہچان کے ذریعہ اپنے رب تک پہنچنا چاہتا تھا، شیراز غازی کی طرف سے سوشل میڈیا پر لگائے جانے والے کلپ میں ارشد غازی کو اذان دیتے ہوئے لوگوں کو نماز کی طرف بلاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، ارشد چلا گیا لیکن آج بھی رحمانی محلہ سے لے کر پرانی ہٹیوں تک اور کلیال شہرو سے لے کر تھوتھال تک، کئی گھروں میں ارشد غازی اس کے والد اور غازی منزل کے قصے دہرائے جاتے ہوں گے ،اس امید پر کہ غازی منزل کل بھی غریبوں، مزدوروں، دیہاڑی داروں اور چھوٹی برادریوں والوں کیلئے اسی طرح کی عافیت کا سایہ کرے گی جو اب تک اس کا خاصا رہی ہے۔
یورپ سے سے مزید