• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا بھر میں ہر سال22اپریل کو اقوام متحدہ کے زیر اہتمام عالمی یومِ ارض (International Mother Earth Day)منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کے لیے 2009ء میں قرارداد منظور کی گئی تھی، جس کا بنیادی مقصد عالمی برادری کی توجہ ماحولیاتی آلودگی سے متعلقہ مسائل اور کرہ ارض کی حفاظت کی جانب دلانا ہے۔ 

دنیا بھر میں صنعتی ترقی اور قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال نے زمین پر بسنے والے ہر جاندار کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی فضائی، آبی اور زمینی آلودگی کے باعث صحت کے مختلف مسائل نے جنم لے لیا ہے۔ زمین پر زندگی اور استحکام کے لیے بہتر ماحولیاتی نظام بے حدضروری ہے، جس میں ہمیں شجرکاری پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔

موجودہ دور میں فطرت بہت سے مسائل کا شکار ہے جیسے کہ آسٹریلیاکے جنگلات میں لگنے والی آگ، گرمی کی شدت میں اضافہ اور کینیا میں ٹڈی دل کا بدترین حملہ۔ اور اب دنیا کووِڈ-19کا سامنا کررہی ہے، جو ہمارے ماحولیاتی نظام کی صحت سے مربوط ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی، فطرت میں انسان کی جانب سے کی گئی تبدیلیاں نیز ایسے جرائم جو حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) میں خلل ڈالتے ہیں جیسے کہ جنگلات کی کٹائی، زمین کے استعمال میں تبدیلی، زراعت اور مویشیوں کی پیداواربڑھانے کے مصنوعی طریقوں کا استعمال یا غیرقانونی جنگلاتی حیاتیات کی تجارت۔ 

یہ سب کووِڈ-19کی طرح جانوروں سے انسانوں میں متعدی بیماریوں کی منتقلی کو بڑھا سکتاہے۔ اقوام متحدہ کے محکمہ ماحولیات کے مطابق انسانوں میں ہر چار ماہ بعد سامنے آنے والی انفیکشن کی ایک نئی بیماری میں سے 75فیصد بیماریاں جانوروں سے منتقل ہوتی ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں، جانوروں اور ماحولیاتی صحت کے مابین کتنا قریبی تعلق ہے۔

گزشتہ سال دنیا بھر میں کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے باعث معمولات زندگی متاثر ہوئے اور معاشی سست روی سے کئی صنعتیں اور ٹرانسپورٹ بند رہی، جس کی وجہ سے ہوا کے معیار میں بہتری اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی دیکھی گئی، تاہم یہ بہتری عارضی ہے۔ ہمیں زیادہ پائیدار معیشت کی ضرورت ہے جو لوگوں اور زمین دونوں کے لیے کام کرے۔

انسان کیلئے حیاتیاتی تنوع کی اہمیت 

کورونا وائرس کی وبا سے صحت عامہ اور عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ حیاتیاتی تنوع کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ تاہم ، حیاتیاتی تنوع اس حل کا ایک حصہ ہوسکتا ہے۔ حیاتیاتی تنوع میں تبدیلی اور کمی کے صحت پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ حیاتیاتی تنوع میں تبدیلی ماحولیاتی نظام کے کام کو متاثر کرتی ہے۔ صحت اور حیاتیاتی تنوع کے مابین مخصوص روابط میں غذائیت ، صحت کی تحقیق یا روایتی ادویات، نئی متعدی بیماریاں اور پودوں، پیتھوجنز، جانوروں اور یہاں تک کہ انسانی بستیوں کی تقسیم میں اثر و رسوخ شامل ہے، جن میں سے بیشتر موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہوتے ہیں۔

جاری کوششوں کے باوجود، انسانی تاریخ میں غیر معمولی شرحوں پر دنیا بھر میں حیاتیاتی تنوع بگڑ رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق تقریباً دس لاکھ جانوروں اور پودوں کی نسلوں کے ناپید ہونے کا خطرہ ہے۔ اس بڑی تصویر اور کورونا وائرس کے منظر نامے کے ساتھ ، پہلی ترجیح کووِڈ-19 کے پھیلاؤ کو روکنا ہے، لیکن طویل مدت میں رہائش اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان سے نمٹنا ہوگا۔

شعور وآگہی

سمندر میں پھینکے جانے والے کوڑا کرکٹ کے سبب ہر سال لاکھوں کی تعداد میں آبی حیات مرجاتی ہیں۔ اس حوالے سے لوگوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ پلاسٹک زمین اور اس پر رہنے والی مخلوق کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے، لہٰذا اس کا استعمال کم سے کم کرتے ہوئے استعمال شدہ پلاسٹک کو پھینکنے کے بجائے ری سائیکل کرنا ہوگا۔ 

بالخصوص پلاسٹک کی تھیلیوں کا استعمال کم سے کم کرتے ہوئے ان کی جگہ مختلف ماحول دوست مٹیریل سے بنے بیگز استعمال کرنے کی عادت ڈالنی ہوگی کیونکہ پلاسٹک کی تھیلیاں ماحول کی آلودگی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ ساتھ ہی جنگلی حیات کی بہترین پناہ گاہ جنگل ہوتا ہے۔ جانوروں کو سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے درختوں کی کٹائی اور لکڑی جلائے جانے کے عمل کو روکنا ہوگا۔ اس کے بجائے شجرکاری مہم پر زور دینا ہوگا۔

ہمیں آلودگی پھیلانے سے گریز کرتے ہوئے قدرتی وسائل کا احتیاط سے استعمال کرنا ہوگا ورنہ گرمی کی شدید لہریں، غیر معمولی بارشیں، سیلاب اور خوراک کے مسائل ہمارا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔ اپنے گھر اور اطراف میں جہاں ممکن ہو وہاں پودے لگائیں مگر ساتھ ان کی دیکھ بھال بھی ضروری ہے۔ کاغذ کے بے دریغ ضیاع کو روکیں کیونکہ یہ درخت سے بنائے جاتے ہیں۔ 

کچرے کو جگہ جگہ پھینکنے کے بجائے درست جگہ ٹھکانے لگائیں۔ پانی کا استعمال بھی نہایت احتیاط سے کریں۔ وسائل کو بچانے کے لیے غیرضروری روشنیوں کا استعمال ترک کریں۔ مختلف ساکٹس کے بٹن بھی بند رکھیں کیونکہ یہ بھی توانائی خارج کرتے ہیں جس سے بجلی کا ضیاع ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق انسان جس بے احتیاطی سے زمین اور اس کے وسائل کابے دریغ استعمال کر رہا ہے، قوی امکان ہے کہ یہ زمین سے جنگلی حیات اور دیگر انواع کے خاتمے کا باعث بنے گا۔ تاہم یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یہ تمام انواع ہی انسان کی بقا کی ضامن ہیں اور ان کے خاتمے کے بعد خود انسان کی بقا مشکل میں پڑجائے گی۔ انسانی صحت برقرار رکھنے کے لیے زمین کی صحت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔

صحت سے مزید