• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا روس کشیدگی اور ماحولیات کی عالمی کانفرنس

ظ۔ میم

عالمی میڈیا میں ایک بار پھر دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی کی خبریں عام ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ موجودہ کشیدگی ماضی کی سرد جنگ کی صورت حال سے زیادہ تشویش ناک ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے امریکا اور روس کے تعلقات میں سرد مہری، تعلقات میں الجھائو، روس پر پابندیاں اور جیسا کو تیسا کی سفارتی جھگڑوں میں اضافہ ہوتا گیا، مگر اب معاملات بہت کشیدہ ہوتے ہوئے خاصے بگڑ گئے ہیں۔ 

دونوں طاقتیں ایک دوسرے پر تابڑ توڑ الزامات تھوپ رہی ہیں۔ یہ سلسلہ روز بروز دراز ہوتا جارہا ہے۔ حال ہی میں امریکی صدر جوبائیڈن نے روس پر الزام عائد کیا کہ وہ امریکا پر سائبر حملے کررہاہے اور گزشتہ انتخابات میں بھی روس نے مداخلت کی تھی اور روس کی مذموم کوششوں کو امریکا اپنے پر حملہ تصور کرتا ہے۔ مگر روس نے ان الزامات کو مسترد کردیا۔ 

واضح رہے کہ ہیلری کلنٹن اور ٹرمپ کی صدارتی انتخابی مہم میں بھی ہیلری کلنٹن نے الزام عائد کیا تھا کہ روس ہیکرز نے ڈیموکریٹک پارٹی کے کمپیوٹرز سے ڈیٹا چراکر انہیں ہیک کردیا ہے۔ تاہم گزشتہ آٹھ دس برسوں سے امریکا نے روس پر اقتصادی پابندیوں کا سلسلہ شروع کیا جو اب بھی جاری ہیں، جبکہ روس کی معیشت روز بروز خراب ہوتی جارہی ہے۔ 

روسی صدر ولادیمر پوٹن کے خلاف مظاہرے زور پکڑتے جارہے ہیں۔ حزب اختلاف کے رہنما الیکس ناوللنی کی حمایت میں روسی عوام دو حصوں میں بٹ چکی ہے وہ اب بھی روسی جیل میں ہیں۔ اس کے علاوہ روس اور یوکرین کا مسئلہ بھی بگڑتا جارہا ہے۔ روس نے گزشتہ دنوں پھر یوکرین کی سرحدوں کے قریب فوجی اجتماع شروع کردیا ہے۔ یوکرین کے صدر نے پھر امریکا اور یورپی یونین سے درخواست کی ہے کہ یوکرین کو نیٹو معاہدہ کا رکن بنادیا جائے۔

امریکا اور یورپ کو یوکرین کے مسئلے پر گہری تشویش ہے۔ یوکرین کے ایک صوبہ کریما میں روسی بولنے والے اکثریت میں ہیں جو روس سے الحاق چاہتے ہیں یوکرین کو یہ منظور نہیں وہ ان حالات میں مغربی ممالک سے مدد طلب کررہا ہے۔ امریکی صدر بائیڈن نے گزشتہ دنوں روسی صدر پوٹن کو مذاکرات کی دعوت دی تھی کہ ون ٹو ون ملاقات کی جائے۔ روس اور دیگر سفارتی حلقے امریکا کی طرف سے اس دعوت پر حیران تھے۔ ابھی ان کی حیرانی ختم نہیں ہوئی تھی کہ امریکی صدر بائیڈن نے دوسرے دن ہی روس پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ صادر کردیا جبکہ دس روسی سفارت کاروں کو پہلے امریکا نے انہیں وطن بجھوا دیا تھا۔ 

ایسے میں روس نے بھی جیسے کو تیسا کے مترادف امریکی سفارت کاروں کو بھی روس سے نکال دیا۔ اس طرح دونوں ممالک کے مابین تلخی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ان کشیدہ حالات اور تلخیوں کی وجہ سے کریملن میں یہ سوچ ابھرتی جارہی ہے کہ روس کو اب امریکا کی طرف دیکھنے کے بجائے متبادل تلاش کرلینا چاہئے اور اس کی نظریں فی الفور چین پر ٹھہرتی ہیں یا پھر کچھ دیگر ممالک سے تعلقات مزید بہتر بناکر امریکا سے دوری میں توازن قائم کیا جائے۔ لگتا ہے کہ دیر بدیر روس کو امریکا سے دور ہونا پڑے گا۔ 

امریکا کی روس سے اختلافات کو طول دینے کی پالیسی ایک عرصے سے جاری ہے مگر ابھی صدر جوبائیڈن کے وہائٹ ہائوس میں آنے کے بعد سے اس میں قدرے تیزی آئی ہے۔ سفارت کاروں کو اس پر بھی حیرانی ہے کہ امریکا نے اب تک روس کو ہی اپنا نمبرون حریف اور دشمن گردانا ہے جبکہ مبصرین کا خیال ہے کہ چین اصل حریف اور امریکا کا دشمن ہے مگر امریکا نے کبھی چین کو فہروست میں شمار نہیں کیا وہ بار بار روس کو ہی اپنا حریف ثابت کرنے کی کوشش کرتا آیا ہے۔

روس کے دفاعی صلاح کار آندرے کرموف نے ایک بیان میں کہا کہ روس اور امریکا کے مابین کشیدہ صورت حال کو سرد جنگ کے حالات تو نہیں کہا جاسکتا مگر حالات زیادہ خراب اور تشویش ناک دکھائی دیتے ہیں۔ دونوں ممالک کو فوری کشیدگی کم کرنے پر غور کرنا ہوگا ورنہ صورت کسی بھی سمت جاسکتی ہے۔ 

مغربی مبصرین کا کہنا ہے کہ روسی اور امریکی صدور اگر مفروضات پر بات کرنے کے بجائے اصل مسائل پر دوٹوک بات کرلیں تو زیادہ مناسب ہوگا مگر سوال یہ ہے کہ پہل کون کرے گا، دونوں جانب انا بھی آڑے آرہی ہے۔ امریکی مبصر،این رائے کہتی ہیں اگر دونوں صدور فی الفور ان مسائل پر ہی بات کرلیں جو ایک طرح سے دونوں جانب طے شدہ ہیں جیسے سالٹ معاہدہ ہے، افغانستان سے غیرملکی فوجوں کا انخلاء ہے ایسے میں دیگر ممالک بھی دونوں بڑی طاقتوں سے تعاون کرسکتے ہیں۔ امریکی صدر کا ایجنڈا انسانی حقوق اور جمہوریت ہے جس پر روس زیادہ بات چیت آگے نہیں بڑھائے گا۔

واضح رہے کہ حال ہی میں روسی وزیر خارجہ کا طوفانی دورہ جس میں وہ بھارت، پاکستان اور مشرق وسطٰی کے چند ممالک بھی گئے یہ روس کی نئی حکمت عملی کا حصہ ہے جس پر روس نے تیزی سے کام شروع کردیا ہے۔ روس 2015ء میں شام میں فوجی مداخلت کرکے اپنے کو دوبارہ عالمی معاملات میں داخل کرچکا ہے۔ نوے کی دہائی سے روس کو عالمی سطح پر خاصی پسپائی کا سامنا کرنا پڑا تھا، مگر روس سے پندرہ ریاستیں الگ ہونے کے باوجود روس آج بھی دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ طاقت کا توازن بھی امریکا کے لگ بھگ برابر ہے ایسے میں صدر پوٹن عالمی سیاست میں روس کی شرکت کو ضروری تصور کرتے ہیں۔ 

دوسرے معنی میں روس کسی طور پر امریکا کے لئے میدان کھلا نہیں چھوڑنا چاہتا ہے۔ اس لئے امریکا نے ایک اور اہم ترین محاذ کو پھر سے دنیا میں کھڑا کرکے اپنی عالمی لیڈر شپ کی ساکھ کو سنبھالنا چاہتا ہے جس کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چار برسوں میں خاصا نقصان پہنچایا ہے۔ صدر جوبائیڈن نے ایک طرف روس کو مصروف رکھا ہے دوسرے دو روزہ ماحولیات کی عالمی کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا گیا، جس میں چالیس سے زائد سربراہان مملکت شرکت کررہے ہیں جس کی میزبانی امریکا کررہا ہے اور اس اہم عالمی مسئلے کو ازخود ڈیل کرکے اپنی عالمی ساکھ بحال کرنا چاہتا ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ اس وقت چین کی تمام پالیسیاں دنیا کے دیگر ممالک سے آ گے ہیں مثلاً چین الیکٹرک کاروں کی تیاری اور سولر انرجی کے شعبوں میں بہت آگے نکل گیا ہے۔ اپنے ملک میں قدرتی کوئلہ کے استعمال کو کم کرتا جارہا ہے اور گرین ہائوس گیسیز کو بھی کنٹرول کرنے کی پالیسی اپنا رہا ہے۔ عالمی ماحولیات میں سدھار آلودگی میں کمی بہت اہم مسائل ہیں۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے ایک طرف انسانی حقوق جمہوریت اور دوسری طرف عالمی ماحولیات میں سدھار کا پرچم اٹھا رکھا ہے۔ چین کے صدر نے اعلان کردیا ہے وہ اس کانفرنس میں شرکت کررہے ہیں۔ 

اس طرح دیگر سربراہان مملکت بھی اس عالمی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ تاحال روس کی طرف سے کوئی اشارہ نہیں آیا کہ روسی صدر پوٹن آیا کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ قوی امکان ہے کہ صدر پوٹن بھی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ عالمی سطح پر آلودگی میں اضافہ او رپھیلائو کے مسئلے میں امریکہ، چین، بھارت اور برازیل کے نام سرفہرست ہیں۔ حال ہی میں سائنس دانوں کی ایک بڑی کانفرنس میں عالمی ماحولیات کی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے جس رفتار اور حجم سے خرابی ہورہی ہے اس کا تدارک نہیں ہورہا ہم بہت پیچھے ہیں۔ 

دنیا میں گلوبل وارمنگ، سیلابوں، طوفانوں، بارشوں اور خشک سالی کے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے۔ ہمالیائی گلیشیر، مقامی جنوبی قطبین پر واقع گلیشیر اور گرین لینڈ پر بھی برف کے بتدریج پگھلنے کا عمل جاری ہے اور سائنس دانوں اور ماہرین نے ایک عرصے سے خبردار کرنا شروع کردیا تھا کہ سمندر کی سطح بھی آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے۔ جزائر اور زیادہ تر ساحلی شہروں کو خطرہ ہے۔ 

ایشیا افریقہ میں مڈنما مالدیپ اور سری لنکا کو بھی خطرہ ہوسکتا ہے۔ دنیا کے بیش تر ممالک عالمی ماحولیات کے مسئلے پر اب حساس ہوتے جارہے ہیں اور کوشاں ہیں کہ کسی طرح آلودگی پر قابو پایا جائے۔ امریکا میں ماحولیات کی حالیہ کانفرنس سے مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔